جمعرات , 23 نومبر 2017

ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیاں اور ٹرمپیاں

(تحریر:ابو حمزہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کی ایک بھیانک تصویر کھینچنے کی ناکام کوشش کی ہےاور اایران کو ایک ایسے ملک کے طور پر پورٹریٹ کرنا چاہا ہے کہ جوامریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہر موڑ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران کے حوالے سے اپنی نئی اسٹریٹیجک پالیسی کے اعلان کے موقع پر کہا کہ انہیں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے معاہدے میں ایران کی جانب سے عمل درآمد پر یقین نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر معاہدے کو تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی نئی حکمت عملی نافذ العمل ہونے جا رہی ہے جس کا آغاز پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے اور اس پر پابندیاں عائد کرنے سے کیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ہم اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایران کی ’تباہ کن‘ سرگرمیوں کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے ہم ایران پر مزید پابندیاں لگائیں گے، ایران کے میزائل پروگرام کے مسئلے سے نمٹتے ہوئے پڑوسی ممالک کو لاحق خطرات کا سد باب کریں گے اور ایران کو کسی قیمت پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایران کے خلاف اس سخت گیر رویے کا اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ یہ کسی حد تک اوباما کی پالیسی سے مختلف ہے؟ اور اس کے کیا ممنکہ نتائج نکل سکتے ہیں؟

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی ٹرمپ کی طرف سے سختی سے مخالفت کو دیکھتے ہوئے جو چیز قابل حیرت ہے وہ یہ کہ امریکہ اس معاہدے سے نکل نہیں رہا۔ امریکہ کا صدر بڑی آسانی سے ایران کے خلاف جوہری پابندیاں بحال کرسکتا تھا اور اس کے لیے انھیں کیپیٹل ہل یا پارلیمان سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اس کے باوجود انھوں نے جوہری معاہدے کو کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔وہ واضح طور پر یہ چاہ رہے ہیں اور کانگریس کے سرکردہ رہنما پہلے سے ہی امریکی قوانین میں ایسی ترامیم پر کام کر رہے ہیں جن کے بعد ایران ان ترامیم میں متعین کردہ کوئی بھی اقدام کرے گا تو خود بخود اس پر پابندیاں لاگو ہو جائیں گی۔

اس قسم کا تاثر بھی موجود ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس اس معاہدے کے تحت چند پابندیاں جن کے اٹھائے جانے کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے اور جن کو اس معاہدے کے تحت ’سن سیٹ‘ شقوں کا نام دیا گیا انھیں بے معنی بنا دیا جائے ان اقدامات سے مشروط کر دیا جن کے اٹھاتے ہیں ایران پر خودبخود پابندیاں عائد ہو جائیں۔

اگر امریکی قوانین میں ان ترامیم پر اتفاق ہو گیا تو کیا صورت پیدا ہو گی؟لیکن یہ عمل کتنا غیر معمولی ہوگا اس کو نوٹ کیے جانے کی ضرورت ہے۔دراصل اندرونی یا ملکی قوانین کے سہارے یہ ایک کثیرالملکی معاہدے کو بدلنے کی کوشش ہو گی۔اس راستے میں سفارتی مشکلات آئیں گی۔ اس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن کی ماسکو اور بیجنگ سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید براں عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھنے لگے گا کہ جب بات بین الاقوامی معاہدات کی ہو گی تو واشنگٹن کی زبان پر کس حد تک اعتبار کیا جا سکتا ہے۔شمالی کوریا کو اس سے کیا سبق ملے گا جس کو امریکہ کے اپنے وزیر خارجہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی افادیت کے بارے میں بھی کوئی خوش کن تصویر پیش نہیں کی اور ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ اور پابندیاں ایسے وقت اٹھائی گئیں جب ایران کی حکومت دھڑام سے زمین پر آنے والی تھی۔
کچھ لوگ ہی اس بات کو تسلیم کریں گے۔ جبکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ایک ایسے وقت ہوا تھا جب اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کا خطرہ شدت اختیار کر گیا تھا اور اس جنگ میں امریکہ یقیناً اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اس معاہدے سے اس جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور ایران کے جوہری پروگرام بھی معطل ہو گیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کی "ایران اسٹراٹیجی "کی بنیاد جھوٹے اور کھوکھلے الزامات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس مرتبہ پوری دنیا اور خاص طور پر امریکی ٹرمپ کے مضحکہ خیز الزامات پر حیران ہیں کہ سعودی بادشاہت اور نسل پرست صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی محبت میں ٹرمپ نے القاعدہ اور طالبان کو بھی ایران کے کھاتے میں ڈال دیا اور کینیا و تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر القاعدہ کے حملہ آوروں کو تربیت فراہم کرنے کا الزام بھی ایران کے سر منڈھ دیا۔ یعنی اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی! لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کی ’’ایران اسٹراٹیجی‘‘ درحقیقت امریکی عوام کے مفاد میں ہرگز تیار نہیں کی گئی بلکہ صرف امریکی سامراج کے دو لاڈلوں کی خواہشات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ورنہ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ القاعدہ کا بانی اسامہ بن لادن اور اس کا پورا خاندان خاص طور پر اسکا والد اور بڑا بھائی سالم بن لادن، یعنی یہ تینوں بہت ہی زیادہ سعودی بادشاہت کے منظور نظر تھے اور انکی مستحکم مالی حالت اور اسامہ بن لادن کو افغانستان کا ٹھیکہ دینے میں سعودی بادشاہت ہی پیش پیش تھی۔ حقیقت کے متلاشی باضمیر خواہشمندوں کو اس ضمن میں حقیقت کی چند جھلکیاں امریکی صحافی اسٹیو کول کی تصنیف ’’دی بن لادنز ‘‘ میں بھی مل جائیں گی۔

ٹرمپ نے ایران پر بے بنیاد الزامات لگا تو دیئے ہیں لیکن ان جھوٹے الزامات سے انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ میں اس وقت ایک جاہل اور جھوٹا شخص صدارت کے عہدے پر فائز ہے، جس کو اتنا بھی علم نہیں کہ امریکی ریاست کی افغانستان پالیسی کے تحت ہی امریکی فیصلہ ساز شخصیات اور اداروں نے ایسے غلط اقدامات انجام دیئے، جس کی سزا پوری دنیا آج تک بھگت رہی ہے اور دنیا کا ہر باشعور و باضمیر انسان جانتا ہے کہ طالبان و القاعدہ سمیت تکفیری دہشت گردی کی ایجاد میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا قائدانہ کردار رہا ہے۔ ٹرمپ دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی اس ایران حکمت عملی کے ذریعے غیرت مند و انقلابی ایرانی ملت کو گمراہ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان