جمعرات , 23 نومبر 2017

امریکہ کو مطلوبہ خاتون فلسطین مجاہدہ احلام التیمی کی زندگی کی مختصر داستان

حلام التیمی ایک فلسطین دوشیزہ ہیں جو فلسطین مزاحمتی تنظیم حماس کی عسکری ونگ’’القام بریگیڈ‘‘کی پہلی خاتون رکن بنیں، احلام 2001ء میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئیںاور 2011ء کو انہیں قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں ہونیوالی ایک ڈیل کے تحت آزاد کیا گیا تھا۔ اس امریکہ دہشت گردی کے الزام اردن سے احلام کی حوالکی کا مطالبہ کررہا ہے۔

تاریخ پیدائش: 20اکتوبر 1980ء
جائے پیدائش: الزرقا شہر ،اُردن
تعلق : احلام کا تعلق ایک فلسطینی گھرانے سے ہے جن کا تعلق فلسطین رام اللہ سے ہے۔ یہ گھرانہ اردن ،ہجرت کرگیا تھا اور اردنی شہریت حاصل کرلی تھی۔ 90کی دہائی میں احلام اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ارد ن سے رام اللہ کے ویزٹ پر مقبوضہ فلسطین میں داخل ہوئیں۔

تعلیم : احلام نے میڈیا اور سیاسیات کی تعلیم فلسطین میں واقع ’’بیزریٹ‘‘یونیورسٹی سے حاصل کی۔

عملی زندگی:
احلام نے ابتداء میں ’’پرنڈ‘‘ ميڈيا کے شعبے سے منسلک ہو کر فلسطین اتھاڑتی کے زیر نگرانی شائع ہونیوالا رسالہ ’’میلاد‘‘میں کام کیا۔ اس کے بعد احلام نے لوکی ٹی وی چینل ’’الاستقلال‘‘میں کام کیا جہاں ان کے میزبانی میں ایک پروگرام شائع ہوا کرتا تھا۔

2000ء کے ’’فلسطینی انتفاضہ‘‘میں احلام نے اسرائیلیوں کے خلاف جدوجہد کی راہ اختیار کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تنظیم ’’حماس‘‘کے عسکری ونگ’’القسام بریگیڈ‘‘میں شمولیت اختیار کی ،وہ القسام بریگیڈ میں شامل ہونیوالی پہلی خاتون ہیں۔

غاصب صیہونیوں کے خلاف مزاحمت میں احلام نے اپنی پیشہ وارانہ صحافتی صلاحیتوں کا بخوبی استعمال کیا اور انگلش زبان بولنے مہارت رکھنے پر انٹرویو کے بہانے اچلام مقبوضہ بیت المقدس کے اندر آسانی سے آیا جاتا کرتی تھیں۔

احلام نے 9اگست 2001ء کو بیت المقدس میں ایک اسرائیلی ہوٹل پر ہونیوالی فلسطین مزاحمتی حملے کی قیادت کی تھی، اس حملے میں 15اسرائیلی مارے گئے تھے۔

14ستمبر2001ء میں احلام کو ان کے آبائی علاقے سے صیہونی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔احلام نے اسرائیلی جیلوں میں اپنی زندگی کے 10سال گزارے، اُن کےخلاف اسرائیلی عدالتوں نے 16مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

البتہ اسرائیل نے 18اکتوبر 2011ء میں احلام کو حماس کیساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ایک ڈیل کے تحت آزاد کرکے انہیں ارد ن کے حوالے کیا، اس ڈیل میں احلام کے منگیتر (اور بعد میں شوہر)نزاد کو بھی رہا کیا گیا تھا۔ نزاد 1993ء سے اسرائیل کے جیل میں قید تھے اور اُن کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

14مارچ 2017ء میں امریکی وزارت انصاف نے ادرنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ احلام کو امریکہ کے حوالے کرے، جس کے بعد امریکی (FBI)نے احلام کو اپنی مطلوبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔ کیونکہ 2001ء میں اسرائیل ہوٹل پر ہونیوالے حملے میں مارے جانیوالوں میں 2امریکی شہری بھی شامل تھے۔

اردن کی حکومت نے احلام کی حوالگی کے حوالے سے امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے تا حال احلام کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا ہے احلام کو اگرامریکہ کے حوالے کیا گیا تو ان کو عمر قید کی سزا کا فوری امکان ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ابوبکر البغدادی کہاں ہوسکتا ہے؟ بعض فرضیے اور امکانات

(تسنیم خیالی) عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کا خاتمہ قریب ہو چکا ...