بدھ , 22 نومبر 2017

بھارت چاہ بہار پورٹ جلد مکمل کرے، افغانستان کا مطالبہ

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے بھارتی حکومت سے ایران کے چاہ بہار پورٹ کے تعمیراتی کام کو جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے ذریعے پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک تجارتی روٹ قائم کیا جاسکے گا۔ بھارت نے گزشتہ برس ایران کی چاہ بہار پورٹ کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اس منصوبے میں پورٹ سے منسلک روڈ اور ریل لائن بھی شامل ہیں۔ مذکورہ پورٹ بھارت کو اس حوالے سے مدد فراہم کرے گا کہ وہ پاکستان کے بغیر سمندر کے ذریعے افغانستان کو اشیاء منتقل کرسکے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی جو ان دنوں بھارت کے دورے پر نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے چاہ بہار پورٹ کے مجوزہ تعمیراتی کام کو جلد مکمل کرے تاکہ پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک تجارتی روٹ قائم کیا جاسکے۔

افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے بھارت سے جون میں دونوں ممالک کے درمیان متعارف کرائی گئی ایئر فریٹ کوریڈور میں توسیع کرنے کے لیے بھی کہا ہے جس کا مقصد انڈین مارکیٹس میں افغان اشیاء کی جلد منتقلی ہے۔ اس موقع پر افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اپنی سیکیورٹی اور دفاع کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بھارت کی خارجہ امور کی وزیر سشما سوراج نے افغانستان کے اس مطالبے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پورٹ پر تعمیراتی کام تیز کیا جائے گا اور ہفتوں میں افغانستان کو چاہ بہار کے ذریعے گندم کی منتقلی شروع کردی جائے گی۔

سشما سوراج نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت اور افغانستان نے ’نئی تعمیراتی شراکت‘ کو مشترکہ طور پر منظور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 100 نئے تعمیراتی منصوبوں پر فوری طور پر مشترکہ عمل درآمد کیا جائے گا۔

سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت، کابل کو صاف پانی کی فراہمی، وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کے لیے سستے مکانات، چاریکار شہر کے لیے صاف پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک اور مزار شریف میں ایک پولی کلینک کے قیام کے منصوبوں میں مدد فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارت افغانستان میں انسانی صلاحتیں بڑھانے اور مہارت، خاص طور پر تعلیم، صحت، زراعت، توانائی، انتظامیہ اور وسائل سے متعلق بھی افغانستان کو مدد فراہم کرے گا۔

گذشتہ سال بھارت نے ایران کی چاہ بہار پورٹ کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اس منصوبے میں پورٹ سے منسلک روڈ اور ریل لائن بھی شامل ہیں۔ چاہ بہار پورٹ کی تعمیر سے بھارت پاکستان کے بغیر سمندر کے ذریعے افغانستان کو اشیاء منتقل کرسکے گا۔ پاکستان اس وقت بھارت کو افغانستان میں تجارتی مال کی منتقلی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت فراہم نہیں کررہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت پہلے ہی افغانستان کو 3 ملٹی رول ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر فراہم کرچکا ہے، اس کے علاوہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو ٹریننگ بھی فراہم کررہا ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں مزید تعمیراتی کام میں مدد فراہم کرنے کو کہا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

شام میں قیام امن کے بارے میں ایران ، روس اور ترکی کے فوجی سربراہان کی ملاقات اور گفتگو

ترک فوج کے چیف آف اسٹاف کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان ...