پیر , 25 ستمبر 2017

میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش آنگ سان سوچی کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: 19جون 1945ء
جائے پیدائش : رنگون (ینگون)،برما (میانمار)
والد کا نام : آنگ سان ،برمی آزادی آرمی کے کمانڈر تھے جس نے برما کی برطانیہ سے آزادی کیلئے جدوجہد کی۔ آنگ سان کو 19جولائی 1947ء میں قتل کردیا گیا تھا۔
والدہ کا نام: ماخین کی،ڈپلومیٹ اور بعد از ان بھارت میں مقرر میانمار کی سفیر ۔
شریک حیات : مائیکل ایریز(متوفی 27مارچ 1999ء)
بچے : کم اور ایلگزینڈر
تعلیم : سینٹ ہاگیز کالج اور پھر 1967ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلاسفی ،سیاسیات اور اقتصادیات میں بی۔اے کی سند حاصل کی ۔

عملی زندگی:
1964: حصول علم کیلئے برطانیہ منتقل ہوئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
1969ء-1971ء: نیویارک منتقل ہوئی، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ میں انتظامی اور بجٹ کے حوالے سے کام کرنیوالی مشاورتی کمیٹی میں بطور اسسٹنٹ سیکرٹری کام کیا۔
1985-1986ء: جاپان میں کیوٹو یونیورسٹی سے ملحق ’’سینٹر فاسائوتھ ایسٹ ایشیا سٹڈیر میں بطور ویزٹنگ سکالر کام کیا۔
1987ء: بھارتی شہر شملہ میں واقع ’’انڈین انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈیز‘‘میں کام کیا۔
اپریل 1988ء: والدہ کو شدید ہارٹ اٹیک کی وجہ سے واپس میانمار آگئیں۔
15اگست 1988ء: ایک کھلے خط کے ذریعے سوچی نے حکومت پر قابض فوج سے مطالبہ کیا کہ ملک الیکشن کرائے جائیں۔
26اگست 1988ء: اپنے پہلے عوامی خطاب میں سوچی نے ملک میں جمہوریت کا مطالبہ کیا ۔
24ستمبر 1988ء: ملک میں ’’نیشنل لیگ فارڈیموکریسی (NLD)نامی سیاسی جماعت بنیاد رکھنے میں حصہ ڈالا۔ پارٹی کا نعرہ عدم تشدد اور سول نافرمانی تھا۔سوچی کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔
20جولائی 1989ء: فوج کی تقسیم کرنے کی کوشش کے الزام میں سوچی کو ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کردیا گیا،سوچی نے اپنے اوپر عائد الزامات مسترد کردئے تھے۔
27مئی 1990ء: ان کی سیاسی جماعت (NLD)عام انتخابات میں قانون ساز اسمبلی کی 80فیصد نشستیں جیت جاتی ہے ،مگر ریاستی قانون اور آرڈر بحالی کونسل الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتی۔
10جولائی 1991ء: یورپی پارلیمنٹ کے طرف سے سوچی کو ساخاروف کے انسانی حقوق کے انعام سے نوازا جاتا ہے۔
24اکتوبر 1991ء: جمہوریت کیلئے پر امن جدوجہد اور انسانی حقوق پر سوچی کونوبل کے امن ایوارڈ سے نوازدیا جاتا ہے۔
23ستمبر 2000ء: انہیں پھر ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کردیا جاتا ہے۔
6دسمبر 2000ء: امریکی صدر بل کلنٹن سوچی کو صدارتی میڈل برائے آزادی دینے کا اعلان کرتے ہیں۔نظر بندی کے باعث سوچی میڈل وصول نہیں کرپاتیں۔
6مئی 2002ء: سوچی کی نظر بندی ختم کردی جاتی ہے۔
30مئی 2003ء: میانمار میں نقل و حرکت کرتے ہوئے سوچی کی موٹر سائیکل پر حکومت کے حامی ایک ہجوم حملہ کردیتا ہے ،اس واقع کے بعد سوچی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتیں جسکے بعد انہیں پھر سے ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کردیا جاتا ہے۔
29نومبر 2004ء: انہیں اطلاع ملتی ہے کہ گھر پر ان کی نظر بندی میں مزید ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے۔
2006ء: پھر سے نظر بندی میں ایک سال کی توسیع کردی جاتی ہے ۔
25مئی 2007ء: حکومت پھر سے ان کی نظر بندی میں ایک سال کی توسیع کردیتی ہے۔
6مئی 2008ء: امریکی صدر جارج ڈبلیوبش سوچی کو کاگریس کی طرف گولڈ میڈل دینے کیلئے قرارداد پر دستخط کرتے ہیں سوچی کو یہ میڈل ان کی غیر موجودگی میں ہی دینے کا اعلان کیا جاتا ہے۔
27مئی 2008ء: میانمار کی حکومت سوچی کی نظر بندی میں مزید ایک سال کی توسیع کردیت ہے۔
14مئی 2009ء:گھر پر نظر بندی کیخلاف ورزی پر سوچی کو گرفتار کرلیا جاتا ہے،جرم ثابت ہونیکی صورت میں انہیں 5سال قید کی سزا ہونے کے امکانات کا خدشہ ظاہر کیاجاتا ہے۔
18مئی 2009ء: سوچی پر مقدمے کی پیروی شروع
11اگست 2009ء: سوچی پر جرم ثابت ہوجاتا ہے اور انہیں مزید 18ماہ نظر بند کرنیکا حکم جاری ہوجاتا ہے۔
7مئی 2010ء: سوچی کی سیاسی جماعت (NLD)عام انتخابات کا بائیکاٹ کردتی ہے ،جسکے بعد پارٹی تحلیل ہوجاتی ہے۔
10مئی 2010ء: سوچی کی اپنی رہائش گاہ پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ کرن کیمپبل سے ملاقات۔
13نومبر 2010ء: سوچی کی نظر بندی ختم ۔گذشتہ 21سالوں میں سوچی نے 15سال گھر پر نظر بندی میں گزارے۔
15نومبر 2010ء: (NLD)کے ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے سوچی ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے اور ملک میں انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کا اعلان کرتی ہیں۔
28جنوری 2011ء: سوچی ’’ورلڈاکنامک فارم کو بھیجے گئے ایک ریکارڈ پیغام میں سوچی کہتی ہیں کہ میانمار کو دنیا کیساتھ پھر سے تعلقات استوار کرنے چاہیے۔
18نومبر 2011ء: (NLD)اعلان کرتی ہے کہ سوچی آنیوالے عام انتخابات میں حصہ لینگی ۔(NLD)یہ بھی اعلان کرتی ہے کہ وہ خود کو بطور سیاسی جماعت پھر سے رجسٹرکریگی اور مستقبل میں ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیگی۔
13دسمبر 2011ء: (NLD)کوبطور سیاسی جماعت رجسٹرکرنے کی اجازت مل جاتی ہے ۔
یکم اپریل 2012ء: سوچی میانمار کی پارلمنٹ میں ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔
2مئی 2012ء: سوچی تاریخ رقم کرتے ہوئے دو دہائیوں سے میانمار کی خارجہ تعلقات میں قائم سرد مہری کو ختم کرتے ہوئے تھائی لینڈ کا دورہ کرتی ہیں۔
یکم جون 2012ء: سوچی ورلڈاکنامک فارم سے خطاب کرتی ہیں۔
21جون 2012ء: برطانیہ کے دونوں ایوانوں میں خطاب پیش کرتی ہیں۔
19ستمبر 2012ء: واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات ۔
19نومبر 2012ء: اوباما کا دورہ میانمار اور سوچی ان کی رہائشگاہ پر ملاقات جہاں سوچی نے نظر بندی کے طویل سال گزازرے تھے۔ یہ کس بھی عہدے پر فائز امریکہ صدر کا پہلا دورہ تھا۔
10مارچ 2013ء: دی الیکشن میں جیت کر آپوزیشن لیڈر بن جاتی ہیں۔
13نومبر 2015ء: (NLD)میانمار کے عام انتخابات میں تاریخی کا میابی حاصل کرلیتی ہیں ۔البتہ سوچی صدر مملکت نہیں بن پاتی کیونکہ میانمار کے آئیں کے مطابق جس شخص کے بیرون ملک کسی غیر ملکی کیساتھ تعلقات یا رشتہ داری ہے وہ صدر مملکت نہیں بن سکتا۔
5اپریل 2016ء: میانمار میں ریاسی مشیر کے نام سے ایک نیا منصب خصوصی طور پر سوچی کیلئے متعارف کرایا جاتا ہے۔ اس نئے عہدے کے ذریعے سوچی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام وزارتیں ،سرکاری ادارے او ر تنظیموں تک رسائی حاصل کرسکتی ہےاور اُن سے مرتبط رہ سکتی ہے ،نیز وہ پارلمنٹ کو جوابدہ بھی ہونگی ۔میانمار کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عہدے کے ذریعے سوچی بالواسطہ ملک کی سربراہ ہیں۔
5اپریل 2017ء: (بی بی سی )کو انٹرویو دیتے ہوئے آنگ سان سوچی اس حقیقت کی تردید کرتی ہیں کہ میانمار میں روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے ،حالانکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے میانمار میں بسے روہنگیامسلمانوں کا بدترین قتل عام کیا جارہا ہے جس میں فوج اور حکومت ملوث ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب ہمارا اتحادی نہیں اور دہشت گردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے :امریکی سینیٹر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹر اور سابق امریکی صدارتی اُمیدوار ’’بیرنی سائنڈرز‘‘نے سعودی عرب پر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے