پیر , 25 ستمبر 2017

بندر بن سلطان نائن الیون حادثے میں ملوث ہے؛ CNN

واشنگٹن(مانٹیرنگ ڈیسک) سی این این کی رپورٹ کے مطابق، نائن الیون کے حملوں کے چھ ماہ بعد امریکی سکیورٹی ایجنسیز نے جب پہلے مجرم کو گرفتار کیا تو ہولناک حقیقتیں سامنے آئیں۔رات کے وقت ایک چھاپہ مار کارروائی میں پاکستانی فورس کے خصوصے دستے نے اسامہ بن لادن کے قریبی مانے جانے والے ابوزبیدہ نامی ایک شخص کو گرفتار کیا کہ جس کا کام ظاہراً لوگوں کو القاعدہ میں بھرتی کرنا تھا۔

ابوزبیدہ کی گرفتاری کے چودہ سال بعد نائن الیون سے متعلق خفیہ رپورٹس عام ہوئی ہیں۔ 27 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو 2002 میں کانگریس کے ممبران کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ نائن الیون کے حملوں سے خاندان آل سعود کا تعلق تھا۔ جن میں سرفہرست اس وقت کے ریاض کے سفیر بندر بن سلطان ہیں۔ مگر اس رپورٹ کو ایک عرصے تک عوام سے مخفی رکھا گیا۔

بندر بن سلطان اور نائن الیون حادثے کے دہشتگردوں کے درمیان تعلقات پر مبنی حقائق کو ہمیشہ امریکی عوام سے پوشیدہ رکھا گیا۔ مگر اس کے باوجود ایف بی آئی اور سی آئی اے نے کہا تھا کہ نائن الیون حادثے کا خاندان آل سعود سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن سینیٹر گراہم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نائن الیون حادثے کا بالواسطہ سابق سعودی سفیر بندر بن سلطان سے رابطہ تھا۔ ان کے اس بیان نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے:پاکستان

بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، ملحیہ لودھی کا جنرل اسمبلی میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے