منگل , 21 نومبر 2017

خطے کی بدلتی صورتحال اور دوست ممالک

(افشاں ملک)
آج 21ویں صدی میں دنیا اس مقام پر آن کھڑی ہے کہ جسے بلاشبہ مفادات کی دنیا کہا جا سکتا ہے، انہی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بنائے جاتے ہیں ‘ انہی مفادات کی خاطر تعلقات منقطع کیے جاتے ہیں اور مفادات پورے نہ ہونے کی صورت میں بسا اوقات جنگ تک کی نوبت بھی پیش آ جاتی ہے۔ آزادی کے بعد سے لے کر تاحال ہمارے حالات تلخ حقائق سے پُر دکھائی دیتے ہیں، ہم نے ترقی کی خاطر امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کئے اور امریکہ کی خوشنودی کے لیے اس کی توقعات سے بڑھ کر وفاداری کا اعلیٰ ثبوت پیش کیا لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ امریکہ نہ صرف یہ کہ ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کر رہاہے بلکہ ہمیں آنکھیں بھی دکھا رہا ہے۔ سو ”دیر آید درست آید ”کے مصداق ہماری سول و عسکری قیادت نے امریکہ پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی ہے، جس کی ابتداء چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کی صورت میں کی گئی ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری خطے کے روشن مستقبل کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں شامل ہونے کے لیے روس’ ایران’ سعودی عرب سمیت خطے کے متعدد ممالک کوشاں ہیں، ان ممالک میں ایک ملک آذربائیجان بھی ہے۔ پاکستان نے بڑے پیمانے پر علاقائی رابطہ کاری کے لیے سلک روٹ منصوبہ بندی کا ایک بڑا حصہ مشرقی مغرب چین کوریڈور کے لیے ، ایک ٹرانزٹ مرکز کے طور پر ا پنے سٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شمولیت کے لیے آذربائیجان کو باقاعدہ طور پر دعوت دی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں پاکستان کو بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے آذربائیجان جیسے چھوٹے اور مخلص ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا ہو گا جن کے ساتھ ہمارے سالوں سے مثالی تعلقات ہیں اور جن ممالک کے ساتھ ہمارا مذہبی و ثقافتی تعلق یکساںہے۔

پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات کو اس وقت نقطۂ عروج ملا جب آذربائیجان میں انقلاب پسند اور ویژنری لیڈرحیدر علیوف نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہر قوم کے اندر کچھ ایسے سپوت ہوتے ہیں جو اپنے لوگوں کو مشکلات سے بچا کر ان کے لیے روشن مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں اور اپنی قوم کے لیے ترقی کا وژن رکھتے ہیں۔ حیدر علیوف کا شمار بھی آذربائیجان کے ایسے قومی لیڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل کی گھڑیوں میں اپنی قوم کا ساتھ دیا، اپنی پرعزم جدوجہد سے جدید آذربائیجان قائم کیا ، ایک مہذب ملک ‘ زرخیز ثقافت اور قدیم تاریخ کو مضبوط روایات اور دلیرانہ جدیدیت کا امتزاج پیدا کیا۔ حیدر علیوف نے سیاسی میدان میں ایسے وقت میں قدم رکھا جب ان کی قوم مایوسی اور بداعتمادی کاشکار تھی۔حیدر علیوف کو ان کی قوم نے آزاد اور اقتصادی طورپر ترقی پذیر ملک کے معمار کے طور پر قبول کیا اور وہ اپنے ملک کو متحد’ آزاد اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب رہے۔ حیدر علیوف آذربائیجانی قوم کے کرشماتی لیڈر ہیں جنہوں نے اپنے ملک کو اہم علاقائی اور عالمی کردار دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میںانہوں نے مغرب کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے لیکن خاص طور پر پاکستان اور مشرقی دنیا کے ساتھ سیاسی’ ثقافتی اور اقتصادی رابطوں کوفروغ دیا۔

یہی وجہ ہے کہ آج کا آذربائیجان مستحکم اور خوشحال ہونے کے ساتھ ساتھ متحد اور ترقی یافتہ بھی ہے۔ حیدر علیوف کے دور میں جومعاشی آزادی اور ترقی حاصل کی گئی تھی وہ آج بھی جاری ہے اور موجودہ حکومت اب تک ان کی پالیسیوں پر عمل کررہی ہے۔ قوم کی خواہش پرحیدر علیوف کی خدمات کوتازہ رکھنے کے لیے ان کے احترام میں حیدر علیوف فاؤنڈیشن قائم کی گئی۔اس فاؤنڈیشن کاانتظام وانصرام آذربائیجان کی خاتون اول عالیہ مہربان سنبھال رہی ہیں جو حیدر علیوف کے مضبوط اخلاقی ورثے کی نشاندہی ہے۔ یہ فاؤنڈیشن ملک کے اندر اور باہر فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے،خیبر پختونخوامیں حمزہ فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر اس نے متعددفلاحی کاموں میں حصہ لیا ہے۔ حیدر علیوف کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات مثالی ہیں جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید بلندیوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ خطے کی بدلتی صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیکر کھرے اورکھوٹے میں پہچان کریں۔

آذربائیجان کا تذکرہ ہم نے اس لیے کیا کہ اس ملک نے 1991ء میں آزادی حاصل کی ہے’ اس قلیل عرصہ میں حیدر علیوف کی کرشماتی شخصیت نے اپنے ملک کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا ،یہی وجہ ہے کہ آج دنیا اس کی مثالیں دینے پر مجبور ہے۔ اگر ہم بھی مفادات کی اس دنیا میں
صرف اور صرف اپنے ملک و قوم کی فلاح کو مقدم رکھیں اورایسی پالیسی ترتیب دیں جو قوم کے مفاد میں ہوتو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ترقی کے سفر میں دنیا سے پیچھے رہیں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایرانی جنرل باقری روس روانہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل باقری ...