پیر , 23 اکتوبر 2017

سعودی عرب میں انتہا پسند نظریات کے حامل ہزاروں لوگ موجود ہیں، عادل الجبیر

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) آل سعود کے وزیرخارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب میں انتہا پسند نظریات کے حامل ہزاروں لوگ موجود ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے روسی ٹیلی ویژن "چینل 24” کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتہاپسندی جیسے نظریات ثابت ہونے کے بعد سعودی حکام نے کئی ہزار امام جماعت کو برطرف کردیا ہے۔

سعودی وزیر نے مزید کہا کہ ہم ملک میں انتہا پسندی کی سوچ کو پروان چڑھنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم شدت پسندی کے خلاف نہایت موثر اقدامات کرنا چاہتے ہیں اور ملک کے تعلیمی نظام کو جدید ترین تقاضوں کے مطابق مرتب کررہے ہیں تاکہ غلط تشریح کا امکان ختم ہوسکے۔

الجبیر نے شام اور عراق میں بہت سارے روس اور سعودی شہریوں کی داعش کے شانہ بشانہ نام نہاد جہاد میں حصہ لینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعشی دہشت گرد ہمارے ملکوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں لہٰذا ریاض دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ماسکو کے ساتھ تعاون کو جاری رکھے گا۔

سعودی وزیر نے قطر اور سعودی عرب کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر دہشت گردوں کی حمایت اور دوسرے ملکوں کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی کررہا ہے۔واضح رہے کہ آل سعود کی بنیاد ہی انتہا پسندی اور تکفیریت پر مبنی ہے اور سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں تکفیری سوچ کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عراقی وزیر اعظم کی حیدر العبادی سے ملاقات

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق کے وزير اعظم حیدر العبادی ایک اعلی وفد کے ہمراہ سعودی ...