منگل , 12 دسمبر 2017

وزیر اعلیٰ پنجاب کاشوقِ الزام تراشی

(حیدر جاوید سید)
خونی انقلاب سے بچنے کے لئے اورنج انقلاب لانا ہوگا کا روز مرہ بھاشن سنتے اب تو کان پک گئے ہیں لیکن شہباز شریف کی سوئی اسی پر اڑی ہوئی ہے۔ دو تین ہی شوق ہیں انہیں۔ طلاقیں دلوا کر شادیاں کرنا’ نئے نئے منصوبوں کا افتتاح کرنا’ ربڑ والے لانگ شوز پہن کر بارش کے پانی میں فوٹو شاٹ کروانا اور اٹھتے بیٹھتے خونی انقلاب سے ڈراتے رہنا۔ سفید جھوٹ بولنے میں وہ اتنے ماہر ہیں کہ آج اگر ہٹلر زندہ ہوتے تو گوئبلز کو پھانسی چڑھا کر انہیں وزیر اطلاعات بھرتی کرلیتے۔

دو دن اُدھر لاہور میں مہنگے ترین منصوبے اورنج ٹرین کی چند بوگیوں کے چین سے لاہور پہنچنے پر بھی انہوں نے افتتاحی تقریب رچالی اور پھر حسب عادت مخالفین کو کوستے چلے گئے۔ حیرانی ہے کہ انہیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اورنج ٹرین جیسے مہنگے منصوبے کے خلاف صرف تحریک انصاف ہی عدالت نہیں گئی کچھ متاثرین’ آثار قدیمہ کے لئے کام کرنے والی دو تنظیمیں اور شہریان لاہور کی ایک تنظیم چند دیگر لوگ بھی ہیں۔ مگر ان کا غصہ پی ٹی آئی پر اُترا اور انہوں نے جھوٹ کا جہاز چلا دیا۔ اس منصوبے کے حوالے سے پہلے وہ یہ جھوٹ بولتے رہے کہ اس کا سی پیک سے کوئی تعلق نہیں۔ خوب جھوٹ کی نائو چلائی انہوں نے پھر ایک دن چینی حکام نے اس جھوٹ کا پول کھول دیا اور پاکستان کے لوگوں کو علم ہوا کہ لاہور اورنج ٹرین منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے۔ اب اپنے اداروں کے غلط سروے اور دیگر ناقص قسم کے اقدامات کی پردہ پوشی میں وہ ہر روز ایک نیا جھوٹ بولتے ہیں جیسا کہ انہوں نے دودن قبل بولا کہ تحریک انصاف کی وجہ سے اورنج ٹرین کے روٹ پر 11مقام پرکام بند ہے۔ محض سیاسی مخالفت میں حساب چکانے کی اس بھونڈی کوشش پر کیا کہا جائے۔

جالب کی شاعری اور خونی انقلاب کی گردان کے رسیا وزیر اعلیٰ کو شاید یہ ہی معلوم نہیں کہ خود ان کے اپنے شہر لاہور میں 63فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اور نتیجتاً ہیپاٹائٹس کی بیماری وباء کی طرح پھیل رہی ہے۔ اسی لاہور میں سکول جانے کی عمر کے ایک لاکھ بچے غربت کے باعث سکول نہیں جاپائے۔ پچھلے ایک سال کے دوران 110 بچے اور بچیاں گھریلو ملازمتوں کے دوران مالکان کے تشدد کا شکار ہوئے اور ان میں سے 9بچے اپنی جان سے گئے، تشدد سے بچوں کو قتل کرنیوالوں میں نون لیگ کی ایک خاتون ایم پی اے اور اس کی بیٹی بھی شامل ہے۔ کیا شہباز شریف کو معلوم ہے کہ ان کے بعض وزراء اور افسروں نے مقتول بچی کے ورثاء پر ایم پی اے کے ساتھ صلح کے لئے دبائو ڈالا؟ زعیم قادری اور رانا ثناء اللہ کے ساتھ رانا مشہود خان اس خاتون ایم پی اے کے سفارشی تھے۔

رہا سوال اس خونی انقلاب کا جس سے وہ روزانہ کی بنیاد پر اللہ جانے کسے ڈراتے ہیں تو اس حوالے سے ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ خود مسلم لیگ(ن) کی معاشی و سیاسی پالیسیاں ہی اس انقلاب کا دروازہ کھولیں گی۔ ایسا ہوا تو پھر سب سے پہلے وہ طبقہ ہی اس کی زد میں آئے گا جس کی دولت میں 5جولائی 1977 کے بعد سے نان سٹاپ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شہباز شریف دوسروں کی باتیں چھوڑیں ان کے خاندان کے پاس لاہور سے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی متعدد نشستیں ہیں کبھی ان حلقہ ہائے انتخاب کا دورہ کرکے دیکھ لیں کہ وہاں کونسا دودھ و شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔

بد قسمتی سے ہر آمر کے ساتھ ہنی مون منانے والی مسلم لیگ کے درجن بھر سے زیادہ دھڑے ہیں اور سارے دھڑوں پر جاگیر دار’ سرمایہ دار اور تاجر ہی قابض ہیں۔ شہباز شریف پچھلے سوا 9سال سے پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں ان برسوں کے دوران پنجاب میں غربت کی شرح میں تقریباً 16فیصد اضافہ ہوا۔ پنجاب میں پچھلے 9 سالوں کے دوران صوبہ بھر کی آمدنی کا بڑا حصہ لاہور کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو رہا ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں’ محکمہ لائیو سٹاک’ خوراک سمیت نصف درجن دوسرے محکموں کے ان 9سالوں کے دوران ریٹائر ہونیوالے ہزاروں ملازمین کو نہ تو گریجویٹی ملی اور نہ پنشن۔ بلدیاتی اداروں کے ریٹائر ملازمین کو پنشنوں کی ادائیگی کے لئے مختص فنڈز نکلوا کر نام نہاد ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کردئیے گئے۔ کیا اس کے لئے بھی تحریک انصاف نے مشورہ دیا تھا؟ ستم یہ ہے کہ حال ہی میں محکمہ تعلیم میں ایجوکیٹرز کی بھرتی کے لئے ایم پی اے، ایم این اے صاحبان کی مرضی سے جو میرٹ بنایاگیا اس میرٹ نے ذہین افراد کے ارمانوں کا خون کیا۔ آبائی یونین کونسل اور گائوں کے جو 8 اور 12نمبر امیدوار کو دئیے گئے وہ کس میرٹ کی بنیاد پر تھے۔ یہی حال میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلوں کے لئے انٹری ٹیسٹوں کا ہے۔ ان کے پرچے پچھلے 9سال سے 5لاکھ روپے فی کس پر فروخت ہوتے رہے اس سال پرچے کی قیمت 10لاکھ روپے تھی آمدنی میں مطلوبہ حصہ نہ ملنے پر ایک اعلیٰ شخصیت کے صاحبزادے نے اپنے لے پالک صحافیوں کے ذریعے سب کا کھیل خراب کردیا۔

گو عدالتی فیصلے کے تحت یہ ٹیسٹ دوبارہ ہوں گے مگر کالعدم قرار پانے والے ٹیسٹ کا پرچہ بیچ کر جو20کروڑ روپے کمائے گئے وہ کہاں ہیں کس سے برآمد ہوئے۔ نہیں ہوئے تو کیوں؟ ان تفصیلی معروضات کا مقصد یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب تقریروں کا شوق بھلے پورا کریں لیکن حقائق کو مسخ کرنے کا شوق نہ پالیں۔ ثانیاً یہ کہ پنجاب میں سب اچھا نہیں ہے دوسروں پرانگلیاں اٹھاتے وقت ایک نگاہ پنجاب کی حالت زار پر بھی ڈال لیا کریں کہ پنجاب صرف رائے ونڈ روڈ کا نام نہیں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...