اتوار , 7 مارچ 2021

دینی جماعتوں نے نظام مصطفیؐ تحریک چلانےکیلئے اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کا اعلان کردیا

12321681_1096772440369054_2978374121948417721_n

لاہور (سپیشل رپورٹر) جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ میں منعقدہ ملک بھر کی مذہبی جماعتوں اوردینی اداروں کی نظام مصطفیؐ کانفرنس میں ملک بھر کی دینی قیادت نے عہد کیا ہے کہ وہ ملک کی اسلامی و نظریاتی شناخت کو قائم رکھنے کیلئے وہ متحد ہیں اور متحد رہیں گے۔ دینی قیادت نے ملک میں 77ء کی طرز پر نظام مصطفیؐ تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ تحریک نظام مصطفی کا آغاز راولپنڈی سے کیا جائیگا جس کیلئے راولپنڈی، کراچی، پشاور، لاہور، گلگت میں نظام مصطفی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائیگا اور اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کیا جائیگا۔ قوم پنجاب اسمبلی سے حقوق نسواں کے نام سے پاس ہونے والے بل کو خاندانی نظام پر حملہ تصور کرتی ہے۔ حکومت کے دیئے بل کے مقابلے میں جلد قومی اسمبلی میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق بل پیش کریں گے۔ کانفرنس میں سینیٹر سراج الحق، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، ڈاکٹر ابوالخیر زبیرعلامہ امین شہیدی، ساجد میر، لیاقت بلوچ، حافظ حسین احمد، ابتسام الہی ظہیر، حافظ عاکف سعید، پیر سید ہارون گیلانی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، حافظ سبطین، مولانا امجد خان، مولانا عبدالمالک، پروفیسر محمد ابراہیم، میاں مقصود احمد، ڈاکٹر سید وسیم اختر، سید ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالغفار روپڑی، علامہ سید ثاقب اکبر، عبداللہ گل، عبدالرشید ترابی، پیر اعجاز ہاشمی، پیر محفوظ مشہدی، مولانا چراغ دین سمیت ملک بھر کی 35 دینی جماعتوں اور وفاق المدارس کے ناظیمین نے شرکت کی۔ علماء کرام اور دینی قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان جن عظیم مقاصد کیلئے حاصل کیا گیا انکے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ملک پر 68 سال سے سیکولر اور لبرل طبقہ قابض ہے جنہوں نے عوام سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے، ملک کے 20 کروڑ عوام کو غربت،مہنگائی، بے روز گاری سمیت مسائل کی دلدل میں پھنسا دیا ہے اور اب اسلام دشمن قوتوں کے اشارے پر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے دوٹوک الفاظ میں حکمرانوں کو خبردار کیا کہ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست ہے جس کے قیام کیلئے قوم نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد سیکولر اورلبرل ازم نہیں بلکہ نظام خلافت اور قرآن وسنت کے نظام کا نفاذ تھا۔نظریہ پاکستان کے خلاف سازشوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔ وزیراعظم کی طرف سے سیکولر پاکستان کا نعرہ اور بلاول بھٹو زرداری کی طر ف سے دینی جماعتوں کے خلاف سیکولر جماعتوں کے اتحاد کی تجویز نے ملک میںدین بیزار اور دین پسند قوتوں کے درمیان تفریق کر دی ہے۔ واضح ہوگیا حکمرانوں کا قبلہ واشنگٹن اور قوم کا مکہ مکر مہ ہے۔ دینی قیادت کو ذاتی اور جماعتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی نظریاتی شناخت کے دفاع کیلئے متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا نظریہ پاکستان اور آئین کی بالادستی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہوگا۔ قوم ملک کی اسلامی شناخت کو قائم رکھنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ حکومت فوری طور پر تحفظ خواتین بل واپس لے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس وقت امت، ملت پاکستان اور خاص طور پر دینی طبقہ اس جارحیت کا شکار ہے جس کی سرپرستی امریکہ کر رہا ہے۔امریکہ اسلام اور اس کے فروغ کیلئے کوشاںافراد اور اداروں کا خاتمہ چاہتا ہے۔مسلمان جنگ لڑنا چاہتا ہے نہ جنگ اس کی ضرورت ہے بلکہ اپنے معاشی حالات کی وجہ سے مسلمان جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مسلمان تو اس وقت خود جنگ زدہ ہے جس پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ مغرب اور یورپ اسلام کے معاشی نظام کو اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی ضد سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا امت کے مسائل کے حل کیلئے ایک تھنک ٹینک کی ضرورت ہے جو انشاء اللہ دینی قیادت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والا بل قرآن و سنت کے خلاف، آئین سے متصادم اور ہماری معاشرتی روایات کا دشمن ہے، حکومت کو یہ بل واپس لینا پڑے گا اور اب جو تحریک اٹھی ہے وہ ملک میں نظام مصطفیؐ کے نفاذ تک جاری رہے گی۔ حافظ محمد سعید نے کہا اسلام دشمن ہمارے پھولوں کو مسل رہے ہیں۔ حکمرانوں کو کہتے ہیں ملت کفر کے اشاروں پر ناچنا چھوڑ دیں اور ملک کو سیکولراور لبرل بنانے کے نعروں سے باز آجائیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا ملک کی دینی قیادت متحد ہوچکی ہے، عالم کفر نے ملت اسلامیہ کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔ تخت لاہور پر بیٹھے ہوئوں کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا قوم نے سیاسی قیادت کو ایک بار نہیں بار بار آزمایا ہے مگر عام آدمی کو جان و مال اور عزت کا تحفظ نہیں ملا۔ لوگ بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کر رہے ہیں۔ دینی جماعتیں نظام مصطفیؐ کیلئے متحد ہوجائیں تو اقتدار خود ان کی جھولی میں آگرے گا۔ نظام مصطفیؐ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ نظام مصطفیؐ کانفرنس میں شریک تمام سیاسی ودینی جماعتیں، دینی مدارس کی تنظیمات، ممتاز علماء کرام، مشائخ عظام اور نمائندہ خواتین گزشتہ اجلاس(15مارچ 2016ء منعقدہ منصورہ ، لاہور) کے تسلسل میں اعادہ کرتے ہیںکہ اسلام، نظریہ پاکستان، آئین پاکستان، جمہوریت،انسانی حقوق، مسلم معاشرہ اورخاندان کووفاق اور پنجاب حکومت کے اقدامات نے جس طرح کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اور جس طرح شریف حکومت نے معاشرے کو لبرل لائز کرنے کے عزم سے لے کر ممتاز قادری کوپھانسی پر چڑھانے تک مغرب اور این جی اوز کے ایجنڈا پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے، دینی قیادت مغربی ایجنڈے اور حکومتی اقدامات کی ایک مرتبہ پھر شدید مذمت کرتی ہے اور عہد کرتی ہے اسلام ، قانون اور آئینی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے حکومت کے اسلام دشمن اقدامات کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔ کرپٹ اشرافیہ سے نجات، کرپشن فری پاکستان اور نظام مصطفیؐ کے نفاذ تک اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔ نظام مصطفیؐ کانفرنس اعلان کرتی ہے حکومت کو تحفظِ ناموسِ رسالت ایکٹ میں کسی قسم کی ترمیم کی اجازت نہیں دے گی، ممتاز قادری کی پھانسی کو عدالتی قتل سمجھتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے اسلام آباد میں گرفتار مظاہرین کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کئے جائیں۔ ہم خواتین کے حقوق کے سب سے بڑھ کرحامی ہیں اور ان کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے مخالف ہیں، چاہے وہ گھر کے اندر ہو یا گھر سے باہر، ہم حکومت کویہ اجازت نہیں دیں گے وہ پنجاب اسمبلی کے پاس کردہ گھریلو تشدد کے بل کے ذریعے خاندانی وحدت کو توڑے اور خاندانی نظام کو تباہ کرنے کا باعث بنے۔ ہم اس بل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں ملک گیر سطح پر فحاشی اور عریانی کے فروغ کے لیے جومہم چلائی جارہی ہے اور بھارتی ثقافت کو پروموٹ کیا جا رہا ہے اس کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ نظام مصطفیؐ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے بھارتی ’’را‘‘ کے پکڑے جانے والے جاسوسوں اور دہشت گردوںکے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس حوالے سے حکومت کی مجرمانہ خاموشی قابل مذمت ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں دینی مدارس کے خلاف آپریشن بند کیا جائے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں جموں و کشمیر کو متنازعہ مسئلہ تسلیم کیے بغیر بھارت کے ساتھ کسی قسم کی دوستی اورڈپلومیسی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ کانفرنس بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ملک وقوم کے لیے قربانی دینے والے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے عدالتی قتل کی مذمت کرتی ہے۔ نظام مصطفی کانفرنس میں شریک تمام سیاسی ودینی جماعتیں، علماء ومشائخ اور خواتین نے فیصلہ کیا ہے کہ نظام مصطفیؐ کے قیام کے لیے قائم سٹیرنگ کمیٹی برقرار رہے گی اورایک بھرپور تحریک چلانے کے لیے تاریخوں کااعلان کریگی۔ صباح نیوز کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم پارلیمانی لوگ ہیں، بات کرنے کو تیار ہیں اور کریں گے، تا ہم مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو تحریک کو کوئی نہیں روک سکتا۔ تحفظ نسواں بل کی شقوں کو غیر اسلامی ثابت کریں گے، مذاکرات میں بیٹھیں ہم تجاویز دیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …