اتوار , 7 مارچ 2021

ہر آنے والی حکومت اپنی مرضی سے قانون سازی کرتی ہے، چیف جسٹس

news-1441863202-4687_large

اسلام آباد (نامہ نگار) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ قانون کو کھلونا بنا کر رکھ دیا گیا ہے، جو حکومت آتی ہے اپنی مرضی کی قانون سازی کرتی ہے، ذاتی مفاد کیلئے آئین میں کی گئی ترامیم سے تباہی ہوتی ہے۔ قوانین میں ترمیم ریاست اور عوام کی بھلائی کیلئے ہونی چاہئے۔ سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی کے الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت ہوتے ہیں اور اسی طرح قانون کے مطابق خواتین کی نشستیں دی جاتی ہیں، وزیراعظم اور صدر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت ہوتا، ہم نے وزیراعظم اور صدر کے الیکشن کو دیکھتے ہوئے خفیہ راے شماری کے تحت کرانے کا فیصلہ کیا، خفیہ رائے شماری جمہوریت کا ستون ہے، اسی طرح قومی و صوبائی اسمبلی میں جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، سپیکر قومی اسمبلی بھی سیکرٹ بیلٹ کے تحت منتخب ہوتے ہیں، آئین کے آرٹیکل 40-A میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا کوئی قانون موجود نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کو کھلونا بنا کر رکھ دیا گیا ہے، جو حکومت آتی ہے اپنی مرضی کی قانون سازی کرتی ہے، اسلام میں خفیہ رائے شماری کا کوئی قانون نہیں، سیکرٹ بیلٹ کا قانون مغر بی قانون سے لیا گیا ہے، 2013ء سے 2016ء تک یہی بات چل رہی ہے کہ انتخابات سیکرٹ بیلٹ کے تحت ہوں یا شو آف ہینڈ کے تحت، حکومتیں اپنی سہولت کیلئے قانون بناتی ہیں، 2013ء میں ایک قانون بن گیا اسکو پھر چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ان ترامیم کوچھیڑنے کی ضرورت کیا تھی؟ کوئی فرد بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں، ایک پارٹی کہتی بدنیتی ہے دوسری کہتی خلوص نیت ہے، قانون بنانے والوں کے پاس طاقت ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے قوانین بنائے جائیں۔ دنیا میں قوانین میں ترمیم عوام اور ریاست کی بہتری کیلئے کی جاتی ہے یہاں اپنے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے قانون سازی ہورہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …