منگل , 21 نومبر 2017

فضائل ِ جہالت

(وسعت اللہ خان) 
یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ان پڑھ شخص جاہل بھی ہو۔ جاہل ہونے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ عمرو ابن ِہشام قریش میں ابو الحکم ( دانش کا باپ ) کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ مگر اسی ابوالحکم نے اپنی کور چشمی کے سبب دربارِ رسول سے ابو جہل کا لقب پایا۔ ایسا ہٹیلا کہ مرتے مرتے بھی کہہ مرا کہ میرا سر گردن سمیت کاٹنا تاکہ دیگر سروں کے درمیان ممتاز رہے۔ ان پڑھ لاعلم ہوتا ہے مگر حصولِ علم سے لاعلمی کا مداوا کرلیتا ہے۔

جاہل باعلم ہوتا ہے مگر اس کا باعلم ہونا اس سمیت کسی کے کام نہیں آتا۔ ان پڑھ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ جاہل سمجھتا ہے کہ وہ سب جانتا ہے۔ علم حلم پیدا کرتا ہے۔ جہل غرورِ علم پیدا کرتا ہے۔ جاہل بصارت کو بصیرت سمجھتا ہے اور عالم بصیرت کو بصارت بنا دیتا ہے۔ ان پڑھ اکبرِ اعظم ہوسکتا ہے مگر جاہل ترقی کرکے جاہلِ اعظم ہوجاتا ہے۔ ان پڑھ اگر پڑھ لکھ جائے تو امکان ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اس راہ پر لگادے۔ لیکن جاہل کو پیر رکھنے کی بھی جگہ مل جائے تو وہ علم کی ہری بھری کھیتی اجاڑنے کے لیے بہت ہے۔ اور اگر کسی قوم کے شعبہِ تعلیم پر ہی اہلِ جہالت کا قبضہ ہوجائے تو پھر ایسی قوم کو کسی اندرونی و بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں۔ سپاہِ جہلت ہی کام تمام کرنے کے لیے کافی ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ طالبان کو کوستے رہتے ہیں کہ وہ تعلیم کے خلاف ہیں اور اتنے اسکول تباہ کردیے۔ مگر انھوں نے پاکستان کے لگ بھگ تین لاکھ تعلیمی اداروں میں سے زیادہ سے زیادہ کتنے تباہ کیے ہوں گے؟ پانچ سو، ہزار، ڈیڑھ ہزار بس؟ ہم میں سے بہت سے یہ راگ بھی الاپتے ہیں کہ دینی مدارس انتہاپسندی کی نرسریاں ہیں۔ مگر تقریباً پندرہ ہزار میں کتنے ایسے مدارس ہوں گے؟ پانچ سو، ہزار، دو ہزار بس؟ ہم میں سے متعدد واویلا کرتے ہیں کہ اس ملک کی تعلیم کو غیر حاضر، نا اہل، سفارشی اور بھوت اساتذہ کی دیمک لگ گئی ہے جو گھروں پر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ لیکن سولہ لاکھ اساتذہ میں ایسے کتنے ہوں گے؟ چالیس ہزار، اسی ہزار، ایک لاکھ بس؟ ہم شور مچاتے ہیں کہ اسکولوں کی عمارات خالی پڑی ہیں۔ ان میں جنات بستے ہیں، مویشی بندھتے ہیں، با اثر لوگوں کے کارندے تین پتی کھیلتے ہیں، ان میں مہمان خانے بنے ہوئے ہیں۔ مگر لگ بھگ سوا دو لاکھ پرائمری و مڈل اسکول کی عمارات میں سے ایسی کتنی ہوں گی جن کا ایسا غیر تعلیمی استعمال ہو رہا ہوگا؟ پانچ سو، ہزار، پانچ ہزار بس؟

