جمعرات , 23 نومبر 2017

امریکہ نے یونیسکو کو خیرباد کیوں کہا؟

(تسنیم خیالیؔ)
حال ہی میں امریکہ نے اسرائیل کیساتھ اپنی ’’یاری‘‘کو نبھاتے ہوئے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو)کو خیر باد کہتے ہوئے اس ادارے کی رکنیت ترک کردی ہے ۔امریکہ نے وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یونیسیکو اسرائیل دشمن ادارہ بن چکا ہے دوسری جانب اسرائیل وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ’’امریکی یاری‘‘کو سراہتے ہوئے اسرائیل دفتر خارجہ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ بھی امریکی نقش قدم پر چلتے ہوئے یونیسکو سے اسرائیل کو نکال دے۔

یونیسکو دراصل کافی عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کے حلق میں کانٹے کی مانند چب رہا تھا ،کیونکہ اس ادارے نے کئی موقعوں پر فلسطینوں کے حق میں اور اسرائیلیوں کے خلاف فیصلے جاری کیے جو امریکہ اور اسرائیل کیلئےقابل قبول نہیں تھے ۔1956ء میں یونیسکو نے بیت المقدس کے حوالے سے پہلی بارفیصلہ سناتے ہوئے بیت المقدس میں موجود تمام ثقافتی ورثے کی حمایت کیلئے اقدامات اٹھائےجائیں تاکہ فلسطین میں متنازع اطراف کی درمیان جنگ ہونے کی صورت میں ثقافتی ورثے کو نقصان نہ پہنچے،یہ فیصلہ اسرائیل کا بیت المقدس کے مغربی حصے کو ضم کرنے کے آٹھ سال بعد لیا گیا۔

1968ءکو یونیسکو میں ایک اور قرار منظور کی گئی جس میں یہودیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بیت المقدس میں کھدائی کا کام بن کریں اور شہر میں موجود آثارِ قدیمہ کو نقصان نہ پہنچائے۔
1974ء میں یونیسکو نے اعلان کیا کہ وہ ثقافتی اور عالمی حوالے سے اسرائیل کو خدمات فراہم نہیں کریگا۔

1978ء کو یونیسکو میں اسرائیلیوں کے خلاف دو قراردیں منظور ہوئیں،پہلی قرارداد میں اسرائیلیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بیت المقدس میں مقیم عرب باشندوں کے تمام تعلیمی ،ثقافتی اور شہری حقوق میں رکاوٹ نہ بنے، دوسری قرارداد میں بیت المقدس کے تاریخی حلیے کی تبدیلی اور شہر کو یہودی منانے کی کوشش کرنے پر اسرائیل کی مذمت کی گئی۔ 2003ءمیں اسرائیل کی بیت المقدس میں غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مخالف اقدامات کی بناء پر یونیسکو حرکت میں آتے ہوئے بیت المقدس کیلئے اپنی ایک ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے جو بیت المقدس کے حالات پر رپورٹ تیار کرسکے۔ 2005ء اور 2006ء کے درمیان یونیسکو فیصلہ کرتا ہے کہ بیت المقدس اُن عالمی ورثوں میں فہرست شامل کرے جن کو خطرات لاحق ہیں۔

2007ء کو عالمی یونیسکو اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بیت المقدس میں دہائیوں سے جاری کھدائی کے کام پر ایک جامع رپورٹ پیش کرے۔ (واضح رہے کہ ان کھدائیوں سے مسجد اقصیٰ کے گرنے کا خدشہ ہے)

2016ءکو یونیسکو میں ایک ایسی قرارداد منظور ہوئی جس نے اسرائیلیوں اور امریکیوں کو آگ بگولہ کردیا قرارداد میں بیت المقدس ،مسجد اقصیٰ اور دیوار براق کا یہوديت کسی بھی قسم کے تعلق کو مسترد کردیا گیا اور انہیں خالص اسلامی ورثہ قراردیا۔

2017ءمیں یونیسکو نے ایک قرارداد کے ذریعے بیت المقدس کے حوالے سے اپنی تمام سابقہ قراردادوں کی تاکید کرتے ہوئے اسرائیل کو بیت المقدس پر قابض ٹھہرایا و بیت المقدس پر اسرائیلیقبضے کو نامنظور قراردیا۔

اسرائیل کیخلاف یونیسکو کی قراردادوں کی فہرست بلاشبہ امریکیوں کیلئے ایک بہترین بہانہ ہے کہ وہ اس ادارے کو خیرباد کہے تاکہ اس ادارے پردبائو ڈالاجاسکے کہ وہ اپنے ان قراردادوں کو واپس خاص طور پر کہ امریکہ یونیسکو کو سالانہ 80ملین ڈالر بطور فنڈ فراہم کرتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یونیسکو امریکی دبائو کے آگے گھٹنے ٹیکتا ہے کہ نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

الوداع‘ چین کو الوداع

(محمد اسلم خان….چوپال) ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے چین کے کبھی جارحانہ اور توسیع پسندانہ ...