منگل , 17 اکتوبر 2017

شیخ زاید کی موت کی کہانی اور ان کے مرنے پر لگنے والا تماشا

(تسنیم خیالیؔ)
امارات کے سابق صدر شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کسی تعارف کے محتاج نہیں، انہوں نے 1971ء میں دبئی کے سابق حکمران شیخ راشد بن مکتوم آل مکتوم کیساتھ ملکر 7 عرب ریاستوں کو متحد کرکے متحدہ عرب امارات نامی ریاستوں کی تشکیل دی اور پھر اس فیڈرل طرز کے اتحاد کے سربراہ بنے۔ شیخ زاید کو اماراتیوں ،خلیجیوں اور عربوں کے دلوں میں مرنے کے 13سال بعد ایک خاص مقام حاصل ہے۔ امارات کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق شیخ زاید نے 86سال کی عمر میں 2نومبر 2004ء میں وفات پائی،مگر حقیقت کچھ یوں ہیں کہ شیخ زاید اپنی وفات کی تاریخ سے ایک ماہ قبل ہی وفات پاگئے تھے اور اس حققیت کو اماراتیوں سمیت دنیا بھر سے چھپایا گیا تھا۔

اس حوالے سے اردن سے تعلق رکھنے والے اُسامہ فوزی نامی صحافی کہتے ہیں کہ شیخ زاید کے انتقال کیساتھ ہی ان کے بیٹیوں کے درمیان حکومت پر اختلافات قائم ہوگئے کہ نیاولی عہد کون ہوگا یہ اختلافات خاص طور پر شیخ زاید کا پلوٹھا اور موجودہ ولی عہد شیخ خلیفہ اور شیخ زاید کی دوسری بیوی فاطمہ الکتبی کے بیٹے اور خلیفہ کے سوتیلے بھائیوں کے درمیان شدت اختیار کرگئے تھے۔شیخ خلیفہ یہ چاہتے تھے کہ ولی عہد ان کے بیٹے سلطان کو مقرر کیا جائے جبکہ فاطمہ الکتبی یہ چاہتی تھی کہ ولی عہد ان کے بڑے بیٹے محمد بن زاید کو مقرر کیا جائے ۔شیخ زاید نے اپنی حیات میں شیخ خلیفہ کو ولی عہد مقرر کیا تھا البتہ اصل اختلاف یہ تھا کہ شیخ خلیفہ کا ولی عہد کون ہوگا۔

لہٰذا شیخ زاید کی وفات پر اس معاملے کو حل کرنے کیلئے شیخ زاید کی وفات کو صیفہ راز میں رکھا گیا اور دنیا بھر کو یہ بتایا گیا کہ شیخ زاید کی طبیعت انتہائی خراب ہے اور وہ بیماری کے بستر پر ہیں۔ اسامہ فوزی کے مطابق اس گھمبیر صورت حال میں شیخ زاید کے دوست اور قریبی ساتھی شیخ محمد بن بطی نے شیخ زاید کے بیٹوں کو مشورہ دیا کہ وہ مسئلے کا حل ضرور کریں مگر شیخ زاید کو کم از کم دفنا دیں کیونکہ میت کودفنانے میں ہی میت کی عزت ہے اور یہی اسلام کا تقاضا ہے۔

شیخ محمد بن بطی کی نہج پر بعض عرب ممالک کے حکمران بھی شیخ زاید کے بیٹوں پر دبائو ڈالنے لگے کہ وہ اپنے والد کو دفنا دیں اور پھر آپس میں مل بیٹھ کر اس معاملے کو باہمی رضامندی سے حل کریں۔ آخر کار شیخ زاید کی وفات کے ایک ماہ بعد زاید کے بیٹے کسی نتیجے پر پہنچے اور محمد بن زاید کو ولی عہد مقرر کردیا اس فیصلے کا اعلان دبئی میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا اور اسی اجلاس میں شیخ زاید کی وفات کا بھی سرکاری طور پر اعلان کیا گیا۔

شیخ زاید کی جنازے کی بات کی جائے تو اتنے بڑے عرب حکمران کے جنازے سات اہم عرب حکمرانوں نے شرکت نہیں کی تھی جن میں مصر کے حسنی مبارک ،تیونس کے زین العابدین بن علی ،سوڈان کے عمر البشیر، مراکش کے شاہ محمد شیشم اور لیبیاکے معمر القذاقی شامل تھے۔جنازے میں شرکت نہ کرنیوالوں میں قطر کے امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی جگہ اپنے بیٹے اور ولی عہد تمیم کو شرکت کیلئے بھیجا۔یہ سب کچھ اس لئے نہیں ہوا کہ شیخ زاید کی عرب حکمرانوں کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں تھی ،بلکہ اس لئے ہوا کہ تمام عرب حکمران اس بات کا علم رکھتے تھے کہ شیخ زاید کے جنازے میں موجودلاش شیخ زاید کی نہیں بلکہ مردہ خانے سے منگوائی گئی ایک نامعلوم عام شخص کی ہے اور جو کچھ ہورہا ہے اور محض ایک ڈرامے کے علاوہ کچھ نہیں۔

جنازے میں ایک اور غور کرنیوالی بات یہ ہے کہ شیخ زاید کے کسی بھی بیٹے نے نعش کو کاندھا نہیں دیا حالانکہ رواج یہ ہے کہ متوفی کے بیٹے اور عزیز اقارت متوفی کو جنازے کے دوران کاندھا دیتے ہیں البتہ ایسا شیخ زاید کے ’’آفیشل جنازے‘‘میں نہیں ہوا، حالانکہ شیخ زاید کے اٹھارہ بیٹے ہیں جن میں سے بیشتر جنازے میں شریک تھے،جن میں قابل ذکرشیخ ہزاع بن زاید ہیں جو اُس وقت اماراتی انٹیلی جنس کے سربراہ کے منصب پر فائز تھے۔ اسامہ فوزی مزید انکشافات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شیخ زاید کو ان کے جنازے سے 3ہفتے پہلے ہی دفن کردیا گیا تھا اور شیخ زاید کا دکھائے جانیوالا جنازہ دراصل شیخ زاید کا نہیں تھا،ہاں یہ بات ضرور ہے کہ شیخ زاید کی موجود قبر میں شیخ زاید ہی مدفون ہیں ۔

اب بات کی جائے اسامہ فوزی کی تووہ ایک مشہور اردنی صحافی ہیں جو اس وقت امریکہ میں موجود ہیں۔اسامہ فوزی نے امارات میں اپنی زندگی کے 10،15سال بطور سکول ٹیچر گزارے اور امارات اور وہاں کے حکمران خاندانوں کو نزدیک سے دیکھا اسامہ فوزی امریکہ میں عرب ٹائمز نام کے اخبار اور ویب سائٹ کے ایڈیٹرانچیف ہیں۔عرب ممالک میں اسامہ فوزی کے اخبار اور ویب سائٹ پر سخت پابندی عائد ہے کیونکہ ویب سائٹ پر عرب حکمرانوں کے اصل چہرے اور حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے یہ ویب سائٹ عربی اور انگلش زبانوں میں کام کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

دھمکیاں مسترد ، ریفرنڈم منسوخ نہیں ہو گا، عراقی کردستان

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) کُرد قیادت نے عراقی حکومت کے اُس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے ...