منگل , 12 دسمبر 2017

جیل بھرو تحریک ۔ بارش کا پہلا قطرہ

(تحریر: سیدہ سائرہ بانو)

گذشتہ ہفتہ مکتبِ تشیع کی جانب سے ملک گیر "جیل بھرو تحریک” کا آغاز ہوا۔ یہ تحریک پاکستان میں شیعہ برادران کی جبری گمشدگیوں کے خلاف پُر امن احتجاج کے طور پر شروع کی گئی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سے دو سال کے درمیان ملک کے مختلف شہروں خصوصا کراچی سے متحرک شیعہ سماجی کارکنان کو اغوا کیا گیا جن کی تعداد تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب ہے۔ یہ گمشدہ افراد سیکیورٹی ایجنسیز کی تحویل میں ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ انھیں کس جرم کے تحت اغوا کیا گیا۔ جیل بھرو تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے سوشل میڈیا پر بھرپور مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ تحریک ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اسے پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور امید ہے کہ اگلے مراحل میں یہ تحریک زور پکڑ لے گی۔ اس تحریک کا مقصد جبری گمشدگان کی بازیابی اور ان کو آئینِ پاکستان کے تحت عدالتوں میں پیش ہونے کا حق دلانا ہے۔ جبری گمشدگان کے خانوادوں نے اپنے طور پر تمام قانونی حربے آزمائے یہاں تک کہ ان کی خواتین اور بچے سڑکوں پر احتجاج کے لئے نکلے لیکن عدالتوں نے انصاف فراہم نہ کیا۔ آخرکار مذہبی تنظیموں کے علما کرام نے اِس معاملہ کو قومی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اِس سال ایامِ عاشورہ کی مجالس میں جیل بھرو تحریک کے مقدمات فراہم کیے گئے۔ علما کرام نے منبر سے عوام کو اِس معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا اور متاثرہ خانوادوں کی اخلاقی حمایت کے لئے آمادہ کیا۔ عاشور کے بعد 6 اکتوبر بروز جمعہ علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کراچی میں جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا اور اپنی گرفتاری دی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز گمشدگان کو عدالتوں میں پیش کریں اور انھیں اپنے خانوادوں سے ملنے کا موقع دیا جائے۔ اگر حکومت ان جائز مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی تو انھیں اور دیگر افراد کو بھی گمشدگان کے پاس بھیج دیا جائے۔ اِس موقع پر گمشدہ سماجی کارکن ثمر عباس کے نوے سالہ والد بزرگوار نے بھی اپنی گرفتاری دی۔

پاکستان میں جبری گمشدگی کے معاملہ کو فرقہ وارانہ دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ گمشدہ افراد یا کارکنان فرقہ وارانہ/سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہیں اور اسی بنیاد پر سیکیورٹی ایجنسیز نے ان کو تحویل میں لے رکھا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو یہ تاثر محض مفروضہ ہے اور اسے ملک میں جہادی یا فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں کے مقابل لانے کی کوشش کہا جاسکتا ہے۔ ملک میں مخصوص تکفیری مائنڈ سیٹ اِس مفروضہ کو درست سمجھتا ہے اور جبری گمشدگیوں کے معاملہ کی غلط تصویر کشی کرنے میں پیش پیش ہے۔ وصال اردو ٹی وی چینل نے جیل بھرو تحریک کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے جس میں جبری گمشدگان پر سرحد پار پراکسی وار لڑنے کا الزام لگانے کے ساتھ ساتھ شیعہ علما کرام کی ہرزہ سرائی کی جارہی ہے۔ یقینا یہ مہم جوئی جیل بھرو تحریک کو ناکام اور مشکوک بنانے کی مذموم کوشش ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والے چینل کے خلاف ریاستی ادارے کارروائی کرنے سے قاصر ہیں!

جیل بھرو تحریک کے اگلے مراحل میں پاکستان کے مختلف شہروں سے شیعہ علما کرام اور نوجوان گرفتاریاں دیں گے۔ تحریک کی کامیابی عوام کے منظم اور پرامن احتجاج پر منحصر ہے۔ اگر پاکستان میں جبری گمشدگی کے حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اسے ایک حساس قومی معاملہ کہا جاسکتا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ فرقہ وارانہ دہشت گردی نہیں بلکہ وہاں کی عوام کو قومی دھارے سے الگ کر دینا ہے۔ بنیادی حقوق سے محروم بلوچ عوام علیحدگی پسند قبائل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ مسلح قبائل حکومت کے متعصب رویہ کے نتیجہ میں اپنی ریاست قائم کیے بیٹھے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سختی سے نمٹنے کی بجائے ان قبائل کے مسائل کو اسمبلیوں میں زیرِ بحث لایا جائے۔ بلوچستان کی عوام کو قومی دھارے میں شامل کر کے ان کے احساسِ محرومی کو ختم کیا جائے۔ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں ان کی باغیانہ سوچ کو ختم نہیں کر سکتیں۔ بلوچستان کے بعد سندھ میں جبری گمشدگان کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ یہاں سے سماجی کارکنان کے علاوہ صحافی حضرات بھی سیکیورٹی ایجنسیز کی تحویل میں ہیں جن میں سندھی اور اردو بولنے والے بھی شامل ہیں۔ سوال وہی ہے کہ کیا یہ جبری گمشدگان ریاست کے مجرم ہیں؟ کیا ان کو ثابت شدہ جرم کے نتیجہ میں نامعلوم مقامات پر رکھا گیا ہے؟ کیا پاکستان کے آئین نے اپنے شہریوں کو عدالت میں صفائی پیش کرنے کا حق نہیں دیا؟ ان گمشدگان کے اہلِ خانہ کی معاشی کفالت اور سرپرستی کے بارے میں آئین کیا کہتا ہے؟ اور اگر متاثرین کو عدالت سے انصاف نہ ملے تو وہ کس کا در کھٹکٹائیں؟

ریاست کا کردار ماں جیسا ہوتا ہے اور اس پر عوام کے حقوق کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایک آئینی ریاست کے اداروں کا غیر جمہوری طرزِ عمل مایوس کُن اور غیر تسلی بخش ہے۔ "جیل بھرو تحریک” اندھیرے میں روشنی کی کرن بن کر نمودار ہوئی ہے۔ تمام محبِ وطن اور جمہوریت پسند پاکستانیوں کے لئے بھرپور موقع ہے کہ وہ بارش کے پہلے قطرے کا ساتھ دیں اور مل کر اس پُرامن تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ آئیے ہم سب ان بوڑھے ماں باپ خواتین اور بچوں کا ساتھ دیں جو اپنے پیاروں کے حق میں انصاف کے منتظر ہیں۔ جبری گمشدگی قومی معاملہ ہے اور اسے ملک گیر احتجاج کے ذریعہ کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ عوام وزارتِ داخلہ سے توقع رکھتی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملہ کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ آج اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا سیکھیں ورنہ کل آپ یا آپ کی آئندہ نسلیں ان فضاؤں میں آزاد اُڑان بھرنا بھول جائیں گی۔

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...