منگل , 12 دسمبر 2017

جہاد کے اعلانات’ فتوے اور کلریکل غلطی

(مسعود سلمان)
وزیر داخلہ احسن اقبال نے جہاد کے اعلان اور کفر کے فتوے کے بارے میں قومی اسمبلی میں جو بیان دیا ہے اور جسے پالیسی بیان کہاجا رہا ہے وہ متعدد ٹاک شوز کا موضوع بن گیا ہے۔ آج کل سیاسی اور سماجی معاملات کے بارے میں عوام کی آگاہی کے لیے ٹی وی ٹاک شوز ہی واحد ذریعہ رہ گئے ہیں۔ حالانکہ ان معاملات پر پارلیمنٹ میں اور شہریوں کے درمیان مکالمہ ہونا چاہیے ۔ لیکن ہمارے ہاں پارلیمنٹ میں نہ حکمران جماعت کوئی مؤثر کردار ادا کررہی ہے اور نہ ہی اپوزیشن۔ وزیر داخلہ نے بہت اچھا کیا جو پالیسی بیان دینے کے لیے ایوان اسمبلی کا انتخاب کیا تاہم جس نہایت ضروری موضوع پر انہوں نے اظہارِ خیال کیا اس پر اپوزیشن ارکان کی رائے بھی آنی چاہیے تھی۔ جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ اعلان جہاد مسلمان ملک میں ریاست کا حق ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ ریاست کافرض بھی ہے۔ یہ اعلان جنگ کی صورت ہے۔

جیسے 1965ء میں صدر ایوب خان جو اس وقت نہ صرف حکمران بلکہ ریاست کے سربراہ بھی تھے نے بھارت کے حملے کے خلاف اعلان کیا۔ لیکن ایک اعلان جنگ ہر وقت جاری رہتا ہے۔ مثلاًجرائم کے خلاف پولیس کے فرائض ایک مسلسل جنگ کی صورت ہے۔ مثلاًحتی الوسع جرم کو روکنے یا جرم کی گواہی ہر شہری کا فرض ہے۔ یہ فرض بھی مسلسل جنگ یا جہاد کا فرض ہے ۔ محض عام جرائم نہیں بلکہ ہر قسم کے غیر قانونی کاموں کو روکنے کے لیے جو لوگ مامور ہیں وہ بھی اس مسلسل جہاد یا جنگ کے سپاہی ہیں اور جو مامور نہیں ہیں لیکن ان کے علم میں کوئی غیر قانونی کام آتا ہے تو وہ بھی اس کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کے پابند ہیں۔ یہ بھی ان کے فرض یعنی جہاد مسلسل کا حصہ ہے۔ جب ہمارے لیڈر حکومت سے ان کا تعلق ہو خواہ اپوزیشن سے یا وہ پارلیمنٹ کا حصہ نہ ہوں کہتے ہیں کہ ہم یعنی پاکستان دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے تو اس سے کوئی اختلاف نہیں کرتا۔اس جنگ میں شریک ہر فرد کی اپنی محدودات ہیں ۔ مثلاًعام شہری جب مشکوک سامان دیکھے گا تو وہ خود بندوق پکڑ کر اسے اٹھانے کے لیے آنے والے پر حملہ آور ہونے کے لیے نہیں بیٹھ جائے گا بلکہ امن وامان کے ذمہ دار اداروں کو اطلاع دے گا۔ سرحد پر یا حساس مقامات کی حفاظت پر اگر کوئی اہلکار مامور ہوگا تو وہ اپنی ہدایات کے مطابق اپنا فرض ادا کرے گا۔

1948ء میں جب ہمارے قبائلی علاقے سے جوق در جوق لوگ جہاد کشمیر میں حصہ لینے کے لیے جانے لگے تو مولانا مودودی نے فتویٰ دیا تھا کہ جہاد کا اعلان ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ہر کوئی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔ ریاست کا مطلب ریاست ہوتا ہے محض حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن بھی اور اس کا نمائندہ سربراہ مملکت ہوتا ہے۔

