منگل , 17 اکتوبر 2017

یورپی یونین کی نمائندہ برائے خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسیز فیڈریکا موگرینی کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: 16جون 1973ء
جائے پیدائش: ایطالوی دار الحکومت روم
والد : فلافیو موگرینی (فلم ڈائریکٹرتھے)
شریک حیات : میتھیو ریسبانی
بچے: 2بیٹیاں (کترینا اور مارٹا)
تعلیم : ’’روما سابینزا‘‘یونیورسٹی سے سیاسیات کی سند حاصل کرچکی ہیں، علاوہ ازیں سیاسی فلسفے میں بھی ’’اسلام میں دین اور سیاست کا ایک دوسرے سے تعلق‘‘کے موضوع پر ڈپلومہ حاصل کرچکی ہیں۔

عملی زندگی:
2001ءمیں موگرینی بائیں بازو کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر اطالوی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں،اور سیاسی ایگزیکٹوکونسل میں خدمات سر انجام دیں اور پھر پارٹی کی غیر ملکی معاملات کی کوارڈینیٹر بن گئیں، موگرینی کو عراق ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے معاملا ت سونپے گئے۔ اس کے بعد موگیرنی نے یورپین سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پھر قومی سوشلسٹ پارٹی میں چلی گئیں۔

2008ءمیں موگیرنی اطالوی صوبہ گوینیٹوکی رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ موگرینی نے اطالوی سینٹ میں بھی خدمات سر انجام دی ہیں ،وہ سینیٹ کی دفاعی کمیٹی سے منسلک تھیں۔

موگرینی ایک بار پھر اطالوی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی جس کے بعد انہیں یورپی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی ملی۔ اس کے بعد موگرینی نے کچھ عرصے کیلئے اپنی سیاسی سرگرمیاں ترک کردی۔

2013ءکو موگرینی کی قومی اسمبلی میں واپسی ہوئی۔ جہاں وہ دفاعی کمیٹی کی رکن تھی ،اُسی سال اطالوی وزیر اعظم میتھو ینزی نے موگرینی کو اطالوی وزیر خارجہ مقرر کیا،اور اس طرح موگرینی اس منصب پر فائز سب سے کم عمر اطالوی شخصیت بن گئیں۔

جولائی 2014ءمیں یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے موگرینی کو یورپی یونین کی نمائندہ برائے خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسیزمقرر کیا گیا۔
2015ء میں ایران کیساتھ امریکہ، برطانیہ،فرانس ،روس،چین اور جرمنی کےطے پانیوالے جوہری معاہدے میں موگرینی کا اہم کردار تھا اور اس معاہدے سے پہلے ہونیوالی بات چیت کے طویل سلسلے میں موگرینی نے بھرپور کوشش کی تھی کہ یہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے ۔ موگرینی نے اس معاہدے کے بعد ہمیشہ اس بات سے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی یا اس معاہدے کی منسوخی دنیا بھر کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

آج بھی موگرینی امریکہ کے مقابلے میں اس معاہدے کا دفاع کررہی ہیں اور معاہدے کی منسوخی سے خبردار کر رہی ہیں۔ موگرینی کی نظر میں ایران اس معاہدے پر پوری طرح سے عمل کررہا ہے اور اس معاہدے میں ایران پرعائد الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے رنگین جھوٹ

(تسنیم خیالیؔ) جھوٹ کے حوالے سے میں نے کئی جملوں میں ’’سفید جھوٹ‘‘ کا محاورہ ...