جمعہ , 24 نومبر 2017

روہنگیا مسلمان ہمدردی کے مستحق کیوں؟

جس طرح جنوب مشرقی ایشیائی ریاست میانمار کے صوبہ اراکان کے روہنگیا نسل کے مسلمانوں کے مصائب وآلام کم سے کم چالیس سال پرانے ہیں اسی طرح عالمی سطح پران کے حوالے سے مجرمانہ بے حسی بھی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ بے حسی اور غفلت بھی عشروں پر محیط ہے۔

یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس نے کسی مفاد کے بغیر برما کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا یا ان کے دیرینہ مسائل پرکوئی توجہ دی۔ ماضی میں ملائیشیا اور انڈونیشیا نے برما کے مظلوم مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور مظالم پر متعدد بار تشویش کا اظہار کیا مگر گذشتہ دو ہفتوں سے روہنگیا مسلمان جس بے رحمی کے ساتھ ریاستی دہشت گردی، بدترین نسل پرستی، سیاسی اور مذہبی انتقام کی بھینٹ چڑھے ہیں اس پر یہ دونوں ملک بھی خاموش تماشائی ہیں۔ پڑوسی ملک بنگلہ دیش نے تو برما کے مظلوم مسلمانوں کا اپنے ملک میں داخلہ ہی بند کردیا ہے۔

جہاں تک میانمار کی بات ہے تو اس کے پاس انتہا پسند فوج کے ساتھ ساتھ بنیاد پرست مذہبی عناصر پر مبنی عسکریت پسندوں کی بھی ایک فوج ظفر موج ہے۔ یہ سب مل کر روہنگیا مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑے ہیں جیسے بھوکے بھیڑے شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے مسائل کا آغاز گذشتہ صدی کے وسط میں ہوگیا تھا مگر شاید ہی اقوام متحدہ کو برما کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل پر کوئی خاص توجہ دینے کا موقع ملا ہو۔

اسلامی تنظیموں اور ان کے سربراہان کی طرف سے برما کے مسلمانوں کی مدد ونصرت کے لیے عالم اسلام کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں مگر میرے خیال میں برما کے مسلمانوں کا مسئلہ دینی سے پہلے انسانی ہے۔ اس لیے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس اہم مسئلے پر توجہ مرکوز کرانے کی ضرورت ہے۔ انسانی زندگی کی قدرو قیمت کا ادراک کرنے والے عالمی رہ نماؤں کو مذہبی بنیادوں سے ماورا ہو کر احساس دلانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ روہنگیا کے مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پسنے سے بچانے کے لیے عالم گیرتحریک اٹھائی جاسکے۔

برما میں مسلمانوں کی مظلومیت کے پیچھے میانمار کے طویل آمرانہ فوجی نظام کا اہم کردار ہے۔ سمندر میں گھرے میانمار میں بدھ مذہب کی اکثریت جب کہ مسلمان اقلیت میں ہیں۔ یہ بُدھ انتہا پسند نسلی اور مذہبی تکبر کو برقرار رکھنے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ طبقاتی سلوک کرتے آئے ہیں۔ مسلمانوں کو زندگی کی بقاء کے لیے انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ آج تک برما کی شہریت سے محروم ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق بھارت اور چین سے ہے اور ان مسلمانوں میں سے ایک گروپ خود کو صدیوں پہلے کے عرب فاتحین کا جانشین سمجھتا ہے۔

سنہ2014ء کے اعداد وشمار کے مطابق برما میں مسلمان آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ برما کی امن نوبل ایوارڈ یافتہ اونگ سانگ سوچی کی عمر 72 سال ہوگئی ہے مگران میں انسانی ہمدردی کا شائبہ تک نہیں۔ اگرچہ ان کی ملک میں فوجی آمریت کے خلاف جدو جہد میں قربانیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے مصائب کو جس بے رحمی کے ساتھ نظر انداز کیا ہے اس کے بعد وہ بھی کسی ہمدردی کی لائق نہیں رہیں۔ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم پرآنکھیں بند کرتے ہوئے ان کے بارے میں عالمی سطح پر پیش کردہ اعداود شمار کو’گمراہی کا پہاڑ‘ قرار دیا۔

’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ پارٹی کی سربراہ آنگ سانگ سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے’دہشت گردی‘ کی اصطلاح کا استعمال کرکے وہی طریقہ اپنانے کی کوشش کی ہے جو اس سے قبل ایران اور روس شام میں وہاں کی عوام کی نسل کشی کے لیے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسز سوچی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی شروع کی گئی ہے جس کے تحت انہیں دیا گیا نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ اس لیے بھی بجا ہے کیونکہ ان کا رہنگیا مسلمانوں کے تشدد میں ملوث ہونے کا دعویٰ سراسر من گھڑت ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور نہ ہی عسکری گروپ تشکیل دیے۔ تاہم اگرانہوں نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے پراحتجاج کا راستہ اپنایا بھی ہے انہیں اس کا بنیادی حق ہے۔ میانمار کی حکومت اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے وہاں کے مسلمانوں پر تشدد میں ملوث ہونے کا الزام دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کی ریاستی پالیسی پر پردہ ڈالنا، مسلمان آبادی کو بنگلہ دیش کی طرف نقل مکانی پر مجبور کرنا یا چین، اور تھائی لینڈ کی طرف بے دخل کرنا ہے۔ اگر ہم یہ بات مان لیں کہ برما کے مسلمان ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں تو کسی دور میں بنگلہ دیش بھی بھارت ہی کا حصہ تھا۔

ہم برما کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کیوں کریں؟ صرف اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں۔ نہیں بلکہ اس لیے وہ مظلوم اور ستم رسیدہ ہیں۔ ان کا تعلق جس دین اور مذہب کے ساتھ بھی ہو وہ بہرحال ہمدردی کے قابل ہیں۔

رہی بات مذمت کی تو پہلے تو مذمت ان عالمی لیڈروں کی کی جانی چاہیے جو اس سانحے پر قبرستان جیسی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ شاید دنیا اس لیے بھی چپ ہے کہ برما کے مسلمانوں سے انہیں کوئی مفاد وابستہ نہیں یا یہ وہ مسلمان ہیں،کیونکہ گذشتہ کچھ عرصےسے یہ ایک عالمی روایت بن چکی ہے کہ مسلمانوں کی مظلومیت کسی کو ان سے ہمدردی کے اظہار کی ہمت نہیں ہوتی۔

عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے جلو میں اگر کوئی توانا آواز ابھر کرسامنے آئی تو وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی ہے جنہوں نے میانمار کی خاتون لیڈر آن سانگ سوچی سے ٹیلیفون پر بات کی۔ ایردوآن نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم پر نہ صرف بات کی بلکہ اس پر باقاعدہ احتجاج کیا اور کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک پر پورا عالم اسلام پریشان ہے۔ صدر ایردوآن کے بیان کے جواب میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی چیمپیئن سوچی کا کہنا تھا کہ میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا جا رہا بلکہ ذرائع ابلاغ نے رائی کا پہاڑبنا رکھا ہے۔ گویا انہوں نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ریاستی جبر وتشدد سے صرف دو ہفتوں کے دوران ایک لاکھ 23 ہزار مسلمانوں کی نقل مکانی کو بھی بھلا دیا۔

صدر ایردوآن نے وعدہ کیا کہ رواں ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ترکی کے پاس ہوگی اور وہ اس دوران ہونے والے اجلاسوں میں روہنگیا کے مسلمانوں کو پہلی ترجیح دیں گے۔ ترک صدر اب تک پہلے عالمی رہ نما ہیں جو روہنگیا مسلمانوں کے لیے عملا متحرک ہیں۔ انہوں نے باضابطہ طور پر روہنگیا مسلمانوں پرمظالم پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بعض لوگ ان کے اس احتجاج کو ان کے حق میں اور بعض ان کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

کسی ایک گروپ کا دوسرے کے خلاف مذہبی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک کو روکنے کا مطالبہ اپنی جگہ پرمگر دنیا بھر میں ظلم اور دہشت گردی کے مفہو اور دائرے بھی الگ الگ ہیں۔ انسداد دہشت گردی اور امریکا کی دشمنی دو الگ الگ محاذ ہیں۔ اسی طرح روس اور ایران کی دہشت گردی اور دشمنی کا اپنا دائرہ ہے۔ عبرانی ریاست [اسرائیل] بھی مزعومہ دہشت گردی کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ امریکا کی بھی اتحادی ہے جو فلسطینی قوم کے مادی اور معنوی قتل عام میں پیش پیش ہے۔ جس طرح کی مجرمانہ خاموشی دنیا نے برما کے مسلمانوں پرڈھانے جانے والے مظالم پر اپنا رکھی ہے۔ ایسی ہی خاموشی بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کےحوالے سے اپنائی گئی ہے۔ جس طرح برما کے مسلمانوں کو وہاں کے انتہا پسندوں کے ظلم وبربریت کا سامنا ہے۔ ایسے ہی صہیونی جرائم پیشہ عناصر کےہاتھوں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر بھی اپنائی گئی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

بھارت کے ساتھ اتحاد سے امریکی مقاصد

امریکہ اس علاقے میں چین کے مقابلے میں انڈیا کی سربراہی میں ایک اتحاد بنا ...