پیر , 25 ستمبر 2017

امریکی جریدے نے 11/9 کے واقعے میں سعودی کردار کے مزید شواہد سے پردہ اٹھا دیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک امریکی جریدے نے گیارہ ستمبر کے واقعے میں سعودی عرب کے کردار کے نئے گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔امریکی جریدے نیویارک پوسٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں لکھا ہے کہ جدید دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کے سفارت خانے نے، ہوائی جہازوں کے اغوا کے سمیولیشن اور ریہرسل کے اخراجات ادا کیے تھے اور اس کا نقشہ سعودی سفارت خانے کے دو ارکان نے تیار کیا تھا۔اس رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے واقعے سے دو سال پہلے ہی اس کی ریہرسل کی گئی تھی اور سعودی سفارت خانے کے دو کارکنوں نے طالبعلم کی حثیت سے اس پروجیکٹ پر عملدر آمد کیا تھا۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق شواہد اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی سفارت خانے نے، اپنے دو کارکنوں کے فینکس واشنگٹن سفر کے اخراجات برداشت کیے تھے اور اس سفر کا مقصد گیارہ ستمبر کے واقعے کے لیے ہوائی جہازوں کے اغوا کی ریہرسل کرنا تھا۔جریدے نے یاد دھانی کرائی ہے کہ سعودی سفارت خانے کے دو ملازمین محمد القضایین اور حمدان شلاوی کے خلاف الزامات کی طویل فہرست ہے جس میں ہوائی جہازوں کے اغوا اور افغانستان میں دہشت گردوں اور خاص طور سے القاعدہ کے ساتھ تعلقات کے الزامات بھی شامل ہیں۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے واقعے سے متعلق تازہ ترین دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد موجودہ امریکی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی گرمجوشی پر ٹھوس سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جنرل اسمبلی:سشما سوراج کے خطاب کے دوران کشمیریوں ،سکھوں کا احتجاج

نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیرخارجہ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں سالانہ اجلاس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے