اتوار , 28 فروری 2021

حکومت نے تحفظ خواتین بل واپس نہیں لیا ، آئندہ کالائحہ عمل آج دیا جائیگا ، نظام مصطفی کانفرنس

12321681_1096772440369054_2978374121948417721_n

لاہور (خصوصی نامہ نگار) مذہبی جماعتوں کے قائدین، جید علماء کرام، شیوخ الحدیث اور وکلاء رہنمائوںنے قرار دیا ہے کہ حقوق نسواں بل جیسے اقدامات پاکستان کی اسلامی شناخت ختم کرنے کی سازشوں کا حصہ ہیں۔ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں۔ ملک کو لبر ل اور سیکولر بنانے کی کوششوں کیخلاف تمام جماعتیں متحد ہو کرملک گیر تحریک جاری رکھیں گی ۔حقوق نسواں بل کا متبادل بل لانے کیلئے سفارشات مرتب کر لی گئی ہیں۔ مسلمانوں سے انکا دینی تشخص چھیننے کی سازشوںکا اتحادویکجہتی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔کراچی سے پشاور تک ہونے والی تخریب کاری و دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی راکی ملک سے مداخلت مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔بیرونی قوتیں پاکستان کو نقصانات سے دوچار کرنے کی خوفناک سازشیں کر رہی ہیں۔ممتاز قادری کو بیرونی دبائو پر پھانسی دی گئی۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت رکھنے والوں کا قتل عام کیارہا ہے۔کشمیرکو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مظلوم کشمیریوںکی مددوحمایت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ آج منصورہ میں ہونیو الی نظام مصطفی کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔وہ مرکز القادسیہ چوبرجی میں ہونے والی دینی جماعتوں کے قائدین اور سٹیئرنگ کمیٹی کی مجلس مشاورت سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر پروفیسر ساجد میر، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، حدیۃ الھادی کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی، حافظ عبدالرحمن مکی، قاری زوار بہادر،علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، مولانا محمد امجد خان، حافظ عبدالغفارروپڑی، مولانا عبدالرئوف فاروقی، مفتی محمد خاں لغاری، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کامران مرتضیٰ، علامہ ثاقب اکبر، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا امیر حمزہ، قاری یعقوب شیخ،مولانا عبدالمالک،مرزا ایوب بیگ، ڈاکٹر محمد امین، سید وسیم اختر، اسد اللہ بھٹو، حامد الحق حقانی، مولانا یوسف شاہ ودیگر نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پرسید وقاص جعفری، میاںمقصود احمد، مولانا عاصم مخدوم ،عبدالغفور آصف،محمد یحییٰ مجاہد، حافظ عبدالرئوف، ابوالہاشم ربانی، حافظ خالد ولیدودیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران خواتین کے حقوق سے متعلق اسلامی شریعت کے مطابق بل تیار کر کے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی پیش کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ بل کے نکات پر اعلامیہ تیا رکرنے کیلئے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔ حافظ محمد سعیدنے اپنے خطاب میں کہاکہ بیرونی قوتیں پاکستان کی اسلامی شناخت ختم کرنا چاہتی ہیں۔ وہ ایسی چیزیں مان کر آجاتے ہیں کہ جن پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ ہمیں بہرحال یہ باتیں طے کرنی ہیں کہ یہ ملک لاالہ الااللہ کا ہے۔ مسلم لیگ بھی ہمیشہ اسلام کے چاہنے والوں کے ووٹ لیکر اسمبلی پہنچتی رہی ہے۔ اس جماعت میں ایسے لوگ کثرت سے موجود ہیں جو اللہ کے دین کو پسند کرتے ہیں۔ یہ بل تو ایسا ہے جسے ڈرافٹ کرنیو الے اسلام ، آئین اور قانون کے بنیادوں ڈھانچوں سے بھی ناواقف ہیں۔ دینی جماعتوں پر فرض ہو گیا کہ وہ اسلام کے دفاع کیلئے نکلیں۔گلشن اقبال پارک میں درندگی کا مظاہرہ کیا گیا اس کے پیچھے عوامل ہیں جو اس ملک کے اسلامی تشخص کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناموس رسا لت بل میں ترمیم کی جانے لگی تو ہم نے ہڑتال کی کال دی اور مشرف نے کہا کہ ہم ترمیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لبرل ازم،سیکولر ازم،ملک کے اسلامی تشخص کو مٹانے کے مقابلے میں ہم نظام مصطفیٰ کو لانا چاہتے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اتحاد کے ساتھ حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔ہم عورتوں اور ان کے حقوق کے خلاف نہیں۔ اسلام ہی بہترین حقوق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں بل کا متبادل بل سامنے آنا چاہئے۔ حکمران بغیر سوچے اس میں شریک اور عالمی یلغار سے متاثر ہوئے۔حقوق نسواں بل اور دوسرے اقدامات مسلمانوں سے دینی تشخص چھیننے کے سازش ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے آج دو اپریل کو منصورہ میں ہونیو الی نظام مصطفی کانفرنس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ صبح دس بجے نظام مصطفیٰ کانفرنس شروع ہو گی جس کے تین سیشن ہوں گے۔اس دوران تمام دینی جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سٹیئرنگ کمیٹی کے ہونے والے اجلاسوں میں یہ طے ہوا تھا کہ حقوق نسواں بل کے مترادف ایک بل بناناہو گا،

12472310_1096772433702388_7505046846968132875_n

ھدیۃ الہادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ دینی درسگاہیںشدت پسندی کو جنم دیتی ہیں۔اس لئے اسلام کا متبادل تلاش کیا جائے لیکن وہ بھول گئے کہ اسلام کا کوئی متبادل نہیں۔ جماعۃ الدعوۃکے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ حقوق نسواں بل جیسا مجہول بل خواتین کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ یہ بیرونی دبائو پر انتہائی عجلت میں پاس کیا گیا۔ جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہٰی ظہیرنے کہا کہ جب تک جڑ کو نہیں پکڑا جائے گا معاملہ حل نہیں ہو سکتا،حقوق نسواں بل،یا سیکولر ازم کا معاملہ ہو اسکے لئے ضروری ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے۔قاری زوار بہاد ر، مولانا محمد امجد خاں،مفتی محمد خاں قادری، علامہ ثاقب اکبر، مولانا امیر حمزہ، قاری یعقوب شیخ، کامران مرتضیٰ، اسد اللہ بھٹو، سید وسیم اخترودیگر نے کہا کہ خواتین پر تشدد، زیادتیوں، ناروا سلوک کے خلاف بل ہونا چاہئے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …