منگل , 19 ستمبر 2017

عمران خان نااہلی کیس،غیر متنازع حقائق پر تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے بنی گالہ اراضی سے متعلق پیش کی گئی ہر دستاویز ایک دوسرے سے الگ ہے۔ا گر جواب میں کوئی اضافی مؤقف دیا گیا ہے تو اس کی نقل دوسرے فریق کو بھی دینا ہوگی۔ بعض اوقات دوران سماعت اپنی سمجھ کے لئے سوالات اٹھائے جاتے ہیں غیر متنازع حقائق پر فیصلہ کرسکتے ہیں حقائق متنازع ہوں تو تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے دونوں اطراف سے مؤقف کی وضاحت کی ضروت ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل نعیم بخاری جب کہ جواب الجواب دلائل دینے کے لئے حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے مؤقف پیش کیا کہ میں نے عدالت کے حکم کے مطابق اپنا جواب جمع کرادیا ہے آپ نے پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا ایک کمپیوٹر پرنٹ جمع کرادیا گیا ہے جب کہ عمران خان کے بیرون ملک ہونے کے حوالے سے 1976 سے 1988 تک کا ایک چاٹ بھی لگایا گیاہے، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کے پاسپورٹ کا ریکارڈ بھی جمع نہیں کرایا گیا،اس وقت کمپیوٹر نہیں تھا، یہ پاسپورٹ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ میں نے عدالتی حکم پر مکمل عمل کیا ہے لیکن دوسرا وکیل من مرضی کے جواب جمع کروا رہا ہے۔عمران خان کے وکیل پسند و ناپسند کی بنیاد پر دستاویزات فراہم کر رہے ہیں، ایک کمپیوٹر کی دستاویز اور راشد خان کا بیان حلفی دستاویزات سے ہٹا دیا گیا ہے، ،سپریم کورٹ شواہد ریکارڈ نہیں کرا رہی۔

انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ نیازی سروسز کے دو بینک کھاتے ہیں، ایک کھاتے سے پیسے بھیجے جا رہے ہیں، دوسرے سے وصول ہو رہے ہیں، عمران خان نے صرف رقوم وصول کرنیوالے بینک کھاتے کی تفصیلات فراہم کی ہیں، عمران خان دستاویزات میں ردوبدل کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے کہا کہ آپ نے بنی گالہ جائیداد سے متعلق گیپس کی وضاحت دینی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھنے کے لیے سوال کرتے ہیں آبزرویشن نہیں دینا چاہتے ، 184/3 میں صرف تسلیم شدہ حقائق پر فیصلہ ہوتا ہے اور اس حوالے سے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نیازی سروسز ،بنی گالہ اراضی اور گرینڈ حیات فلیٹ کا معاملہ اٹھایا گیا، درخواست میں منی ٹریل اور غیرملکی فنڈنگ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کس فورم کو سماعت کا اختیار ہے ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان نااہلی کیس میں ہر نقطے کا الگ الگ جائزہ لیں گے، تمام نکات کا جائزہ لیں گے بہت سے نکات ابھی وضاحت طلب ہیں،قانون کی حکمرانی کی پاسداری ہمارے فرائض میں شامل ہے، ہم متنازع حقائق پر انکوائری یا تحقیقات کرانے کا حکم دے سکتے ہیں، سپریم کورٹ نے ایک کیس میں قانون کی وضاحت کر دی ہے، سپریم کورٹ کا طے کردہ قانون تسلیم شدہ حقائق سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ بنی گالہ خریداری میں آنے والے خلا کو پُر کرنے سے متعلق کچھ دستاویز آپ نے دینے تھے کیا آپ نے جمع کرادیئے، نعیم بخاری نے کہا کہ جی عدالتی حکم پر متفرق جواب عدالت میں جمع کرادیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر جواب میں کوئی اضافی مؤقف دیا گیا ہے تو اس کی نقل دوسرے فریق کو بھی دینا ہوگی۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو ریمارکس دیئے کہ آپ نے بنی گالہ جائیداد سے متعلق خلا کی وضاحت کرنی ہے بنی گالہ کے حوالے سے جمائما سے رقم کی ترسیل کی مصدقہ دستاویزات کہاں ہیں، آپ نے مختلف درخواستوں میں مختلف مؤقف پیش کیے ہیں، جمائما کے نام پر کس طرح جائیداد لی گئی جواب میں یہ نہیں ہے۔ عمران خان کے پہلے جواب میں راشد علی خان نامی شخص کا کہیں بھی ذکر نہیں تھا، جمائما کے لئے اراضی خریداری کا مؤقف آپ کے سب سے پہلے مؤقف میں نہیں تھا، عمران خان نے تسلیم کیا کہ اہلیہ سے قرضہ لیا جب اہلیہ سے قرضہ لیا تو جائیداد ان کے نام کیسے ہوئی پہلے جواب میں لکھا گیا کہ خاندان کے لئے رہائش تعمیر کرنے کے لئے اراضی خریدی گئی، آپ کی پیش کردہ ہردستاویز میں الگ مؤقف ہے۔ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ خاندان کا مطلب عمران خان کی اہلیہ اور بچے تھے۔

حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے مؤقف پیش کیا کہ عمران خان کے نان ریزیڈنٹ ہونے سے متعلق کچھ دستاویز جمع کروائی گئی ہیں، عدالت کا لارجر بینچ اس حوالے سے ایک اصول طے کرچکا ہے این ایس ایل کے 2 بینک اکاؤنٹس تھے جب کہ عدالت میں صرف ایک بینک اکاؤنٹ پیش کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بعض اوقات دوران سماعت اپنی سمجھ کے لئے سوالات اٹھائے جاتے ہیں غیر متنازع حقائق پر فیصلہ کرسکتے ہیں حقائق متنازع ہوں تو تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے دونوں اطراف سے مؤقف کی وضاحت کی ضروت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاناما کیس معاملے سے فوج کا کوئی تعلق نہیں : آرمی چیف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے