جمعرات , 19 اکتوبر 2017

بادشاہت کی منتقلی کیلئے بن سلمان کا منصوبہ شورائے بیعت کے حوالے

عمان (مانیٹرنگ ڈیسک) اردن میں سعودی سفیر پرنس خالد بن فیصل بن ترکی السعود نے کہا ہے کہ محمد بن سلمان نے بادشاہی کو منتقل کرنے کے لیے اپنے منصوبے کو شورائے بیعت کے حوالے کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی بادشاہ شاہ سلمان کچھ ہفتوں میں سعودی بادشاہت اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو دے دیں گے۔سعودی سفیر کے مطابق محمد بن سلمان اپنے اس منصوبے کے تحت سعودی بادشاہ، اور خادم الحرمین شریفین کا لقب حاصل کر لیں گے۔

محمد بن سلمان نے یہ منصوبہ ایسے حالات میں شورائے بیعت کے حوالے کردیا ہے کہ عالمی برادری کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ سعودیہ میں دینی حکومت سے فاصلہ اختیار کرینگے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ بادشاہ کو خادم حرمین شریفین کے لقب سے بھی دوری اختیار کرنی ہو گی۔

سعودی ولی عہد اور بہت جلد سعودی بادشاہ بننے والے شہزادہ محمد بن سلمان جو گذشتہ ماہ اگست میں 32 سال کے ہوئے ہیں، نے یہاں تک پہنچنے کیلئے بہت کچھ کیا۔

اپنے مخالف شہزادوں کے اغوا اور ان کو قید کرنے سے لے کر اپنی حریف تجارتی کمپنیوں کی بندش، اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کو پروان چڑھانے، سابق ولی عہد پرنس محمد بن نایف کے اہم ساتھیوں اور حمایتی شہزادوں کو ان کی ذمہ داریوں اور عہدوں سے برخواست کروانے، پرنس محمد بن نایف کو ولی عہدی سے برطرف کروانے اور سینکڑوں ارب ڈالرز کے ذریعے مغربی ممالک اور ان کے میڈیا کی حمایت خریدنے، اپنے ملک کے سرگرم نامور صحافی، ادباء، مصنفین اور علماء دین کے ضمیر خریدنے تک جنہوں نے بن سلمان کو مسیحا کی طرح پیش کیا اور ان حضرات میں سے جو کوئی ایسا نہیں کرتا وہ غائب ہوجاتا تھا۔

اس کے علاوہ ہزاروں یمنی معصوم شہریوں کے قتل عام اور اپنے ہی ملک کے صوبے قطیف میں بے گناہ شہریوں کے خون بہانے تک ان کی زندگی ظلم و ستم کی داستانوں سے لبریز ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نتن یاہو کے بیان پر وزیرخارجہ جواد ظریف کا ردعمل

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے صیہونی حکومت کے وزیراعظم ...