جمعرات , 19 اکتوبر 2017

سعودی عرب روہنگیا مسلمانوں کا ساتھ کیوں نہیں دے رہا؟

(تسنیم خیالیؔ)
دہائیوں پر مشتمل ایک عرصے سے میانمار کی حکومت روہنگیا کے نام سے مشہور مسلم اقلیت کی نسل کشی کررہی ہے اور مسلمانوں کو میانمار سے فرار ہونے پر مجبور کرتی آرہی ہے۔

دہائیوں قبل روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب منتقل ہوئی، یہ دور تھا سعودی فرمانروا شاہ فیصل کا ان کے دور میں 5.2لاکھ روہنگیا مسلمان سعودی عرب میں جابسے۔

حالیہ دنوں میں بھی روہنگیا مسلمانوں پر شب خون مارا جارہا ہے اور تقریباً 5لاکھ روہنگیامسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔سعودی عرب کی بات کی جائے تو رواں ہفتے شاہ سلمان نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے صرف 15ملین ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہےجوکہ سعودی عرب کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے انتہائی کم رقم ہے ،یہی نہیں اس چھوٹی سی امداد سےظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب روہنگیا مسلمانوںکاساتھ دینے سے خاص دلچسپی نہیں رکھتا۔

اب سوال یہ ہے کہ سعودی عرب روہنگیا مسلمانوں کا ساتھ کیوں نہیں دے رہا؟آسان لفظوں میں سوال کا جواب ہے تیل۔ سعودی عرب اس وقت چین کو تیل فراہم کرنیوالے ممالک میں شامل ہے اور اس تیل کو چین تک پہنچانے میں میانمار کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

سعودی عرب اپنا تیل خلیج بنگال تک لانے کے بعد وہاں سے ایک پائپ لائن کے ذریعے چین تک پہنچاتا ہے، یہ پائپ لائن میانمار کےصوبہ ’’اراکان ‘‘سے شروع ہوتی ہے (جوکہ روہنگیامسلمانوں کا صوبہ ہے )اور میانمار کی سر زمین سے گزرتے ہوئے ،میانمار سے جُڑے چینی صوبے ’’یونان‘‘میں ختم ہوتی ہے۔ پائپ لائن کی کل لمبائی 771کلومیٹر ہے جس کے ذریعے سعودی عرب چین کو 2لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرتا ہے۔

اس پائپ لائن کے ذریعے صرف سعودی عرب کا تیل ہی نہیں بلکہ دیگر عرب ممالک کا تیل بھی چین کو فروخت کیا جاتا ہے، البتہ سعودی تیل کا حصہ اس پائپ لائن میں نصف کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کو تیل چین تک پہنچانے میں میانمار کی ضرورت ہے اور میانمار ہی کی حکومت اس پائپ لائن کو سکیورٹی فراہم کرتی ہے ۔

پائپ لائن کے ذریعے چین کو تیل کی ترسیل کئی سالوں کی تاخیر کے بعد گزشتہ اپریل میں شروع ہوئی۔ برما نام کی اس پائپ لائن کیساتھ ایک اور گیس پائپ لائن بھی بچھائی گئی ہے جو روہنگیا مسلمانوں کےصوبہ’’اراکان‘‘میں موجود قدرتی گیس کو چین تک لے جاتی ہے۔ موجودہ صورت حال اور تیل کے اس کاروبار کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ سعودی عرب روہنگیا مسلمانوں کی نصرت کبھی نہیں کریگا کیونکہ سعودی عرب کیلئے اب تیل مسلمانوں کے خون سے بھی زیادہ قیمتی اور تیل کی فروخت مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون کو روکنے سے بھی زیادہ ضروری ۔

یہ بھی دیکھیں

کیا امریکا، شام میں اعلیٰ روسی فوجی افسران کی ہلاکت میں ملوث؟

(رابرٹ فسک) روسی ایئرفورس دو سال قبل شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی ...