پیر , 25 ستمبر 2017

اگر یہی خلیجی ریاستوں کی حرکتیں رہی تو روہنگیا کا اللہ ہی حافظ ہے

(تسنیم خیالیؔ)
خلیجی ریاستیں بالخصوص سعودی عرب، امارات، قطر ،کویت اور بحرین اپنی دولت اور امارت کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں،یہ ممالک دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

البتہ اِن ممالک ایک خاصیت اور بھی ہے جس کے بارے میں شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں اور وہ ہے’’بے غیرتی اور بے حسی‘‘ گزشتہ دنوں امارات اور قطر نے امریکی ریاست ٹیکساس میں ’’ہاروی ‘‘نامی طوفان سے مچنے والی تباہی کے متاثرین کے کئے کروڑوں ڈالر امداد کا اعلان کردیا ہے یہ تو صرف امارات اور قطر کا اعلان ہے البتہ باقی تینوں ’’سعود ی عرب،بحرین اور کویت ‘‘بھی لازمی طور پر امریکیوں کو امداد دے رہے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ان اسلامی ممالک کو امریکیوں کی تکلیف دکھائی دے رہی ہے مگر میانمار میں قتل عام اور ریاستی درندگی کا شکار روہنگیامسلمانوں کی تکلیف نظر نہیں آرہی ۔یہی نہیں بلکہ ان ممالک نے روہنگیا مسلمانوں کیخلاف میانمار میں ہونیوالے حالیہ تشدد کیخلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا۔

ویسے بھی خلیجی ریاستیں غریب اور بے بس روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیوں کریں ۔ان کی مدد سے ان ممالک کو کیا فائدہ حاصل ہوگا۔فائدہ تو امریکہ کی مدد کرنے سے ہوگا،امریکہ کو خوش کرنے کا مطلب ہے اپنے آقا کو خوش کرنا اور وہ خوش ہوگا تو خلیجی ریاستیں پر امریکی سایہ برقرار رہیگا۔

خلیجی ریاستوں کو نہ تو اسلام اور ناہی مسلمانوں کے مسائل اور معاملات سے غرض ہے، یہ ممالک اپنا پیسہ صرف امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے صرف کرتے ہیں کبھی اُن سے ہتھیار خرید کر ،کبھی عراق، شام اور لیبیا میں جنگیں برپا کرکے اور کبھی ان دو امیر ملکوں کےقدرتی آفات سے ہونیوالے نقصان کی تلافی میں امداد دے کر ،

آپ خود سوچیں امریکی امداد کے حقدار ہیں یا روہنگیامسلمان،امریکی تو دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کے شہری ہیں اور ان کے ملک کے خزانے میں جنگ کیلئے بے تحاشہ دولت ہے تو پھر ان کی امداد کیلئے بھی دولت ضرور ہوگی۔ البتہ روہنگیا مسلمانوں کو ایک ملک کا رہائشی ہونے کے باوجود انہیں اپنے ہی ملک کی شہریت نہیں دی جاتی اور اُن کے ساتھ بدترین انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ امداد کی ضرورت روہنگیا مسلمانوں کو ہے۔

خلیجی ریاستوں سے درحقیقت اور کوئی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ان ممالک نے دہائیوں سے اپنا قبلہ امریکہ کو بنا رکھا ہے اور ان کی توجہ صرف وائٹ ہائوس کی طرف ہے، میانمار میں کیا ہورہا ہے اُنہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب امریکی جنگی طیاروں کی پروازیں

پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے اور سرحدی علاقوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے