جمعرات , 14 دسمبر 2017

پاکستان کے خلاف” گریٹ گیم

(عارف بہار)
برطانیہ کے اخبار فنانشل ٹائمز نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں در آنے والی کشیدگی کو اس کے مستقبل پراثرات کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے ۔مضمون نگار نے یہ رپورٹ واشنگٹن سے بھیجی ہے اور اس کی تیاری میں امریکہ کے سرکاری اداروں کے مائنڈ سیٹ کو با آسانی پڑھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ جواباً پاکستان نے بھی کچھ سخت اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پالیسی اور سوچ کے تضادات کے باقاعدہ اختلافات میں ڈھلنے کا پتا دے رہی ہے۔اگر آنے والے حالات کی یہ حقیقی تصویر ہے تو پھر دونوں ملکوں کا تعلق باقاعدہ دشمنی میں ڈھلتا ہوا نظر آتا ہے ۔پھر حقانی نیٹ ورک ،جیش محمد اور لشکر طیبہ محض بہانہ اور کہوٹہ اصل نشانہ ہے ۔ یہ مطالبات کی پہلی پرت ہے ۔جس کے بعد یہ سفر رکنا نہیں بلکہ بتدریج آگے بڑھنا ہے ۔اس تصور کوفلسفہ سازش اور سازشی تھیوری کہنے والوں کی کمی نہیں مگر عراق ،لیبیا کی پریشاں حالی ایک اور ہی کہانی سنارہی ہے ۔دونوں ملک اسرائیل کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں تھے اور ماضی میں اسرائیل کو چیلنج کرتے بھی رہے ۔عراق کا ایٹمی پروگرام شروع ہوتے ہی تباہی کا شکار ہوا ۔اسرائیلی جنگی جہاز آناَ فاناَ فضا میں نمودار ہوئے اور عراق کی ایٹمی تنصیبات کو ملبے کا ڈھیر بنا گئے ۔کوئی ایف آئی آر درج ہوئی نہ عالمی سطح پر کوئی موثر صدائے احتجاج بلند ہوئی ۔

عراق کی سا لمیت اورخود مختاری کا ماتم گسار بھی کوئی نہیں تھا ۔عقوبت اور عتاب کا یہ سلسلہ آنے والے ماہ وسال میں بھی ختم نہ ہو سکا۔ ایٹمی پروگرام پر خود سپردگی کے باوجود لیبیا اور قذافی کا جو انجام ہوا وہ عبرت کی داستان ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لئے جس قربانی کے بکرے کی تلاش میں تھا یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی صورت میں وہ آسان ہدف اسے میسر آگیا ہے اور اس” سینڈ بیگ” سے مکے بازی کے کئی مظاہرے بیک وقت جاری ہیں ۔انہی میں ایک مظاہرہ اس وقت ہو ا جب پاکستان نے سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی تشہیری مہم پر احتجاج کیا ۔ پہلے جنیوا میں پاکستان کے مندوب نے سوئس حکومت کو خط لکھ کر اس تشہیری مہم میں مدد دینے پر سخت احتجاج کیا اور اب اسلام آباد میں سوئس سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے اپنے جذبات سے آگاہ کیا گیا ۔سوئس سفیر کو بتایا کہ پاکستان کے خلاف سوئٹزر لینڈ کی سرزمین کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

سوئٹزر لینڈ اپنی سرزمین کو کسی خود مختار ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ۔ آزادبلوچستان کا اشتہار جنیوا میں الیکٹرانک اشتہاری بورڈز اور بسوں پر لگائے گئے اور سوئس اشتہاری ایجنسی اے جی بی ایس اے ان اشتہاروں کی نمائش میں ملوث بتائی جاتی ہے ۔اس دوران انڈین ایکسپریس نے بہت اہتمام سے یہ خبر شائع کی ہے کہ واشنگٹن میں ورلڈ مہاجر کانگریس نے وہائٹ ہائوس کے سامنے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور ان مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک قرار دیا جائے ۔اس مظاہرے میںبلوچ ،مہاجر ،افغانی اور بھارتی باشندوں نے شرکت کی ۔ سوئٹزر لینڈ اور واشنگٹن میں ہونے والی ان سرگرمیوں میں گہری مماثلت ہے ۔دونوں سرگرمیوں کا مشترکہ ہدف پاکستان کا استحکام ،یک جہتی ،بین الاقوامی ساکھ ہے اور ان سرگرمیوں کا ریموٹ بھی کسی ایک ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے ۔

ظاہر ہے وہ ہاتھ بھارت کے سوا اور کس کا ہو سکتا ہے ۔بھارت اور پاکستان اس وقت مخاصمت اور مخالفت کی کیفیت میں ہیں مگر حیرت ان مغربی ملکوں پر ہورہی ہے جو دہشت گردی کے نام پر حد درجہ حساسیت کا شکار ہیں ۔انہیںکسی فرد اور ملک پر تشدد میں ملوث ہونے کا شائبہ ہو تواسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے۔اپنے ملکوں سے ایسے عناصر کو ڈی پورٹ کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرتے اگر کوئی اس ریکارڈ کے ساتھ ان ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو یہ اسے مار بھگاتے ہیں۔پاکستان کے معاملے میں مغربی ممالک دوہری پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔الطاف حسین کراچی اور حیدرآباد میں بدترین تشدد میں ملوث رہے ہیں ۔

کئی عشروں سے اس ایک شخص کے حکم پر زندگی اور موت کے فیصلے ہوتے رہے۔اس تشدد میں ہزاروں بے گناہ ڈاکٹر ،انجینئر ،پروفیسر ،وکیل ،سیاسی کارکن جان سے گزر گئے مگر الطاف حسین برطانیہ کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدت سے وہاں موجود ہیں ۔کچھ یہی حال بلوچ شدت پسندوں براہمداغ بگٹی ،حربیار مری اور میردائود سلیمان کا ہے جن کی مسلح تنظیمیںبلوچستان میںبدترین قتل عام اور حکومتی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیںمگر بھارت کے یہ ”اچھے طالبان ” دہشت گردی کے خلاف سراپا جنگ اور انسانی حقوق کے عظیم علمبردار یورپ اور امریکہ کے پنگھوڑوں میں جھول رہے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس وقت گریٹ گیم کے گھن چکر میںپھنس گیا ہے اور پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔

پاکستان پر اچھے اور بُرے طالبان کی تفریق کا الزام لگانے والے اپنے پروں کے نیچے الطاف حسین سے براہمداغ بگٹی تک ”اچھے طالبان ” کی ایک پوری فوج کو چھپائے ہی نہیں بلکہ سجائے ہوئے ہیں۔اس دوہرے معیار کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟۔یہ آپشن انہی پر چھوڑ دینا چاہئے۔بشکریہ مشرق نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

بات تو درست ہے لیکن اردگان کے منہ سے اچھی نہیں لگتی

(تسنیم خیالی) بیت المقدس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیلی دارالحکومت قرار ...