پیر , 25 ستمبر 2017

تبت کے بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لاما کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش : 6جولائی 1935ء
جائے پیدائش : ٹاکتسر ،امڈو پیروینس ،تبت
پیدائش کے وقت نام: لایمودہندرب، نام تبدیل کرکے جسٹن جامفل نگاوانگ لوبسا نگ پیشی تنزن گیا ستورکھ دیا گیا۔
والد کا نام: چاکیا نگ تسیرنگ
والدہ کا نام: ڈکیی تسیرنگ
تعلیم : 1959ءکو بدھ مت میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
دیگر حقائق: موجودہ دلائی لاما 14ویں دلائی لاما ہیں۔
عملی زندگی:
1938ء: بدھ مت کے راہبوں پر مشتمل ایک وفد نئے دلائی لاما کی کھوج میں انہیں ان کے گھر سے لے گئے۔
22فروری 1940ء: انتساب کی ایک تقریب تبت کے دارالحکومت لہاسا میں منعقد ہوتی ہے۔
8نومبر 1950ء: چینی فوجی تبت میں داخل ہوجاتے ہیں۔
17نومبر 1950ء: دلائی لاما کو بطور سربراہ ریاست تبت مکمل سیاسی اختیارات دے دیے جاتے ہیں۔
1954-1959ء: چین اور تبت کے درمیان ہونیوالی ناکام بات چیت کا حصہ بنتے ہیں۔یہ بات چیت چین میں منعقد ہوتی ہے اور اس میں مائوزے تنگ، چو اِن لائی اور ڈنگ ژیائوپنگ جیسے اہم چینی رہنما حصہ لیتے ہیں۔
1959ء میں بات چیت ناکام ہوجاتی ہے اور چینی حکام تبت کے 80ہزار ہجرت کرنے والے باشندوں کو جلاوطن کردیتے ہیں۔
17مارچ 1959ء: لہا شا کو چھوڑ کر دلائی لاما بھارت میں جلاوطن ہوجاتے ہیں۔
21اپریل 1959ء: بھارتی شہر میسوری میں رہائش اختیار کرلیتے ہیں۔
1960ء: بھارتی علاقہ دہرماشالا دلائی لاما کا مسکن اور جلاوطن تبت حکومت کا مرکز بن جاتا ہے۔
1963ء: تبت کیلئے ایک نئے آئین کا اعلان کرتے ہیں جو کہ بدھ مت کے تعلیمات اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین سے اخذ شدہ ہے۔
30ستمبر 1973ء: دلائی لاما کی ملاقات کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ پاول ششم سے ہوتی ہے ۔یہ ملاقات اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے جس میں پوپ اور بدھ مت کےکسی روحانی پیشوا کی ملاقات ہوئی ہو۔
مئی 1977ء: چینی حکومت دلائی لاما کو تبت واپس آنے کی آفر پیش کرتی ہے بشرطیکہ دلائی لاما تبت کو چین کا حصہ تسلیم کرلے۔ دلائی لامائی کی طرف سے یہ آفر ٹھکرا دی جاتی ہے۔
3اگست 1979ء: 49روزہ دورے پرامریکہ روانہ ہوجاتے ہیں۔
1989ء: دلائی لاماکو امن کیلئے نوبل انعام سے نوازا جاتا ہے ۔
16اپریل 1991: امریکی وائٹ ہائوس میں پہلی مرتبہ دلائی لاما کی کسی امریکی صدر سے ملاقات ہوتی ہے،اس وقت جارج ہیورڈ والکربش امریکی صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
6مئی 1993ء: امریکی صدر بل کلنٹن سے ملاقات
ستمبر 1995ء: امریکی کا دورہ اور دورے کے دوران امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تبت کا معاملہ حل کرنے کیلئے بات چیت کا حصہ بنے۔
27مارچ 1997ء: چین کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے دلائی لاما تائیوان کا دورہ کرتے ہوئے تائیوان کے صدر سے ملاقات کرتے ہیں۔
مئی 2001ء: امریکی صدر جارج بش سے ملاقات ۔
11ستمبر 2008ء: کینیڈا کی اعزازی شہریت سے نوازے جاتے ہیں۔
جنوری 2008ء: تبت کے معاملے کو اُجاگر کرنے کی غرض سے چین میں منعقد ہونے والی اولمپک کھیلوں کے دوران پر امن احتجاج کی کال دیتے ہیں۔
21اپریل 2008ء: انہیں فرانس کی اعزازی شہریت سے نوازدیا جاتا ہے ۔
23مئی 2008ء: برطانوی وزیر اعظم گورڈن برائون سے ملاقات ۔
12جون 2008ء: اپنے حامیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اولمپک کی مشعل کو تبت میں گزرنے کے دوران بجھانے کی کوشش نہ کریں۔
18فروری 2010ء: امریکی صدرباراک اوباما اور دلائی کے درمیان ملاقات ۔
7ستمبر 2014ء: ایک انٹرویو کے دوران دلائی لاما کہتے ہیں کہ تبت کی صدارت ایک روحانی پیشوا کے بجائے سیاسی شخصیت کو دی جانی چاہیے،اس بیان کے بعد تبت میں ہلچل مچ جاتی ہے اور بعد میں دلائی لاما ایک اور انٹرویومیں اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تبت کی عوام خود فیصلہ کریں کہ وہ اپنی قیادت کیلئے دلائی لاما کی خواہش رکھتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب ہمارا اتحادی نہیں اور دہشت گردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے :امریکی سینیٹر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹر اور سابق امریکی صدارتی اُمیدوار ’’بیرنی سائنڈرز‘‘نے سعودی عرب پر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے