منگل , 19 ستمبر 2017

القاعدہ نے اپنا نام تبدیل کرلیا،نیا نام "حیۃ تحریرالشام”رکھا گیا ہے

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف اسلامی ممالک میں سرگرم وہابی دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے اپنا نام تبدیل کر لیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق القاعدہ نے اپنا نیا نام "حیات تحریرالشام”رکھا ہے جس کا مقصد خود کو داعش کے اعتدال پسند متبادل کے طور پر پیش کرنا ہے۔القاعدہ نے اس نئے نام سے گزشتہ ماہ شام کے صوبہ ادلیب کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کیا ہے، جس کے بعد ماہرین نے نام کی تبدیلی کا یہ حیران کن انکشاف کیا ہے۔

سابق وائٹ ہاؤس انسداد دہشت گردی ڈائریکٹر جوشوا جیلٹزر کا کہنا ہے کہ ” اس وقت دنیا میں داعش سب سے بڑی شدت پسند تنظیم ہے لیکن شام میں القاعدہ کی موجودگی اس وقت سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ داعش اس وقت شام و عراق میں پسپائی کا شکار ہو چکی ہے اور ایسے میں القاعدہ ایک نئے نام کے ساتھ اس کی جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ادلب میں اس نے کئی شدت پسند گروں کو اپنے اندر ضم کر لیا ہے اور جو ضم نہیں ہونا چاہتے تھے انہیں نیست و نابود کر دیا ہے۔” اسلامی ماہرین کے مطابق وہابی دہشت گردوں کو امریکہ اور اسرائیلی کی خفیہ اینجسیوں کی سرپرستی حاصل ہے اور یہی ایجنسیاں ان کے نام بدلنے اور ان کو توڑنے اور بنانے میں مصروف رہتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کے کئی اہلکار وہابی دہشت گرد تنظیموں پیشنماز کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔

اسلامی ممالک کو کمزور بنانے کے لئے داعش، القاعدہ اور دیگر وہابی دہشت گرد تنظیمیں امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں بہترین ہتھیار ہیں۔ لیبیا کے شہر بنغازی کی اہم مسجد سے حال میں ایک اہم پیشنماز ابو حفظ کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا اہم افسر ہے جو کئی عرصہ سے بنغازی کی جامع مسجد میں پیشنماز کرتا رہا ہے اور اس نے لیبیا کے سیکڑوں جوانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کرنل قذافی کے خلاف شورش میں بھی اس نے اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوج کیلئے مزید رقم مختص کرنے کا بل منظور

واشنگٹن مرک امریکی انتظامیہ نے فوج کے لیے مزید 700ارب ڈالر مختص کرنے کا نیا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے