جمعرات , 23 نومبر 2017

بحرینی ولی عہد کا فلسطین کے حوالے سے انوکھا نظریہ

(تسنیم خیالیؔ)
کچھ عرصہ قبل بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ایک عرب اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے فلسطین کے حوالے سے آل خلیفہ کا انوکھا نظریہ پیش کرتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ آل خلیفہ کس قدر یہودیوں کے نزدیک ہے اور انہیں کس قدر ’’پیار‘‘عزت اور احترام کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ علاوہ ازیں بحرینی ولی عہد کے جواب سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عرب ممالک کے حکمران بالخصوص خلیجی ممالک کے کس قدر فلسطین اور فلسطینیوں کے مسائل کو فراموش کرگئے ہیں۔ بحرینی ولی عہد فرماتے ہیں ۔ہمارے پاس فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے تنازع کا حل ہے اور یہودیوں کو (اسرائیل کی سر زمین )پر الٰہی حق حاصل ہے۔سلمان بن حمد کا مزید کہنا ہے کہ ہم فلسطینیوں کیلئے مصنوعی جزیرہ بنانے کیلئے تیار ہیں جہاں فلسطینی آکر آباد ہوسکتے ہیں، جو فلسطینیوں کیلئے ایک نئے ملک کا مترادف ہوگا۔

موصوف مزید کہتے ہیں کہ ’’اسرائیلیوں کو اس سر زمین (فلسطین )پر الٰہی حق حاصل ہے ،لہٰذا ہمیں ہمارے فلسطینی بھائیوں کا بدوبست کرنا ہوگا۔‘‘

بحرینی ولی عہد کی مذکورہ باتوں سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بحرین کے نزدیک مقبوضہ فلسطین کی سر زمین میں فلسطینیوں کی نہیں ہے بلکہ اسرائیلیوں کی اور فلسطینیوں کو وہاں سے جانا ہوگا۔

بحرین ولی عہد کے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ بحرینی فلسطینیوں کے مقابلے میں اسرائیلیوں کی حمایت کرتا ہے اور اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنیکی دلی خواہش رکھتاہے۔

اتنی بے حسی اور کم ظرفی پر اُتر آنا وہ بھی فلسطین کے معاملے پر تکلیف دہ ضرور ہے مگر حیران کن نھی کیونکہ اس وقت بحرین ایک ایسے حکمران خاندان کے قبضے میں ہے جو برملا بغیر کسی پرواہ کے اسرائیل کے ساتھ سیاسی ، عسکری اور اقتصادی تعلقات استوار کرناچاھتا ہے اور عنقریب ہوسکتا ہے کہ بحرین وہ پہلا خلیجی ملک ہوجسکے اسرائیل کے ساتھ گہرے سفارتی تعلقات قائم ہوجائیں اور متوقع ہے کہ بحرین کے بعد دیگر خلیجی ریاست بھی ایسا کریں۔

یہ بھی دیکھیں

الوداع‘ چین کو الوداع

(محمد اسلم خان….چوپال) ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے چین کے کبھی جارحانہ اور توسیع پسندانہ ...