منگل , 21 نومبر 2017

روہنگیا کا مقدمہ اور پاکستان کی سفارت کاری

میانمار میں جاری روہنگیا مسلمانوں پر سرکاری اور مذہبی بہیمانہ تشدد کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے بعد سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے میانمار کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور کہا ہے کہ میانمار کی حکومت تشدد ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے اور جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اس سرکاری کارروائی کے باعث پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہو گیا ہے جنہوں نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی سرکاری فوجوں اور وہاں کے متشدد بودھ گروہوں کے مظالم پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے لیکن روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کے پیش نظر حکومت پاکستان کا یہ اقدام پاکستانی عوام کی توقعات کے مطابق بمشکل ہی قرار پائے گا جو حکومت کی طرف سے اس سے کہیں زیادہ موثر اقدام کی توقع کر رہے ہیں۔

سیکرٹری خارجہ کی اس کارروائی کے بعد حکومت کے کارپرداز روہنگیا پر مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حکومت نے بھی احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے لیکن اس احتجاج کا اثر روہنگیا کی مظلومیت پر کیا ہوا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام محض اندرون ملک احتجاج کرنے والوں کی تسلی کے لیے کیا ہے۔ اس کارروائی کے باوجود روہنگیا پر مظالم جاری ہیں۔پاکستان کی وزارت خارجہ کی کارروائی کے مقابلے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان روہنگیا مسلمانوں کی داد رسی میں پیش پیش ہیں۔ وہ اور ان کی اہلیہ بنگلہ دیش کی سرحد پر روہنگیا کے کیمپوں کا دورہ کر چکے ہیں اور ان کے لیے خوراک اور ادویہ فراہم کر چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کو یہ پیش کش کر چکے ہیں کہ روہنگیا کو سرحد کے اندر آنے کی اجازت دی جائے ‘ ان کی کفالت کی ذمہ داری ترکی کی حکومت اٹھائے گی۔ انہیں یہاں تک کامیابی ہو چکی ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد اگرچہ روہنگیا پر سرکاری طور پر بند ہے تاہم غیر سرکاری طور پر تین لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی میانمار سے کہا ہے کہ وہ روہنگیا پر تشدد رکوائے ۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کو قائل کیا جائے کہ وہ روہنگیا کی میانمار کی شہریت بحال کرائے ، انہیں شہری آزادیوں کا تحفظ دلائے۔ ان کے لیے فوری ہنگامی امداد کا بندوبست کرے ۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اقدامات پر زور دیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے کوفی عنان کمیشن کی سفارشات موجود ہیں جن میں تشدد کا فوری طور پرروکنا ، امن قائم کرنا ، مصالحت کی کارروائی ‘ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی اورشہریت کے مسئلہ کا حل شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے سفارت نے میانمار کی حکومت کو تشدد روکنے پر قائل کرنے کے لیے بین الاقوامی کمیونٹی میں آواز اُٹھائی۔

کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو متوجہ کیا کہ میانمار میں تشدد روکنے کے لیے امن فوج بھجوائی جائے۔ کیا روہنگیا کی فوری امداد کے لیے بندوبست قائم کرنے اور اس میں حصہ لینے کے لیے کچھ کیا۔ جیسے کہ ترکی نے کیا۔ روہنگیا پر مظالم ایک عرصہ سے جاری ہیں۔ کچھ روہنگیا پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں دو تین عشروں سے پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن روہنگیا پر حالیہ مظالم کی بنیاد میانمار میں منظور ہونے والا 1982ء کا ایک قانون ہے ۔ جو ڈیڑھ سو سال موثر بہ ماضی ہے۔

اس قانون کے مطابق 1824ء سے لے کر 1948ء تک جو روہنگیا برطانوی دور میں میانمار میں آبادکیے گئے وہ میانمار کے باشندے نہیں ہیں۔ یعنی وہ ہر طرح کے شہری تحفظ سے محروم ہیں۔ وہ اپنے وطن ہی میں بے وطن کر دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی کمیونٹی کو اس المیہ پر متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش بھی اپنے اپنے ملک میں آباد روہنگیا کو پناہ دینے پر راضی نہیں ہیں۔ وہ انہیں میانمار کا شہری قرار دیتے ہیں اور میانمار بھی انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ معاملہ بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے توجہ طلب ہونا چاہیے۔ اس معاملہ کو ان لوگوں سے مختلف سمجھا جانا چاہیے جنہیں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مختلف علاقوں سے لا کر آباد کیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان کشمیری عوام کی آبادی کے تناسب کو متاثر کیا جائے۔

میانمار میں روہنگیا ڈیڑھ سو برس بلکہ اس سے بھی پہلے سے آباد ہیں ، ان کی کئی نسلیں میانمار میں گزر چکی ہیں ۔ اب وہ آباد کار نہیں بلکہ باشندے ہیں۔ ان کا مقدمہ بین الاقوامی فورم میں پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو سفارت کاری کے میدان میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ میانمار کے انسانی مسئلہ پر بین الاقوامی کمیونٹی کا ساتھ دے کر پاکستان کی سفارت کاری بین الاقوامی کمیونٹی میں باوقار مقام کی حامل سمجھی جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف اپنا مقدمہ بھی آسانی سے پیش کر سکے گی۔ اگر پاکستان کی سفارت کاری میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے انسانی مسئلہ پر اقدام اُٹھانے میں ناکام رہی تو پاکستان کے بدخواہ میانمار کے حوالے سے بھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے لگیں گے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

جب حکومت اغوا برائے تاوان میں ملوث ہو ۔۔۔۔!

(تحریر: سید مجاہد علی) سعودی عرب سے سامنے آنے والی دو خبروں سے اندازہ ہوتا ...