تو کیا تعلیم انھی اسباب کے سبب تباہ حال ہے یا پھر یہ زبوں حال تصویر عام آدمی کو دھوکا دینے کے لیے تخلیق کی گئی ہے؟ آج بھی پانچ سے سولہ برس تک کے بچوں بچیوں کو لازمی اور مفت تعلیم دینا ریاست کی آئینی ذمے داری ہے۔ آج بھی شعبہِ تعلیم میں سرکاری اسکولوں کا تناسب بہتر فیصد ہے۔ آج بھی چھیاسٹھ فیصد طلبا سرکاری اداروں میں اور صرف چونتیس فیصد پرائیویٹ اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ تو کیا یہ سب خودکار ہے؟

چلیے مان لیا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم سب سے نیچے ہے۔ یہ بھی درست کہ سرکاری اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں کا حال یکساں ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ اکثر سرکاری اسکولوں میں فرنیچر، صحت و صفائی کی بنیادی سہولتوں اور چار دیواری کی کمی ہے۔ یہ بھی بجا کہ بہت سے اسکولوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی قلت ہے۔ مگر جن اسکولوں میں یہ سب مسائل نہیں کیا وہاں واقعی پرائمری و مڈل بچوں بچیوں کو چھ گھنٹے روزانہ تعلیم مل رہی ہے؟ کیا واقعی ان اسکولوں میں مفت کتابیں بانٹنے سے معیارِ تعلیم میں کوئی فرق پڑا ہے؟

اور کبھی ہم نے اس پر بھی غور کیا ہے کہ اب سے چالیس برس پہلے تک جب پرائیویٹ سیکٹر کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا اور سرکاری اسکول بھی آج کے مقابلے میں خاصے کم اور دور دور واقع تھے تب معیارِ تعلیم کی زبوں حالی پر بکثرت سوالات کیوں نہیں اٹھتے تھے۔ تب انھی اسکولوں کے بچے زندگی کے ہر شعبے میں بلا ججھک کیوں کامیاب سمجھے جاتے تھے اور آج جب قریہ قریہ اسکول پھیلے ہوئے ہیں۔ محکمہ تعلیم روزگار کی فراہمی کے اعتبار سے سب سے بڑا سرکاری سیکٹر ہے اور بنیادی خواندگی بڑھانے کے لیے ملکی و بین الاقوامی این جی اوز بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ پیلے اسکول کا ملک گیر نظام دیمک زدہ ہوچکا ہے اور ہوتا ہی چلا جارہا ہے؟

وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر ٹیچر نہ صرف کوالیفائیڈ تھے بلکہ کسی مجبوری میں نہیں بالرضا اس شعبے میں آتے تھے۔ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ کوئی منفعت بخش ملازمت نہیں پھر بھی وہ قناعت پسند تھے۔ اسکولوں کی انسپکشن کا نظام ابھی اتنا کرپٹ نہیں ہوا تھا۔ استاد ڈنڈے کا استعمال مارنے سے زیادہ ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے کرتا تھا۔ ( جب سے ڈنڈے کا استعمال ممنوع ہوا تب سے شاگرد کے بجائے استاد ڈرنے لگا ہے)۔

والدین کو استاد پر اندھا اعتماد تھا کہ وہ ان کے بچوں کو سوائے تعلیمی استعداد کے کسی اور معیار پر نہیں جانچے گا اور سب طلبا و طالبات اس کی نظروں میں برابر ہوں گے۔ اسی لیے کسی باپ کو اپنا بچہ داخل کراتے ہوئے یہ کہنے میں قطعاً ہچکچاہٹ نہیں تھی کہ ”گوشت آپ کا ہڈیاں ہماری“۔

مگر یہ تب کی بات ہے جب تعلیم کو مالی منافع اور خسارے کے ترازو میں تولنے کا رواج نہیں ہوا تھا۔ جب محکمہ تعلیم سیاسی چہیتوں کی چراگاہ نہیں بنا تھا کہ جس میں ہر گائے بھینس بکری کو چرنے کا پرمٹ مل جائے۔ تقرری و تبادلے و ترقی کا رشتہ رشوت و خوشامد سے بہت زیادہ استوار نہیں ہوا تھا۔ استاد کو اسکول کے بعد جزوقتی نوکریاں کرکے گھر چلانے کی حاجت و مجبوری درپیش نہیں تھی۔ ٹیوشن رضاکارانہ تھی، گلا کاٹ سفاک صنعت نہیں بنی تھی۔ استاد کی ذمے داری صرف اور صرف تعلیم دینے تک تسلیم کی جاتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ اسے الیکشن ڈیوٹی، امتحانی پرچوں کی جانچ اور امتحانی مراکز کی نگرانی کا اضافی کام سونپا جاتا تھا اور اس کا بھی اس زمانے کے حساب سے معقول معاوضہ ملتا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ استاد سے یہ توقع بھی رکھی جائے کہ تمام کلاسیں بھی لے اور پھر اسکول کی چھٹی کے بعد پولیو کے قطرے بھی پلائے، مردم شماری اور خانہ شماری کے لیے بھی ایک ایک دروازہ کھٹکھٹائے، ووٹروں کے اندراج کے لیے بھی در در جائے، سیلابی نقصانات کے تخمینے کے کام میں بھی جھونک دیا جائے، اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کا سروے بھی کرتا پھرے، سیاسی جلسوں میں بھی لازمی شرکت کا پابند ہو، ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول روم میں بیٹھ کر ایمرجنسی فون نمبروں پر جواب دینے کی بیگار بھی کرے، اپنے سے اوپر والوں کی مسلسل خوشامد اور چاپلوسی کو بھی اس کے فرائض کا حصہ سمجھ لیا جائے۔ اوپر سے آنے والے ہر زبانی حکم کو بھی تحریری جانے اور اضافی خدمات کے معاوضے کے لیے مہینوں کبھی کسی افسر کے سامنے بتیسیاں نکالے توکبھی کسی کلرک کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتا پھرے۔ اور پھر اس سے یہ توقع بھی ہو کہ اس کے شاگردوں کا تعلیمی نتیجہ بھی اچھا اور پہلے سے بہتر ہو۔ کیا ایسا کبھی ہوا ہے۔ کیا ایسا کبھی ہوتا ہے؟ مگر یہ پورا نظام چلانے والے ابو جہلوں کو اس سے کیا؟ یہ نہ ان کا مسئلہ ہے اور نہ ہی ان کے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ۔

انھیں آخر کیوں یہ سادہ سی بات سمجھ میں آئے کہ اگر ایک نیا اسکول بنانے کے بجائے پہلے سے موجود ایک اسکول کو ڈبل شفٹ پر چلایا جائے تو ایک ہی عمارت دو اسکولوں کے برابر کام کرے گی۔ اگر یہ سامنے کی بات بھی راکٹ سائنس ہے تو پھر اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ صرف ایک حکم سے ایک ہی دن میں تین لاکھ تعلیمی ادارے چھ لاکھ اداروں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک استاد چھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے کی دو شفٹوں میں پڑھائے تو اس کا مالی مسئلہ فوراً حل ہوسکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر ایک ہی اسکول میں ایک شفٹ لڑکیوں کے لیے اور دوسری شفٹ لڑکوں کے لیے ہو تو لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ اسکول بنانے پر اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اسکول سے باہر پانچ برس کی عمر تک کے جو اکیاون لاکھ بچے ہر سال لور لور پھر رہے ہیں ان کی بھی انھی اسکولوں میں کھپت ہوسکتی ہے، ایک بھی اضافی عمارت اٹھائے بغیر۔

لیکن اگر ہر کام سیدھا سیدھا سوچا جائے تو پھر جہالت کی دیمک ساز تعلیمی فیکٹری کیونکر چلے گی؟ اب آپ کو کچھ کچھ اندازہ ہوا کہ دہشت گرد کس کارخانے میں کیسے تیار ہوتے ہیں۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا (میر)

 

یہ بھی دیکھیں

ابوبکر البغدادی کہاں ہوسکتا ہے؟ بعض فرضیے اور امکانات

(تسنیم خیالی) عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کا خاتمہ قریب ہو چکا ...