بدھ , 22 نومبر 2017

روہنگیا تنازع، ترک ہیکرز کا میانمار حکومت پر حملہ

میانمار (مانیڑنگ ڈیسک) ترکی کے ہیکرز نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف جوابی کارروائی میں میانمار کی متعدد سرکاری ویب سائٹس ہیک کرلی ہیں۔میانمار کے میڈیا کے مطابق متعدد حکومتی اور نجی ویب سائٹ کو مبینہ ترک ہیکرز نے رخائن میں جاری تنازعے پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ہیک کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق میانمار کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ سائبر سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر یو یائی نینگ موئی نے بتایا کہ ترک ہیکرز کی جانب سے 31 اگست سے حملے کیے جارہے تھے جو اب تک جاری ہیں تاہم اب تک زیادہ بڑا نقصان یا مداخلت نہیں ہوسکی۔بدھ کو انہوں نے اپنے بیان میں کہا ‘ حملے کی زد میں اآنے والی ویب سائٹس سے کچھ زیادہ بڑا نقصان نہیں ہوا’۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک متعدد ویب سائٹس ہیک ہوچکی ہیں اور شبہ ہے کہ یہ مہم ترک ہیکرز کی جانب سے چلائی جارہی ہے۔

ویب سائٹس کو ہیک کرنے کے بعد ان پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرنے کے پیغامات درج کیے گئے ہیں۔آئی ٹی اور سائبر سیکورٹی حکام کا کہنا ہے ہیک ہونے والی ویب سائٹس کا تھوڑی دیر بعد کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا گیا ہے اور مزید حملوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرلیے گئے ہیں۔ان کے بقول پانچ محکموں کی ویب سائٹس کو ایک ہی سروس سے ہیک کیا گیا جن کا کنٹرول واپس حاصل کرلیا گیا ہے۔

حکومتی اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق چار ستمبر کو سینٹرل بینک آف میانمار، وزارت ثقافت اور یونیورسٹیوں سمیت ایک ملازمت کی تلاش میں مدد دینے والی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔مبینہ ترک ہیکرز گروپ Ayyildiz نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ اس نے میانمار میں ملازمت کے متلاشی اسی ہزار کے قریب افراد کی معلومات کو چرا لیا ہے۔

دوسری جانب میانمار سے تعلق رکھنے والے یونین آف انڈر گراؤنڈ میانمار ہیکرز نے بھی جوابھی حملہ کرتے ہوئے متعدد ترک حکومتی اور نجی ویب سائٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ میانمار کی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فضا میں اڑنے والی کار 2019 میں مارکیٹ کرنے کا اعلان

فضا میں اڑنے والی گاڑی متعارف فضا میں اڑنے والی گاڑی متعارف Posted by Iblagh ...