پیر , 25 ستمبر 2017

نائن الیون : امریکی بیوہ کا سعودی عرب پر مقدمہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی شخص کی بیوہ اسٹیفنی ڈی سیمون نے سعودی حکومت کے خلاف واشنگٹن ڈی سی کی عدالت میں مقدمہ کردیا۔

امریکی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اسٹفینی نے عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ سعودی حکومت بھی جزوی طور پر ان کے شوہر کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔رپورٹ کے مطابق اسٹیفنی دو ماہ کی حاملہ تھیں جب 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں میں ان کے شوہر نیوی کمانڈر پیٹرک ڈن ہلاک ہوگئے تھے۔

اب ان حملوں کے 16 سال گزرنے اور کانگریس کی جانب سے راہ ہموار ہونے کے بعد اسٹیفنی نے سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ کردیا ہے جس میں انہوں نے موقف اپنایا کہ سعودی عرب القاعدہ کو ایک دہائی سے زائد عرصے تک مادی سپورٹ دیتا رہااور وہ دہشت گرد گروپ کے امریکا پر حملے کے منصوبے سے آگاہ تھا۔

عدالتی دستاویز کے مطابق درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’مملکت کی جانب سے معاونت کے بغیر القاعدہ یہ صلاحیت نہیں رکھتی تھی کہ وہ نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی اور اس کو عملی جامعہ پہنا سکے‘۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہان جس میں اسٹفینی کی بیٹی بھی شامل ہیں انہیں اس حملے سے گہرے اور مستقل ذاتی صدمات پہنچے ہیں اور وہ اس کی تلافی چاہتے ہیں۔

دستاویز میں سعودی عرب پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ایجنٹس اور امداد کے ذریعے القاعدہ کے ارکان کو مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کی تاکہ وہ حملہ کرسکیں۔اس حوالے سے سعودی سفارتخانے کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے:پاکستان

بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، ملحیہ لودھی کا جنرل اسمبلی میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے