پیر , 26 اگست 2019

عرب ممالک، مغربی ملکوں کے ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار

arab country purchase american wepons

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) عرب ممالک ، مغربی ممالک کے ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار تیل کی قیمت میں کمی اور خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی میں کمی کے باوجود یہ ممالک بدستور ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔کویتی ذرائع ابلاغ نے کویت کے وزیردفاع شیخ خالد جراح کے حالیہ دورہ اٹلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دورے میں دونوں ملکوں نے دسیوں ملین ڈالر مالیت کے اٹھائیس "یورو فائٹر ٹائیفن ” لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے پر دستخط کئے ۔ان لڑاکا طیاروں کی خریداری کے بعد کویت اس طرح کے جنگی طیارے رکھنے والا دنیا کا آٹھواں اور مشرق وسطی کا تیسرا ملک بن جائے گا-کویت کی پارلیمنٹ نےمارچ کے مہینے میں بجٹ کو پانچ سو تیئیس ملین ڈالر تک بڑھا کر اس ملک کی وزارت دفاع کے لئے ٹائیفن جنگی طیارے خریدنے کی زمین ہموار کر دی تھی۔خلیج فارس کے عرب ممالک عالمی منڈیوں بالخصوص مغربی ممالک کے تیار کردہ ہتھیار اور جنگی ساز و سامان خریدنے والے اصلی ملک شمار ہوتے ہیں اور یہی امر حالیہ برسوں میں علاقے بالخصوص عراق ، شام اور یمن میں جنگ کی آگ بھڑکنے کا باعث بنا ہے۔کویت کی جانب سے ٹائیفن جنگی طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کے بعد اسٹاک ہوم میں امن کے عالمی تحقیقاتی ادارے نے منگل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دوہزار پندرہ میں ہتھیاروں کے پانچ بڑے خریداروں کے ناموں کا اعلان کیا جس میں سعودی عرب ، 87ارب ڈالر کے اسلحے خرید کرگذشتہ برس دنیا میں فوجی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ کرنے والے ملک بن جانے کے ساتھ ہی عسکری شعبے میں سب سے زیادہ اخراجات والے ملکوں میں تیسرے نمبر پرآگیا۔مغربی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق گذشتہ ایک سال میں امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے سیاسی و فوجی حکام نے خلیج فارس کے ممالک کا پے در پے دورہ کر کے انواع و اقسام کے لڑاکا طیاروں ، ٹینکوں اور میزائلوں کی فروخت کے لئے علاقے کے ممالک کے ساتھ ساٹھ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔مغربی ممالک کی کویت اور سعودی عرب جیسے خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ہتھیار بیچنے کی کوشش اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ رقابت سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب، بنیادی طور پرعرب ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت کو ان ملکوں میں جمہوریت کے قیام پر ترجیح دیتا ہے اور خدشہ اس بات کا ہے کہ ان ہتھیاروں کا ایک حصہ علاقے کے عوام کو کچلنے اور دبانے کے لئے استعمال کیا جائے گا –۔ان حالات میں ماہرین کا خیال ہے کہ علاقے کے عرب ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری مغرب کے بحرانی اقتصاد کی نجات اور ہتھیاروں کے کارٹل کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا ایک راستہ ہے کیونکہ جنوبی خلیج فارس کے عرب ممالک تیل سے ہونے والی موٹی کمائی کے ذریعے مغربی ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔علاقے کے عرب ممالک کے ہتھیارخریدنے کے بڑے بڑے معاہدے ایسی حالت میں ہو رہے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ان ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے قائم ہیں بلکہ ابھی تک کسی بھی ملک نے انھیں دھمکی نہیں دی ہے اور یہی بات دنیا کے سیاسی وفوجی تجزیہ کاروں کی حیرت کا سبب ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ظلم و تشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کا پہلا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی برادری آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد …