پیر , 25 ستمبر 2017

سعودی عرب کے 9/11کے واقعے میں ملوث ہونے کے نئے ثبوت

(بائی بری پیٹسن)
امریکی کانگریس نے28 صفحات پر مشتمل ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ جمعہ 16 جولائی کوافشا کر دیا ہے جس میں 9/11کے واقعے میں ملوث ہائی جیکروں کے سعودی سرکاری اہل کاروں سے روابط کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ورلڈ ٹرید سینٹر پر حملہ آور سعودی شہریت کے حامل افراد سے رابطے میں تھے جن سے انہوں نے مدد حاصل کی تھی ان سعودی افراد میں سے کم از کم دوسعودی خفیہ ایجنسی کے اہل کار تھے اس نئی منظر عام پر آنے والی رپوٹ کے مطابق سعودی سرکاری اہل کاروں کے ساتھ ساتھ سعودی شاہی خاندان بھی ان ہائی جیکروں کی مالی معاونت کررہے تھے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ عمر البیومی کے نام سے ایک شخص نے ان ہائی جیکروں کو فضائی تربیت دی ۔اس شخص کے سعودی حکومت سے انتہائی قریبی تعلقات تھے ۔عمر البیومی نے 1976 سے1993 تک سعودی سول ایئر ایڈمنسٹریشن میں کام کیا تھا سعودی عرب میں ایئر ٹریفک کنٹرول کو ہدایات دینےکاذمہ دار تھا۔اسی شخص کے ٹیلی فون ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ اس کے سعودی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اس کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے کے کم زاکم تین آفیسرز سے بھی اس کا رابطہ تھا۔

1990 میں ان ہائی جیکروں میں سے دو کی سان ڈیاگو آمد کے موقع پر البیومی نے ان کے اعزازمیں پارٹی دی تھی اور انہیں ایک اپارٹمنٹ میں ٹھہرانے کا انتظام کیا تھا اس کے علاوہ انہیں ڈرائیونگ لائیسنس بھی دلوائے تھے 9/11 سے پہلے ایف ۔بی۔آئی کو کئی ایسی رپورٹس ملی تھیں جس کے مطابق البیومی سعودی عرب کی ایک خفیہ ایجنسی کا آفیسر تھا البیومی نےسان ڈیاگومیں ایک مسجد کی تعمیر کے نام سے سعودی حکومت سے 40 ہزار ڈالز لیے تھے۔

ایف ۔بی۔آئی کا ادارہ 1998-99 تک البیومی سے اس رقم کے بارے میں تفتیش کرتا رہا تھا لیکن اسکے بعد نامعلوم وجوہ کی بنا پر تفتیش بند کر دی گئی
اس شخص کی دہشت گردوں کے ساتھ ہمددیاں بھی تھیں حتیٰ کہ وہ نوجوان مسلمانوں کی اس حوالے سے نظریاتی تربیت بھی کرتا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس کاعلم نہیں تھا کہ اس شخص کے دہشت گردوں کے ساتھ کس حد تک تعلقات تھے کیونکہ اس سے قبل امریکہ نے انسداد دہشتگردی کے حوالے سے کوئی جامع حکمت عملی نہیں بنائی تھی ۔

امریکی خفیہ اداروں نے بھی 9/11سے پہلے امریکہ میں مقیم سعودی عرب کے باشندوں پر نظر نہیں رکھی ہوئی تھی کیونکہ سعودی حکومت اس وقت امریکہ کی حامی تصورکی جاتی تھی ،سان ڈیاگو میں قیام کے دوران البیومی کی بیوی سعودی عرب کی ایک شہزادی حیفہ بنت سلطان سے 1200 ڈالر لیتی تھی ،حیفہ امریکہ میں سعودی سفیر شہزاد ہ بندرکی بیوی تھی اس کے علاوہ البیومی کا ایک ساتھی اسامہ بسنان بھی اس سعودی شہزادی سے رقم وصول کرتا تھا اوردوہائی جیکروں سے رابطے میں تھا 1998 میں اس نے براہ راست شہزادہ بندرسے 15000ڈالر وصول کیے ۔

رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ 2000میں کئی سعودی نیوی کے افسران کے ہائی جیکروں کے ساتھ بھی رابطے تھے،ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے کچھ دیر پہلے وائٹ ہائوس کے پریس سیکرٹری جو ش ارنسٹ نے کہا کہ یہ دستاویزات ہمارےاس نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے کہ 9/11کے حملوں میں سعودی عرب کی حکومت کا ہاتھ تھا ۔ان کے مطابق ہم سعودی عرب کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے حوالے سے جوبات کچھ عرصے سے کہتے آرہے ہیں یہ دستاویزات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔بشکریہ TNAنیوز

یہ بھی دیکھیں

مسائل کشمیر سے جڑے ہوئے ہیں

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے