پیر , 26 اگست 2019

فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے ظالمانہ فیصلوں میں شدت

palastine

نابلس (مانیٹرنگ رپورٹ)صیہونی حکومت مختلف طریقوں سے فلسطینی قیدیوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رہنے کی زمین ہموار کر رہی ہے اور طرح طرح کے بہانوں سے فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرنے سے اجتناب کر رہی ہے۔ صیہونی حکومت کے جملہ انسانیت دشمن اقدامات میں بغیر کسی مقدمے اور فرد جرم کے فلسطینیوں کی عارضی گرفتاری ہے کہ جو انسانی حقوق کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور فلسطینی قیدی کسی جرم اور کسی چارج شیٹ کے بغیر صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فلسطینی قیدیوں کے تحقیقاتی مرکز نے مختلف بہانوں سے دوہزار سولہ میں اسرائیلی قیدیوں کی گرفتاری میں اضافے کی خبر دی ہے- فلسطینی قیدیوں کے تحقیقاتی مرکز نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت نے رواں سال میں فلسطینی قیدیوں کی عارضی گرفتاری کا سلسلہ تیز اور اس کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس قانونی ادارے نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے رواں سال کے آغاز سے اب تک چارسو چھبیس فلسطینیوں کی عارضی گرفتاری کا حکم صادر کیا ہے۔ صیہونی حکومت فلسطینیوں کو کچلنے اور دبانے کے لئے مختلف اقدامات کرتی رہتی ہے ان میں سے ایک انھیں حراست میں لینا ہے ۔ درحقیقت فلسطینی عوام کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھنا صیہونی حکام کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے سلسلے میں صیہونی حکومت کی کارکردگی اس بات کی عکاس ہے کہ یہ غاصب حکومت فلسطینیوں کے خلاف کسی طرح کے جرم سے دریغ نہیں کرتی اور ان کے اندر خوف و وحشت پیدا کرنے کے لئے ان کی زیادہ تعداد کو گرفتار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ فلسطینی قیدیوں کو طویل مدت سزا دلانے کے لئے صیہونی حکومت کے اقدامات میں تیزی ، اور فرد جرم عائد کئے بغیر انھیں زیرحراست رکھنے جیسے قیدیوں سے متعلق اس کے انسانیت سوز قوانین کی مدت میں توسیع کا اسی تناظر میں جائزہ لینا چاہئے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ابھی کچھ ہی دنوں قبل صیہونی حکومت کی کابینہ نے ایک اور نسل پرستانہ قانون کی مدت میں توسیع کردی ہے جو ایک عرصے سے فلسطینی قیدیوں کے خلاف نافذ تھا- اس قانون کی بنیاد پر جسے صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ پہلے ہی منظور کر چکی ہے ، فلسطینی قیدیوں کو جیل سے عدالت کے سامنے پیشی کے بغیر ہی اسرائیلی عدالتیں ، ان کی حراست کو غیر معینہ مدت تک بڑھا سکتی ہیں۔ صیہونی حکومت نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف جرائم میں شدت لانے اور فلسطینیوں کے سلسلے میں جنیوا کنونشن سمیت دوسرے بین الاقوامی کنونشنوں پر عمل درآمد سے بچنے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں سے فلسطینی قیدیوں پر جنگی قیدی کا اطلاق نہ ہونے دے۔ صیہونی حکومت ، فلسطینی قیدیوں کو ایسے مجرموں کے عنوان سے پیش کرتی ہے کہ جو غاصب صیہونی حکومت کے قوانین اور سیکورٹی کو نظرانداز کرتے ہیں تاکہ یہ حکومت جس طرح چاہے فلسطینیوں کے خلاف تشدد آمیز اور نسل پرستانہ رویہ اختیار کرے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی حکومت ، فلسطینی قیدیوں سمیت فلسطینی عوام کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے باوجود تمام مغربی حکومتوں کی حمایت کی حامل ہے اور یہ مغربی حکومتوں کی جانب سے صیہونی حکومت کو انسانی حقوق ، اخلاقی اصولوں اور اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کی خلاف ورزی کے لئے ہری جھنڈی دیے جانے کے مترادف ہے- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1667ءسے اب تک فلسطینی قیدیوں کے بارے میں ایک سوستاسی قراردادیں جاری کر کے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیدیوں کوآزاد کرے ان کے ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کرے لیکن صیہونی حکومت نے ان قراردادوں پر کبھی بھی توجہ نہیں دی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران یک طرفہ طور پر ایٹمی معاہدے کی پابندی کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا، صدر حسن روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت حسن روحانی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی …