پیر , 23 اکتوبر 2017

خواتین اور شدت پسند تنظیمیں

(مدیحہ عدن )
’’سوشل میڈیا کے ذریعے میرا ذہن شام میں ہجرت کرنے کی جانب گیا تھا۔ میں سوشل میڈیا بہت استعمال کرتی تھی اور وہاں کچھ پیجز دیکھے، جن میں مجھے خلافت کے بارے میں جان کر بڑا اچھا لگا، اور مجھے لگا کہ اِس کا حصہ بننا چاہیے۔ پھر میرا رابطہ داعش جیسی تنظیموں سے فیس بک کے ذریعے ہوا، جہاں میسجز کے ذریعے میرا ہجرت کرنے کا ذہن بنا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہجرت ہونی چاہیے تو میں ہجرت کرنا چاہتی تھی، ہجرت کےلیے مجھے لاہور بلایا گیا اور حیدرآباد سے میں لاہور آئی لیکن لاہور آکر مجھے خودکش حملہ کرنے کے لیے کہا گیا تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ میں تو شام میں ہجرت کےلیے اپنا گھر بار چھوڑ کر آئی تھی لیکن پھر مجھے امیر کی اطاعت کے سبب ماننا پڑا۔‘‘

یہ کہانی ہے انیس سالہ لڑکی نورین لغاری کی جس کا چرچا کچھ عرصہ پہلے ہمارے میڈیا میں بہت رہا لیکن عام روایتی خبر کی طرح کچھ ہفتوں بعد یہ خبر بھی بوسیدہ ہوئی اور ہمارے ذہنوں سے نکل گئی؛ اور تازہ خبروں نے جگہ لے لی۔ آج کل کچھ ایسی ہی خبریں میڈیا پر دوبارہ گردش کرنے لگی ہیں۔ ہمارا خطہ مسائل سے بھرا پڑا ہے اور کبھی کبھی تو خود مسائل کی لسٹ تیار کرکے اِن کی درجہ بندی کرنی پڑتی ہے کہ پہلے کس مسئلے کی خبر لی جائے اور کس کو بعد کےلیے چھوڑا جائے، اور یہ کچھ مسائل کو پسِ پردہ ڈالنا ہی اور بڑے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

ایک کہاوت ہے ’نیم حکیم خطرہ جان‘ کچھ ایسا ہی معاملہ اسلام کے بارے میں آج کل کے دینی رحجان رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ یعنی کہ نیم سمجھ خطرہِ اسلام۔ آج اِس کہاوت کو تھوڑا بدل کر سمجھتے ہیں۔ آج کل اسلام کے نام پر اپنی ادھوری سمجھ کے ساتھ دوسروں پر کفر کے فتوے لگانا، قتل و غارت، شریعت کے نام پر لوگوں کو بغاوت کےلیے اکسانا بہترین مثالیں ہیں، جس میں اسلامی احکامات کا استعمال جذبات بھڑکانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ عقل و فہم سے عاری یہ فکر، نیم سمجھ بوجھ جہالت ہی ہے۔ ہماری جہالت ہی داعش، ٹی ٹی پی اور بوکو حرام جیسے شدت پسند گروہوں کےلیے بہت آسان ہدف ثابت ہوئی ہے۔

اوپر ایک مثال نورین لغاری کی دی گئی جس کے کم عمر ذہن کےلیے خلافت ہی سب سے پرکشش وجہ بنی۔ بہت عرصہ پہلے مجھے ایسی ہی ایک شدت پسند سوچ رکھنے والی خاتون سے بات کرنے کا موقع ملا اور اُن کے نظریات جان کر مجھے کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی۔ مجھے اِس نکتے نے مجبور کیا کہ میں اِس بارے میں دریافت کروں کہ آخر کار مسلمانوں کےلیے اِس لفظ میں اتنی کشش کا عنصر کیوں ہے کہ اُس کے بارے میں سنتے ہی منہ میں پانی بھرآتا ہے اور وہ کچھ بھی کرنے کےلیے تیار ہوجاتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب اسی مسلمان کی توجہ توحید، نماز، صلہ رحمی یا دیگر ارکانِ اسلام کے بارے میں دلائی جاتی ہے تو اُسے اپنے اوپر بڑا سخت بوجھ معلوم ہوتا ہے اور وہ کان جھاڑتے ہوئے کسی اور بات کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔

اسی طرح ’جہادی دلہنیں‘ ایک اصطلاح سوشل میڈیا پر بہت سرگرم رہی، جس نے بہت سی نومسلم عورتوں کو شام میں ہجرت کرنے پر اکسایا۔ ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹا گرام پر شیئر ہونے والی پوسٹوں میں ایسی ہی پرکشش اصطلاحات کے ذریعے خواتین کے ذہنوں کو تیار کیا گیا۔ جدید میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے داعش جیسی تنظیم بہت تیزی سے عام دینی رحجان رکھنے والے ذہنوں کی کشش کا سامان بنی اور خلافت کا نعرہ لگا کر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اپنی جانب مائل کیا گیا۔

ہر مسلمان کے دل میں خلافت کےلیے کشش بہت فطری سا جذبہ ہے اور اِس کی سب سے بڑی وجہ شاندار اسلامی تاریخ ہے جس میں خلافت کے سبب مسلمان تمام دنیا پر غالب رہے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے کچھ ذہنوں کےلیے یہ کشش ہی ایسا عنصر بنی جس کا استعمال بہت خطرناک کیا گیا۔ اپنے تھوڑے علم اور زیادہ جذبات کے عنصر کو غالب رکھتے ہوئے ایسی شدت پسند تنظیموں نے خلافت کو ایک پُرکشش افسانے کے طور پر پیش کیا اور سوشل میڈیا پر تصویر کا ایسا رخ نمایاں کیا جس میں عورتیں ایک اسلامی ریاست میں بہادر مردوں کے سائے تلے ایک مضبوط قلعے میں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہیں اور جہاں زندگیاں اسلام کے قوانین کے عین مطابق بسر کی جارہی ہیں۔

حالانکہ حقیقت اِس سے کہیں مختلف اور بھیانک تھی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ آپ ڈرامے کے کرداروں کو ایک اچھے لاؤنج میں بیٹھا کر چائے کا کپ اُن کے ہاتھ میں تھمائے خوش گپیوں میں مصروف کردیں۔ اور ان لمحات کو ایک ایسے زاویے سے پیش کریں کہ ہر شے مکمل زندگی کی عکاسی کررہی ہو۔ جب کہ تصویر کا یہ چمکتا رُخ اصل میں نامکمل اور ادھورا ہے، پس پردہ دھوکے اور فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

شدت پسند تنظیم نے خواتین کو حسین خواب دکھا کر جو پروپیگنڈا کیا وہ عورتوں کےلیے بہت کشش کا باعث بنا۔ کئی طرح کے وعدے اور دعوے کرکے نام نہاد اسلامی ریاست میں رہنے والی خواتین کو ایک ایسی سرگرم اور باعمل مسلمان عورت کا حسین خواب دکھایا گیا جہاں وہ مختلف خیر کے کام کرکے معاشرے میں اپنا بہترین کردار بخوبی نبھاسکتی ہیں۔ جہاں اُن کو ایسا معیاری اور پرسکون ماحول میسر کیا جائے گا جس میں اُن کی زندگی خوش و خرم اور اسلامی احکامات کے سائے تلے بہترین گزر سکتی ہے، وہ اسلامی ریاست میں آرام سے شادی کرکے ایک ہیرو نما شوہر کے ساتھ زندگی کا سفر پُرسکون گزار سکتی ہیں۔

وہ اپنے بچوں کو ریاستی کنڈرگارٹن میں چھوڑ کر عقائد سے متعلق مسائل کے بارے میں معلومات اور دینی تعلیم بھی حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ ایک اسلامی ریاست میں اپنی ہی طرح کی دوسری مسلمان خواتین سے منسلک رہ کر اپنے ایمان کو مضبوط اور مستحکم کرسکتی ہیں جس سے انہیں دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوسکے گی۔

نورین لغاری جیسی کئی خواتین ہیں جن کی شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کی وجہ یہی وعدے اور دعوے بنے جن کا خواب سوشل میڈیا پر اُن کو دکھایا گیا۔ اپنے ذہن میں ایک بہترین اسلامی معاشرے کی تصویر سجائے ایسی خواتین ہجرت کی خاطر گھروں سے نکلیں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اُن کا خاندان سے یوں بغاوت کرکے گھروں سے نکل جانا ہی اصل میں اسلامی طریقے کے خلاف تھا۔ ایسے لوگوں کی مثال دیتے ہوئے کسی نے کیا خوب کہا، ’’ہم شریعت لے کر آئیں گے، چاہے ہمیں شریعت کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔‘‘

اپنے محافظوں کا سائبان چھوڑ کر ایک ایسی خطرناک کھائی میں گرنا اُن کی لاعلمی اور شدید ذہنی پسماندگی کو عیاں کرتا ہے جس کا شکار پوری دنیا میں بہت سی خواتین بنیں۔ لیکن وہاں پہنچ کر جب انہوں نے حالات کا جائزہ لیا تو اُن کو احساس ہوا کہ جن مردوں کی وہ دلہن بننے آئیں تھیں، اُن کی زندگی تو تین چار مہینوں سے زیادہ کی نہیں۔ ایک ایسی سرزمین جہاں جنگ کا میدان سجا ہے، وہاں سکون کے علاوہ سب کچھ میسر تھا اور پھر جیسے اسلامی احکامات کی وہاں دھجیاں اڑائی جاتی تھیں اور خلافت کے نام پر ایسے ایسے وحشیانہ تشدد کیے جاتے تھے، وہ کسی صورت اِس مکمل تصویر کی عکاسی نہیں کرتے جس کا خواب سجائے انہوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا تھا۔

معاشرہ، ریاستی اداروں اور حکمرانوں کے خلاف مسلح بغاوت کی سوچ پیدا کرکے جس طرح سے شدت پسند سوچ کو پروان چڑھایا جارہا ہے، اُس میں سب سے بڑی غلطی خلافت کو سمجھنے میں کی گئی ہے۔ خلافت اللہ کی جانب سے ایک تحفہ ہے جو تاریخ میں بھی تب تک مسلمانوں کے پاس رہا جب تک قوم اپنے اعمال کے باعث زوال اور پستی کا شکار نہیں ہوئی۔

جس طرح سے قومِ بنی اسرائیل کا وقار اور بلندی اللہ نے چھین کر اُن پر پستی طاری کردی، اُس میں ہمارے سمجھنے کےلیے بہت سی باتیں ہیں۔ عین وہی اب مسلمان قوم بھی کررہی ہے جو شدت پسندی کی راہ اختیار کیے یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ تحفہ اللہ کی طرف سے ہے جو تب ہی مل کر رہے گا جب اِس قوم میں بہترین خواص پیدا ہوجائیں، ورنہ ایسی تنظیمیں اور تحریکیں اٹھیں گی اور اپنی ہی خامیوں اور کوتاہیوں کے باعث دم توڑ دیں گی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

اے عظیم سازشی تیرا شکریہ

(وسعت اللہ خان) یقیناً سترہ اکتوبر کو سر سید احمد خان کی دو صد سالہ ...