وزیر داخلہ نے اس کے ساتھ ساتھ فتویٰ دینے پر بھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ اعلانِ جہاد مسجد سے نہیں آ ئے گا ۔ یعنی ریاست کے سوا کسی کا حق نہیں کہ وہ جہاد کا فتویٰ صادر کرے۔ نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو واجب القتل قرار دے۔ یہاں اعلانِ جہاد کی بجائے فتویٰ سے مراد ایسے اعلانات ہیں جو بعض لوگ خواہ وہ کتنے ہی معتبر گردانے جاتے ہوں کسی پرخود ہی فردِ جرم عائد کرتے ہیں اورخود ہی اس کی سزا کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ خواہ وہ لوگ کتنی ہی نظیریں لائیں ان کے فتوے تسلیم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ہمارے ملک میں ایک نظام عدل موجود ہے جس میں فیصلے دلائل اور شواہد کے بعد صادر کیے جاتے ہیں اور ہر شہری کے لیے ان کا بلاچوں و چرا تسلیم کرنا فرض ہے۔ یہ فیصلے ملک کے آئین کے مطابق کیے جاتے ہیں اور آئین کا تقاضا ہے کہ ملک میں کوئی قانون جو اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہو نہیں بنایا جا سکتا۔ وزیر قانون کو یہ بات صراحت کے ساتھ کہنی چاہیے تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ فتوے مسجدوں سے نہیں آ سکتے تو انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ فیصلے صرف عدالتوں سے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بجا طورپرکہا کہ کفر کے فتوے لگاکر دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب بنایا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے یہ بیان انتخابی اصلاحات کے بل میں عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں حلف نامہ کے حوالے سے دیا جس میں سپیکر ایاز صادق کے قول کے مطابق کلریکل غلطی کے باعث حلف کا لفظ حذف ہو گیا تھا۔ اور وزیر داخلہ نے کہا کہ فتنے اور فساد سے بچنے کے لیے قانون میں 2013ء کے انتخابات میں جو گوشوارہ تھا من و عن اس کے الفاظ شامل کر لیے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ کو کہنا چاہیے تھا کہ غلطی کی اصلاح کے لیے سابقہ گوشوارے کے الفاظ بحال کر دیے گئے ہیں نہ کہ فتنہ اور فساد سے بچنے کے لیے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ اس ردِ عمل پر بات کررہے تھے جو سوشل میڈیا میں ایک طوفان کی طرح نمودار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سائبر کرائمز کے قوانین کے تحت اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ لیکن سوشل میڈیا میں دنیا بھر میں کوئی بھی کہیں سے بھی مواد پوسٹ کرسکتا ہے۔

پاکستان کے سائبرکرائمزکے قوانین پاکستان تک محدود ہیں۔ ان کے تحت کارروائی سے اس طوفان پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ سوشل میڈیا پر ایک بیانیہ تشکیل دیا جارہا ہے جس کا جواب اس کے مقابل بیانیہ کی ترویج کے ذریعے دیا جاناچاہیے۔ جب ایسا کوئی مقابل بیانیہ دیا جائے تو سب سے پہلے یہ بتاناپڑے گا کہ جسے کلریکل غلطی کہا جارہا ہے یہ کیوں ‘ کن حالات میں سرزد ہوئی۔ یہ بل بڑی طویل مشاورت کے بعدتیار کیاگیا تھا اور ہر بل کی تین بار خواندگی بھی ہوتی ہے۔ وزیر قانون جو بل پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں ان کی اس کلیریکل غلطی پر نظر کیوں نہیں پڑی۔ یہ کلیریکل غلطی کب بل میں شامل ہوئی اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اور حکومت اس ذمہ دار کے خلاف کیا اقدام کر رہی ہے۔ سائبر کرائمز کے تحت کارروائی سے پہلے عام ضابطوں کے تحت اس غلطی کے ذمہ دار کا سراغ لگایا جاتا اور اسے عدالت میں پیش کیاجاتا تو وزیر داخلہ اور وزیر قانون کے دعوے اور اعلانات زیادہ وقیع ہو جاتے ۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...