بدھ , 22 نومبر 2017

شمالی کوریا کیخلاف مزید پابندیاں بے سود ہونگی، پیوٹن

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکا کی جانب شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیوں کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بے سود ثابت ہو گا ، یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جائے ، کیونکہ دیگر اقدامات سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا، ایسے ہر اقدام سے گریز کرنا ضروری ہے جس سے کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے ۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ اگر شمالی کوریا کے مسئلے کا سفارتی حل تلاش نہیں کیا گیا تو یہ تنازع ایک عالمی آفت بن سکتا ہے ، واضح رہے کہ امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن برطانیہ اور فرانس نے شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا ، مجوزہ پابندیوں میں تیل کی خریداری روکنا بھی شامل ہے ۔
صدر پوتن نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اس طرح کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرے گا، دریں اثنا سیاسی اور اقتصادی طور پر شمالی کوریا کے اتحادی ملک چین نے بھی کہا ہے کہ وہ پیانگ یانگ پر دبائو ڈالنے کے خلاف مزاحمت کرے گا ۔

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکا شمالی کوریا کے پڑوسی حریف جنوبی کوریا کو اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے کی اصولی منظوری دے چکا ہے ، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا، تاہم ہمارے ملک کا صبر لامحدود نہیں ہے ، شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنے اقدامات سے بتا دیا ہے کہ وہ جنگ کے لیے بیتاب ہیں۔

امریکی سفیر نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ شمالی کوریا کے حالیہ ایٹمی تجربے کے خلاف سخت ترین اقدام کرے ، کیونکہ صرف سخت ترین پابندیاں ہی اس مسئلے کے سفارتی حل کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، انہوں نے واضح نہیں کیا کہ سخت ترین اقدامات کیا ہو سکتے ہیں، لیکن سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے ممکنہ طور پر اس کی تیل کی صنعت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کابل میں یورپی یونین کے مشن پر شراب فروشی کا الزام

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر کابل میں یورپی یونین ...