منگل , 17 اکتوبر 2017

شاہ سلمان کا دورہ روس کے حوالے سے دلچسپ معلومات

سعودی بادشاہ کے پرتعیش دورہ روس کی ایک جھلک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted by Iblagh News on Sonntag, 8. Oktober 2017

(تسنیم خیالیؔ)
سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بیرونی دورے اپنے اخراجات اور طریقہ کار کے حوالے سے انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں،ان دوروں سے واضح ہوتا ہے، شاہ سلمان کسی قدر شاہ خرچ شخص ہیں جبکہ ان کی عوام بدترین مالی صورت حال سے گزر رہی ہے۔

حال ہی میں شاہ سلمان کا دورہ روس بھی شاہ سلمان کی شاہ خرچیوں کی نشاندہی کرتاہے ۔اس حوالے سے مشہور کاروباری امریکی اخبار’’بلومبیرگ‘‘نے انکشاف کیا ہے کہ شاہ سلمان نے دورہ روس پر اپنے ساتھ 1500افراد لے گئے تھے اور اپنے ساتھ ایک ’’الیکٹرک سیڑھی ‘‘بھی لے گئے تھے جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہے(یہ وہی سیڑھی ہے جس کے ذریعے شاہ سلمان ہوائی جہاز سے اترنے کی کوشش کررہے تھے جو بیچ راستے میں رُک گیا تھا اور شاہ سلمان کیلئے بے عزتی کا باعث بنا۔)

طیارہ روزانہ کی بنیاد پر ماسکو آتا تھا جس پر شاہ سلمان اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کیلئے غذائی مواد لیا جاتا تھا،بلومبیرگ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر شاہ سلمان کی روس میں موجودگی کے دوران 800کلوگرام غذائی مواد سعودی عرب سے روس پہنچایا گیا۔

بلومبیرگ نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وفد اپنے ساتھ معروف عربی کافی ’’قہوہ‘‘ تیار کرنیوالے ماہر افراد کو بھی ساتھ لایا تھا جو شاہ سلمان کا پسندیدہ ’’قہوہ‘‘تیارکرنےمیں مہارت رکھتے ہیں اور ان افراد کو رہائش کیلئے بک کیے گئے ہوٹلوں کے عملے کی جگہ متعین کیا تاکہ شاہ سلمان کو’’قہوہ‘‘کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہو۔

بلومبیرگ کے مطابق شاہ سلمان اپنے ساتھ اپنی پسندیدہ قالین بھی لائے تھے جسے ان کے رہائشی کمرے میں بجھایا گیا تھا یہی نہیں شاہ سلمان اپنے کمرے کو سجانے کیلئے اپنا مخصوص فرنیچر بھی دورے کے موقع پر ساتھ لائے تھے۔

شاہ سلمان کا دورہ روس ، ماسکو میں سعودیوں کی بے عزتی

Posted by Iblagh News on Freitag, 6. Oktober 2017

بلومبیرگ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے شاہ سلمان کے دورے کیلئے 2فائیو سٹارز ہوٹلز ’’ریتز کارلٹن اور فورسیندنز‘‘کو مکمل طور بک کرلیا تھا جس کے بعد کسی عام شخص کو اجازت نہیں تھی کہ وہ ان دو ہوٹلز میں کمرے بک کرے ،بلومبیرگ کے مطابق دونوں ہوٹلز کی صرف بکنگ پر 3ملین ڈالر صرف ہوئے جس میں کھانے پینے اور دیگر لوازمات کے اخراجات شامل نہیں۔

بلیومبیرگ کی اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ شاہ سلمان کے بیرونی دورے کوئی عام دورے نہیں ہوتےبلکہ یہ دورے سعودی عوام اور سعودی خزانے پر بھاری بوجھ ہوتے ہیں ۔اس وقت سعودی عرب کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سعودی عوام پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ ٹیکس کی صورت میںاور دوسری جانب سعودی فرمانروا کے دورے رہی سہی کسر پوری کررہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مشتعل ہجوم کی تاریخ اور نفسیاتی پہلو

(ندیم ایف پراچہ) شدت پسند مذہبی جذبات سے مشتعل ہوکر ہجوم کی صورت میں تشدد ...