منگل , 17 اکتوبر 2017

کہیں ایسی قادیانی سازش ہو ہی نہ جائے

(عدنان خان کاکڑ)
اسلام کا ایک اصول ہے کہ جان کا خطرہ ہو تو ایسے حالات میں حرام بھی حلال ہو سکتا ہے۔ یعنی کئی دن کا فاقہ ہو تو مردار بھی کھایا جا سکتا ہے۔ اسلام پر عمل کرنے میں جان کا خطرہ ہو تو فقہا ادھر بھی چشم پوشی کی گنجائش دیکھتے ہیں کہ ظلم و جبر کے زمانے میں ظاہر چاہے کچھ اختیار کیا جائے، بندہ دل میں مسلمان رہے۔ یاد رہے کہ جان کے خوف سے جھوٹ بولنے کی رخصت بعض سنی اکابر علما بھی دیتے ہیں۔

یہ اصول خاص طور پر اندلس میں عملی صورت میں دیکھا گیا تھا۔ جب ادھر چرچ نے زبردستی مسلمانوں کو مسیحی بنانے کی مہم چلائی تھی، اور عقیدہ تبدیل نہ کرنے والوں کو پادری مار ڈالتے تھے یا ملک بدر کر دیتے تھے، تو بہت سے ایسے مسلمان خاندان تھے جو بظاہر پکے مسیحی بن کر زندگی گزارتے تھے لیکن گھر کے اندر چھپ کر اسلامی عبادات کرتے تھے۔ چرچ کی نگاہ میں وہ پکے مسیحی تھے مگر درحقیقت وہ پکے مسلمان تھے۔ دلیل یہ تھی کہ عقیدے کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو تو جھوٹ بول کر نقصان سے بچنے کی اجازت ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف تو اپنا ظاہری عقیدہ کچھ رکھتے تھے اور باطنی کچھ، اور دوسرا کسی شخص پر بھی الزام لگا دیا جاتا تھا کہ یہ سچا مسیحی نہیں ہے بلکہ مسلمان یا یہودی ہے، اور اس کے بعد چرچ اس پر انسانیت سوز مظالم کر کے اس کے عقائد تفتیش کرتا تھا۔

ہمیں احمدی عقائد کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے مگر یہ پتہ چلتا رہتا ہے کہ ختم نبوت کی وہ اپنی کوئی تشریح کرتے ہیں جو ہمیں قبول نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کو مانتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، 1974 کی ترمیم سے پہلے اپنی عبادت گاہ کو مسجد بھی کہنے کو آزاد تھے، اور ان کے رنگ ڈھنگ اور طریقہ عبادت دیکھ کر ان کو عام مسلمانوں سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اسی وجہ سے جب 1974 کی آئینی ترمیم میں ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو اس ترمیم میں ان کے لئے مسلمانوں سے مشابہت رکھنے والی کئی چیزیں ممنوع قرار پائیں۔ چند دن پہلے ہی یہ خبر بھی کسی نے دی تھی کہ جماعت احمدیہ نے دنیا کی ستر سے زیادہ زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کر دیا ہے اور دنیا بھر میں یہ تراجم تقسیم کر رہی ہے۔

اب قومی اسمبلی میں حلف نامے کے معاملے پر شیخ رشید کی دھواں دار مہم اور اس کے بعد کیپٹن صفدر کی ایمان افروز تقریر کو دیکھتے ہوئے ہم پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہم حفیظ سینٹر اور بعض دوسرے بازاروں میں احمدیوں سے لین دین سے انکار کے اسٹکر دیکھ چکے ہیں، احمدیوں کے خلاف تقریریں بھی سن چکے ہیں، کچھ عرصہ قبل فسادات میں ان کے گھر اور ان میں پھنسے عورتیں بچے جلانے کی خبریں بھی پہنچی ہیں۔ ایسے میں اگر احمدی بھی جان و مال کو خطرے میں دیکھ کر وہی کرنے لگیں جو اندلس کے مسلمانوں اور یہودیوں نے کیا تھا تو کیا ہو گا؟ ہم ایک ایسے احمدی کو بھی جانتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ وہ حفیظ سینٹر میں ان اسٹکروں کے باوجود وہاں مسلمان بنا کام کرتا تھا اور پھر بیرون ملک چلا گیا اور اب وہیں رہتا ہے۔ ایک دوست یاد آتے ہیں جن کی آنکھوں میں قادیانیوں کا نام سنتے ہی خون اتر آتا ہے۔ ان کے دفتر میں ایک احمدی کئی سال اپنا عقیدہ چھپا کر کام کرتا رہا۔ جب وہ ملک سے باہر گیا تو پھر اس نے اپنا راز کھولا۔

احمدیوں نے اگر اندلسی مسلمانوں اور یہودیوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا ظاہر بدلا اور عام مسلمانوں کی شباہت اختیار کی، بریلوی دیوبندی مساجد میں جانے لگے، ختم نبوت کے حلف نامے پر بھی دستخط کرنے لگے، تو پھر کیا ہو گا؟ گھر کے اندر چھپ کر تو وہ احمدی ہی رہیں گے باہر چاہے جو مرضی بنیں۔ وہ بھی یہ دلیل پیش کریں گے کہ جان کا خطرہ ہو تو جھوٹ بول کر نقصان سے بچنے کرنے کی اجازت ہے۔

پھر یہ ختم نبوت کے حلف نامے کس کام آئیں گے؟ پھر تو احمدی ملک کے اعلی ترین عہدوں پر بھی پہنچیں گے، وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھاتے ہوئے زبان سے ختم نبوت کا اقرار بھی کریں گے اور دل میں اس کی اپنی تشریح کریں گے، اور عہدے پر بیٹھ کر چلیں گے اپنے دل کے مطابق ہی۔ پھر یہ لکھے ہوئے کاغذی حلف نامے ان کا کیا بگاڑ لیں گے؟ زیادہ سختیوں کے بعد تو وہ زیادہ کامیابی سے وہ ساری مبینہ سازشیں کر لیں گے جن سے ہمیں شیخ رشید، کیپٹن صفدر اور دیگر غازیانِ ملت خبردار کرتے رہتے ہیں۔

کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ احمدیوں کو ایک عام شہری کی مانند آزادی سے کھل کر بطور احمدی زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔ ٹھیک ہے آپ ان سے 1974 کی ترمیم کے مطابق پابندیوں پر عمل کرائیں، مگر ان کو زندگی سے اتنا تنگ تو نہ کریں کہ وہ جھوٹ بول کر اپنا باطن چھپانے پر مجبور ہو جائیں۔ اگر وہ ایسا کرنے لگے تو اس ”قادیانی سازش“ کا توڑ آپ کیسے کریں گے؟ آپ کسی وجہ سے احمدیوں کو ملک کا دشمن سمجھتے ہیں تو یہ بھی سوچ لیں کہ چھپا ہوا دشمن، سامنے موجود دشمن سے کہیں خطرناک ہوتا ہے۔ آپ کیوں انہیں چھپنے پر مجبور کر رہے ہیں؟

اگر احمدی ایسا کرنے لگے تو کیا ہمارے دینی و نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کو بھی پادریوں کی طرح ہر پاکستانی شہری پر احمدی ہونے کا شبہ کرتے ہوئے مشکوک افراد کو ٹکٹکی اور چرخیوں پر باندھ کر ان کو اتنا کھینچنا پڑے گا کہ ان کے جوڑ نکل جائیں اور یہ محافظ ان کے دلوں کی اصل بات جان سکیں۔ پاکستانی شہریوں کو منافق بنانے اور جھوٹ بولنے پر مجبور کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ان کو اپنی اصل شناخت ظاہر کر کے امن سے رہنے دیا جائے۔ یوں ہر شخص اپنا عقیدہ ظاہر کر کے اور اس پر عمل پیرا ہو کر وہی دکھائی دے گا جو وہ درحقیقت ہے۔ (بشکریہ ہم سب نیوز)

یہ بھی دیکھیں

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

روس کی شام میں کامیاب فوجی کاروائی، علاقائی سیاست اور ماسکو کے دو طرفہ مفادات ...