منگل , 12 دسمبر 2017

میانمار میں خون ریزی۔اصل وجہ کیا ہے؟

(عاصم اعجاز)
میانمار میں جاری خون ریزی اب تک ہزاروں لوگوں کی جان لے چکی ہے ۔لاکھوں لوگ زندگی بچانے کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑنے پرمجبور ہیں۔ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ سے زائد لوگ اب تک میانمار کو چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

میانمار میں جاری اس قتل عام کے نسلی اور مذہبی حوالے سے ابھی تک کافی کچھ لکھا جاچکا ہےلیکن ابھی تک ایک پہلوایسا ہے جو لکھنے والوں کی نظر سے پوشیدہ رہا ہے یاجس پرابھی تک بہت کم لکھاگیا ہے وہ اس علاقے کی معاشی اہمیت ہے۔2001 میں ایک کتاب دی نیو رولرز آف دی ورلڈ (The New Rulers of the World) منظر عام پر آئی۔ جان پلگر نے اس کتاب میں واضح کیا کہ کس طرح بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان ممالک کی سیاست میں اور حکومتیں بنانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔میانمار کے معاملے میں یہ بات سچ ہوتی نظر آرہی ہے۔

میانمار کی آبادی تقریباً 53 ملین اور فی کس آمدنی تقریباً 1400ڈالر ہے۔دوسرے ترقی پذیرممالک کی طرح وسائل کا بیشتر حصہ اقلیتی ہاتھوں میں ہے اور اکثریت بدحالی کا شکارہے۔ میانمار میں کئی سال سے فوج حکمران ہے، اب بظاہر ملک میں جمہوریت ہے لیکن یہ جمہوری ڈھانچہ نمائشی ہے اور یہ جمہوری حکومت اتنی ہی بااختیار ہے جتنی ایک پسماندہ ملک میں ہو سکتی ہے اور ابھی بھی زیادہ تراختیارات فوج ہی کے پاس ہیں۔ نوے کی دہائی سے یہ فوجی حکمران چھوٹے زمینداروں سے جبری زمین ہتھیانے میں مصروف ہیں۔ لوگوں سے یہ زمین زیادہ تر ترنئی فوجی چھاؤنیاں بنا نے، معدنی وسائل ڈھونڈنے، بڑے بڑے فارم ہاوسز بنانے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہتھیائی جارہی ہے۔مثال کے طور پر ریاست “کچن” (Kachin)میں غریب زمینداروں کی زمین سے سونا نکالنے کے بہانے 500 ایکڑ زمین چھینی گئی ۔ لوگوں کو زبردستی ان کے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اس نام نہاد ترقی کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش ، تھائی لینڈ ،بھارت اورملائیشیا کی طرف ہجرت کر گئے۔2011میں میانمار کے فوجی حکمرانوں نے معاشی اصلاحات کا اعلان کیا۔عوام کو یہ لالی پاپ دیا گیا کہ ان اصلاحات سے بیرونی سرمایہ کاری کا سیلاب آجائے گا اور ان کے دن پھر جائیں گے۔ اس اعلان کے فوراً بعد 2012 میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے۔ جس میں پرامن سمجھے جانے والے بودھ مت کے ماننے والوں نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ کمال بات تو یہ تھی کہ میانمار کی حکومت اس قتل عام کو روکنے کی بجائے لوگوں سے زمین ہتھیانے کے نئے قوانین بنانے میں مصرو ف تھی۔

میانمار قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے جس کے ہمسائیوں کی نظر اس کے وسائل پر ہے۔ یہ قدرتی وسائل ہی اس ملک کے عام آدمی کے لئے مسئلہ بن گئے ہیں۔ نوے کی دہائی سے چینی سرمایہ کار میانمار کی شمالی ریاست”شان”کے دریاؤں ، جنگلات اور معدنی وسائل کے استحصال میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے مقامی لوگوں اور حکومت کے درمیان تصادم بھی ہوا۔یہی مسلئہ “رخائن” کی ریاست میں ہے جہاں چین اور بھارت اپنے اپنے مفادات کے منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نئی، نئی سڑکیں بنانے اور”رخائن” سے چین اور بھارت کے درمیان پائپ لائنیں بچھانے کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ نیشنل پٹرولیم کمپنی آف چائنہ”رخائن”کے دارالحکومت “ستوے”سے چینی شہر”کیومنگ”کے درمیان پائپ لائن بچھا رہی ہے جس سے”ستوے” سے تیل اور گیس چین کے صوبے” یوونان” کو مہیا کیا جائے گا۔

“ستوے “کی بندرگاہ پر بھارت نئے تعمیراتی کاموں میں مصروف ہے ۔ بھارت چاہتا ہے کہ وہ اس راستے سے اپنے صوبے میزورام کو خلیج بنگال سے ملا دے۔ جب اس علاقے میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کی گئی تھیں تو اس کا مقصد اس علاقے کی ترقی ، لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور یہاں سے ملنے والے تیل اور گیس میں ان کو حصہ دار بنانا تھا۔ لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے زمین مفت یا معمولی معاوضہ پر ہتھیائی گئی۔ روزگار دینے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا اور تمام بڑے بڑے عہدے دوسرے علاقوں سے لائے گئے لوگوں میں بانٹ دیے گئے اور مقامی لوگوں کو معمولی نوکریاں دی گئیں ۔ سٹریٹیجک لحاظ “ستوے”کی بندرگاہ بھارت اور چین دونوں ہی کے لئے بڑی اہم ہے ۔اسی وجہ سے دونوں ممالک بڑی تیزی سے اس علاقے میں اپنے اپنے مفاد کے لئے ترقیاتی سرگرمیاں جا ری رکھے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لئے میانمار کی حکومت لوگوں کی زمینیں چھین چھین کر ان ملکوں کے حوالے کر رہی ہے تاکہ”ترقی کا عمل” تیز ہو سکے۔

جہاں پڑوسی ممالک اپنے اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد کو جانے کو تیار ہوں ،وہاں انسانی زندگیوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ چونکہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں اس خطے کے تمام ممالک بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث ہیں اس لئے ان سے کسی طرح کی مدد کی کوئی توقع رکھنا فضول ہے۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...