پیر , 25 ستمبر 2017

پاکستان اور اسرائیل کے تاریخی ایک جیسے سفر اور حقائق کیا ہیں؟

قیام پاکستان کے صرف نو ماہ بعد دنیا کے نقشے پر ایک اور نظریاتی ملک معرض وجود میں آیا ۔ یہ ملک دنیا کی واحد یہودی ریاست اسرائیل تھا۔ دونوں ملک مذہبی نظریات کی بنیاد پر معرض وجود میں آئے تھے۔ دونوں قوموں نے اپنے اپنے ملک حاصل کرنے کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی۔ یہ دو ریاستیں ایسی ہیں جن کے قیام ، جن کی بنیادوں میں خون کی ندیاں شامل ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پاکستان ہندوستان سے الگ ہوا تو چند دنوں میں ہونے والے فسادات میں دس لاکھ مسلمان قتل ہوئے دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کے قیام سے پہلے یورپ میں لاکھوں یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔

1947 میں برطانوی حکومت نے ہندوستان سے اپنا بستر گول کر لیا اور یہاں دو ریاستیں بنام ہندوستان اور پاکستان وجود میں آ گئیں۔ دونوں طرف بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات بھڑک اٹھے ، دونوں طرف غیر مذہب والوں کے لیے رہنا مشکل ہوگیا لہذا بڑی سطح کی نقل مکانی شروع ہوئی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق اس تقسیم کے نتیجے میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ ہندو اور سکھ ہندوستان پہنچنے لگے اور وہاں سے مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران میں طرفین سے مجموعی طور پر دس لاکھ لوگ قتل ہوئے۔

1920 میں لیگ آف نیشنز کی جانب سے برطانوی سامراج کو یہ فریضہ سونپا گیا کہ وہ ٹرانس جارڈن اور فلسطین کو قابو میں کرے ۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل نے جنم لیا۔ برطانیہ نے ہی 1946 میں فلسطین اور جارڈن کی جغرفیائی تقسیم کی اور 1948 میں فلسطین کو دو لخت کر کے اس میں سے اسرائیل کو الگ کر دیا ۔ برطانیہ نے اسرائیل کو ایک آزاد ریاست کے عنوان سے وجود بخشا ۔ اس کے بعد یہودیوں کی بڑی تعداد دنیا بھر سے نقل مکانی کرتے ہوئے اسرائیل پہنچی ۔ یورپ سے در بدر ہونے والے یہودی اسرائیل میں آکر آباد ہوئے، اسی طرح عرب ممالک سے نقل مکانی کرنے والے یہودیوں کی تعداد آٹھ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔ بشکریہ سچ ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

مسائل کشمیر سے جڑے ہوئے ہیں

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے