منگل , 17 اکتوبر 2017

ایف بی آئی کی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں البغدادی شامل ہی نہیں

(تسنیم خیالیؔ)
امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (FBI)نے تو کمال کردکھایا ہے، حال میں اس مشہور امریکی ادارے نے مطلوب دہشت گردوں کی اپنی نئی فہرست جاری کردی ہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ اس فہرست میں دنیا کی سب سے خطر ناک دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ کا ذکر ہی نہیں !البتہ اس فہرست میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا ذکر ہے جس کی سر کی قیمت 25ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس نئی فہرست میں 4نئی فلسطینی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ جن میں ’’تحریک جہاد اسلامی ‘‘کے جنرل سیکرٹری رمضان عبداللہ الشلح اور اسرائیلی جیلوں میں سابق خاتون قیدی احلام التمیمی شامل ہیں ۔دونوں مذکورہ فلسطینی شخصیات کو (FBI)دہشت گرد قرار دیتی ہے حالانکہ یہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے ،رمضان عبداللہ الشلح اور احلام التمیمی دہشت گرد نہیں بلکہ مزاحمت کار ہیں ،جو فلسطین کی سر زمین پر قابض صیہونی افواج کا بلاخوف و جھجک مقابلہ کررہے ہیں۔

امریکیوں نے اپنی اس فہرست کو جاری کرکے کئی اہم حقائق ثابت کردئیے۔سب سے پہلے تو امریکیوں نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اُن کی نظروں میں اسرائیلی مظالم اور بربریت کا مقابلہ کرنیوالے فلسطین دہشت گرد ہیں اور اسرائیل وہ مظلوم ہے جو دہشت گردوں کے نشانے پر ہے دوسری ثابت ہونیوالی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ دہشت گرد تنظیموں میں فرق رکھتا ہے ،یعنی امریکہ بعض دہشت گرد تنظیموں کو دوست اور بعض کو دشمن سمجھتاہے۔

اس لئے ہمیں (FBI)کی اس مضحکہ خیز فہرست میں ابوبکر البغدادی ،ابو محمد الجولانی ،ابوبکر شیکائو جیسے بڑے نام نہیں ملتے ،اول الذکر تو داعش کا سربراہ ہے ،جبکہ دوسرا النصرہ فرنٹ اور تیسرا بوکوحرام کایعنی امریکہ کی نظروں میں داعش ،النصرہ فرنٹ اور بوکوحرام ’’دوست‘‘ہیں دشمن نہیں جن سے وہ استفادہ کررہا ہے۔ امریکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک پر الزامات عائد کرتا رہتا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں میں مفادات کی بناء پر فرق برتتے ہوئے کسی کو دوست اور کسی کو دشمن سمجھتے ہیں جوکہ امریکہ کیساتھ دھوکے بازی کے مترادف ہے،البتہ امریکہ کو اپنی دھوکے بازی نظر نہیں آرہی ،جو وہ پوری دنیا کیساتھ کررہا ہے کیا ابوبکر البغدادی ،ابومحمد الجولانی اور ابوبکر شیکائو دہشت گرد نہیں ؟کیا انہیں دہشت گرد افراد کی لسٹ میں سرفہرست ہونا نہیں چاہیے ؟یہ دھوکے بازی اور ڈبل گیم نہیں تو کیا ہے؟

یہ بھی دیکھیں

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

روس کی شام میں کامیاب فوجی کاروائی، علاقائی سیاست اور ماسکو کے دو طرفہ مفادات ...