منگل , 17 اکتوبر 2017

بحرین میں نماز جمعہ پر پابندی کو 65 ہفتے گزر گئے

(تسنیم خیالیؔ)
عجیب ہے قصہ بحرین پر حکمران آل خلیفہ خاندان کا ،جو ملک میں 65ہفتوں سے شیعہ مسلمانوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دے رہے اس قصے کی ابتداء 20جون 2016ءکو ہوئی جواب تک ختم ہونیکا نام ہی نہیں لے رہااور حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ ملک میں نماز پر پابندی عائد کرنے کے بعد بھی آل خلیفہ خاندان کے افراد خود کو مسلمان اپنی حکومت کو مسلم قرار دیتے ہیں۔

یہ کیسا اسلام ہے، سمجھ سے بالاتر ہے۔
آل خلیفہ سے قدرے بہتر قوہ مغربی حکمران ہیں جو اسلام سے نفرت کرنے کے باوجود اپنے ممالک میں نماز پر پابندی عائد نہیں کرتے۔بحرینی حکومت اسلامونوبیا کی شکار بھی نہیں البتہ ان کے دلوں میں اسلام سے خوف اسلامونوبیا کے شکار مغربی حکمرانوں سے زیادہ ہے۔

اس معاملے میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اسلامی ممالک اور ان کی نام نہاد اسلامی کانفرنس نامی تنظیم بھی خاموش ہے اور آل خلیفہ سے یہ تک پوچھنے میں قاصر ہے کہ آپ مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے کیوں نہیں دے رہے ؟

اسلامی شریعت کے حوالے سے دیکھا جائے تو حکمرانوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی عوام کو نماز پڑھنے سے روکے کیونکہ نماز کا حکم الٰہی حکم ہے اور الٰہی حکم کی پاسداری سے عوام کو روکنا کسی بھی شخص کیلئے جائز نہیں۔

آل خلیفہ اپنی ان حرکتوں سے اسلام سے خارج ہورہے ہیں اور وہ کفر کے زمرے میں داخل ہورہے ہیں اور ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آل خلیفہ اور داعش والوں کے درمیاں ایک بات مشترکہ بن گئی ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ داعش بھی اپنے زیر قبضہ علاقوں میں لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے تھے بالخصوص نماز جمعہ اور عید کی نماز سے علاوہ ازیں داعش اپنے جنگجوئوں کو ماہ رمضان میں روزے رکھنے سے بھی منع کرتی تھی۔

لہٰذا دونوں (آل خلیفہ اور داعش )اللہ تعالیٰ کے احکامات پر اثر انداز ہوتے ہوئے لوگوں کو ان احکامات کی پاسداری اور ان پر عمل سے روک رہے ہیں جو کہ صریح لفظوں میں کفر سے بھی بہتر ہے ۔آل خلیفہ اور داعش کافر کہلائے جانے کے بھی قابل نہیں کیونکہ کافر بھی ایسا نہیں کرتے اور جس طرح داعش کا انجام ہوا اسی طرح بحرین میں آل خلیفہ کاہوگا۔ داعش نے جو کیا وہ ظلم تھا اور خلیفہ جو کر رہے ہیں وہ بھی ظلم ہے اور حضرت امام علی بن ابی طالبؑ کافرمان ہے کہ کفر کی حکومت جل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مشتعل ہجوم کی تاریخ اور نفسیاتی پہلو

(ندیم ایف پراچہ) شدت پسند مذہبی جذبات سے مشتعل ہوکر ہجوم کی صورت میں تشدد ...