منگل , 21 نومبر 2017

میانمار اور مسلمانوں کے قتل عام کے اسرائیلی نمونے

صہیونی حکومت میانمار کے ساتھ اپنے عسکری روابط کو ختم کرنے سے انکار کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب میانمار کی فوج اور شدت پسند بودائی غیر قانونی اقامت کے بہانے روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

صرف رواں سال میں اسرائیل نے دسیوں ٹینک، فوجی کشتیاں ، ہر طرح کے ہتھیار میانمار کو فروخت کیے ہیں۔ اسلحہ فروخت کرنے سے بڑھ کر TAR Ideal Concepts اسرائیلی کمپنی میانمار کے صوبے راخین میں میانمار کی فوج کو عسکری تربیت دے رہی ہے۔ یعنی بالکل اُس جگہ جہاں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔

اقوام متحدہ 1998 کے بین الاقوامی قانون آزادی عمل اور یورپین اتحاد نے اپنے ایک قانون ، جس میں ایسا اسلحہ فروخت کرنا جس کے بارے میں امکان ہو کہ وہ داخلی فسادات میں استعمال ہوگا، اس کا بیچنا ممنوع ہے۔ ‘‘ کے مطابق میانمار کو اسلحہ فروخت نہیں کیا۔ ان دونوں کی جگہ کو پُر کرنے کے لیے اسرائیل آگے بڑھا اور اس نے ان دونوں کی کمی کو پورا کر دیا ہے ۔

روہنگیا میں حالیہ وحشت گری ۲۵ اگست کو شروع ہوئی تھی۔ میانمار کی فوج نے بہانہ یہ بنایا کہ روہنگیا کی تنظیم آزاد اراکان نے حافظ طہار کی قیادت میں راخین کی ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا تھا۔ اس بہانے سے میانمار کی فوج نے راخین پر حملہ کیا اور مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ اس قتل و غارت سے جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد تین لاکھ ہے۔

گزشتہ سال ماہ دسمبر میں اسرائیل کے وکلاء اور حقوق بشر کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اسرائیلی وزارت دفاع سے مطالبہ کیا تھا کہ میانمار کی حکومت کے ساتھ اپنے عسکری تعلقات ختم کر دے کیونکہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری نہیں کر رہا۔ ماہ مارچ میں اس خط کا جواب دیا گیا۔ وزیر دفاع نے اپنے جواب میں کہا: میانمار کو اسلحہ فروخت کرنا محض ایک ڈپلومیٹک معاملہ ہے اور کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ اس بارے میں رائے دے۔

رواں سال میں ان دو ممالک کے عسکری روابط پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوگئے تھے۔ جنوری ۲۰۱۷ میں صہیونی اور میانماری ڈپلومیٹک کے درمیان رفت و آمد کا سلسلہ بہت بڑھ گیا ، جن کی بنا پر تل ابیب اور نیپیاداو کے درمیان عسکری روابط اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ۔ ان روابط کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیل نے میانمار کو ہر طرح کا اسلحہ فراہم کیا ۔ اس کی وجہ سے حقوق بشر کے کارکنوں نے اپنی پریشانی کا اظہار بھی کیا۔

ثان شو کی آمرانہ حکومت کے دوران صہیونی حکومت اور میانمار کے درمیان عسکری تعلقات کا آغاز ہوا تھا۔ یہ تعلقات ۲۰۱۵ میں اس آمر کے جانے کے بعد بھی جاری رہے تھے۔ نومبر ۲۰۱۵ میں میانمار میں عام انتخابات سے دو مہینے پہلے اور ماہ ستمبر میں جنرل مین آنگ ہلانگ نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات کی ۔ ہلانگ کا سفر ایک تجارتی اور عسکری سفر تھا۔ جنرل مین آنگ ہلانگ نے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ کئی ایک عسکری معاہدے کیے تھے ۔

میڈیا نے ہلانگ کے سفر کو اہم بنا کر پیش کیا۔ میڈیا نے آشکار کیا کہ ہلانگ نے اپنے اس سفر میں اسرائیلی حکومت کے معاہدہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے انہیں تربیت دی جائے۔ اس معاہدے کے نتیجے آج اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں راخین کے صوبے میں میانمار کی فوج کو تربیت دے رہی ہے۔ آج میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام اُسی طرز پر ہو رہا ہے جس طرز پر صبرا اور شتیلا میں اسرائیلی فوج نے کیا تھا۔بشکریہ سچ ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ابوبکر البغدادی کہاں ہوسکتا ہے؟ بعض فرضیے اور امکانات

(تسنیم خیالی) عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کا خاتمہ قریب ہو چکا ...