پیر , 1 مارچ 2021

مجھے کالی بھیڑ کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے:وقار یونس

waqar1

لاہور: قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کے بورڈ حکام پرلفظی باؤنسرز کا سلسلہ برقرار ہے، انھوں نے کہاکہ پی سی بی میں نان کرکٹرز کا راج ہے۔
میرے ساتھ انتخاب عالم کی رپورٹ کا بھی لیک ہونا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ بورڈ میں کافی بڑی خرابی آ چکی، جس نے یہ جرم کیا اسے سزا ملنی چاہیے، مجھے نکالنا ہے تو بتا دیں چلاجاؤں گا، ایسا ہی چلتا رہا تو2 سال بعد کوئی اور کوچ شکایت کررہا ہوگا، مجھے کالی بھیڑ کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے، ہر کوئی سسٹم کی خرابی کی بات کرتا ہے لیکن بہتری کے لیے کوئی آگے نہیں آتا، جب ٹیم افغانستان سے ہارنا شروع ہو جائے گی پھر ہمیں عقل آئے گی۔
وقار یونس نے کہاکہ کچھ لوگ اٹھ کر مجھے کالی بھیڑ قرار دیتے ہیں، ایسا کہنے والوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، میں کرکٹ بورڈ میں سفارش کے ذریعے نہیں آیا بلکہ ہیڈ کوچ کے لیے باقاعدہ درخواست دی، نجم سیٹھی نے میرا انٹرویو کیا اور میرے پلان سے اتفاق کرتے ہوئے مجھے چیف کوچ کی اہم ذمہ داری سونپی، البتہ ورلڈ کپ 2015 کے بعد سے ان سے کبھی نہیں ملا، ایک سوال پر وقار یونس نے کہاکہ ورلڈکپ کے حوالے سے رپورٹ لیک ہونا بہت بڑا جرم ہے، یہ حرکت جس نے بھی کی اسے سزا ملنی چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو آخری ٹی ٹوئنٹی میں شکست دیدی

نیپئر: پاکستان نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کو 4 وکٹ …