پیر , 8 مارچ 2021

اب اسمارٹ فون ایپ سے آنکھوں کا علاج ممکن

opticians-clinic-that-fits-a-pocket-670

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)افریقہ کے دور دراز اور غریب ممالک میں آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن برطانوی ڈاکٹر نے اس مسئلے کا حل نکالتے ہوئے ایسا ایپ تیار کرلیا ہے جس کی مدد سے انتہائی سستا علاج ممکن ہو سکے گا۔برطانوی ڈاکٹراینڈریو اس کام کے لیے اسمارٹ فون کو آئی کے معائنہ ٹول میں بدل دیا اور ایسا ایپ تیار کرلیا جس کی مدد سے مریض کی بیماری کا نہ صرف پتہ چلایا جا سکتا تھا بلکہ اس کا علاج بھی ممکن ہوگیا۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 3 کروڑ سے زائد لوگ نابینا ہیں لیکن ان میں سے 80 فیصد کا علاج ممکن ہے تاہم علاج کی سہولتوں کے فقدان سے ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کینیا اور دیگر غریب ممالک میں زیادہ تر نابینا لوگ ’کیٹا ریکٹس اور ریفریکٹو‘ کا شکار ہوتے ہیں جب کہ ان بیماریوں کا علاج کرکے بینائی کو لوٹایا جاسکتا ہے لیکن سہولتوں کی کمی کی وجہ سے یہ لوگ علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، اس مشکل کو سامنے رکھ کرڈاکٹر اینڈریو اور ان کی ٹیم نے پورٹیبل آئی ایگزامینیشن کٹ ( پیک) ایپ کو متعارف کرایا جس کی مدد سے انہوں نے صرف 9 دنوں میں 21 ہزار بچوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا اور اب وہ مشرقی کینیا میں مزید 3 لاکھ افراد کا معائنہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

opticians-clinic-that-fits-a-pocket3-670

ڈاکٹر اینڈریو کا کہنا ہے کہ پیک میں حرف ای کو فون کی اسکرین پر مختلف شکلوں میں دکھایا جاتا ہے اور مریض اسے دیکھ کر حرف ای کی سمت کے مطابق اپنی آنکھوں کی تکلیف کا اظہار کرتے جس کے مطابق ایگزامنر بیماری کا تعین کرلیتا ہے جب کہ اس ٹیسٹ کے نتائج فوری طورپر دستیاب ہوتے ہیں بلکہ مریض اسے ایک میسج کی صورت میں اپنے موبائل پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایپ کی بدولت آنکھ کے علاج کی روایتی اورمہنگے آلات سے نجات مل گئی ہے اور مزید سہولت کے لیے ڈاکٹر اینڈریو کی ٹیم مقامی لوگوں کو تربیت دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ بھی دیکھیں

لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں تو اپنی چیخ آئس لینڈ تک پہنچائیں!

آئس لینڈ سیاحوں کے لیے اپنی تشہیر کرتا رہتا ہے اور اب اسی مہم کے …