جمعرات , 23 نومبر 2017

مجتہد کے بن سلمان اور آل سعود کے حوالے سے نئے انکشافات

(تسنیم خیالیؔ)
مشہور سعودی ٹوئیٹر صارف مجتہد نے حال ہی میں آل سعود اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حوالے سے نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بن سلمان چند روز قبل سعودی شاہی محل پر ہونیوالے حملے میں زخمی نہیں ہوئے جیسا کہ کہا جارہا تھا ،البتہ حملے کے وقت محل میں موجود تھے اور واقعے کو نزدیک سے دیکھا اور اس واقعے کے بعد بن سلمان اب شاہی محل کو ایک محفوظ جگہ نہیں سمجھتے۔

مجتہد کا مزید کہنا تھا کہ بن سلمان اس واقعے سے قبل بھی پریشان اور خوفزدہ رہتے تھے اور اب اس واقعے کے بعد ان کی پریشانی اور خوف میں اضافہ ہوگیا ہے،نیز بن سلمان اس کاروائی میں آل سعود خاندان کے بعض افراد کو ملوث سمجھتے ہیں۔

مجتہد نے بن سلمان کے خوف و ہراس کی کیفیت کی وجوہات کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ایک حصہ مجتہد نے بن سلمان کو وجہ ٹھہرایا اوردوسرے حصے میں مجتہد نے آل سعود خاندان کے افراد اور بن سلمان کے درمیان ہونیوالے اختلافات کو ٹھہرایا۔

مجتہدکا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں بن سلمان کے سلوک ،سوچ اور حرکتوں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو ان کے دماغ اور نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے اور انہیں مضطرب کردیا،اب تبدیلیوں کی وجہ سے بن سلمان اپنی خود اعتمادی اور جرأت کھوبیٹھے ہيں نیز بن سلمان دیگر شخصیات سے ملنے اور فیصلے کرنے سے بھی قاصر رہ گئے ہيں مجتہد مزید کہتے ہیں کہ آل سعود خاندان کے افراد میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی نے بن سلمان پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔اس آل سعود خاندان کا 95فیصد بن سلمان کا مخالف ہے جبکہ شروعات میں ایسا نہیں تھا، بیشتر خاندان کا حصہ بن سلمان سے راضی تھا یا پھر اس معاملے میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ مگر محمد بن نایف کی ولایت عہدی سے معزولی کے بعد آل سعود خاندان کے افراد کو ہوش آیا کہ حکمران خاندان بن سلمان کی وجہ سے خطرے میں ہے۔

آل سعود شہزادوں کے نزدیک اگر معاملات ایسے ہی رہیں تو انہیں صرف مقررہ خرچہ ملے گا اور وہ پرتعیش زندگی سے محروم ہوجائینگے اور اس بات نے بھی سعودی شہزادوں کو آگ بگولہ کردیا تھا اور وہ یہ کہ خاندان سے باہر بن سلمان کے ساتھی سعودی شہزادوں سے زیادہ مضبوط ہورہے تھے اور ملک میں ان کا اثر و رسوخ شہزادوں سے زیادہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔

علاوہ ازیں بن نایف اہم عہدوں پر فائز سعودی آفیسرز ،متعدد سعودی شہزادوں کی گرفتاری اور قید نے آل سعود خاندان کے افراد کو عدم اطمینان اور خوف میں مبتلا کردیا جس کی وجہ سے آل سعود خاندان کے افراد بن سلمان کیخلاف کھڑے ہوگئے۔

اقتصادی بحران ،یمن جنگ اور قطر کے بائیکاٹ کے معاملات آل سعود خاندان کو اس خوف میں مبتلا کردیا ہے کہ کہیں ان معاملات سے آل سعود ملک میں اپنی حکمرانی نہ کھوبیٹھے کیونکہ بن سلمان کی تمام پالیسیوں کی وجہ سے ملک مسلح انقلاب برپا کرسکتا ہے۔

مجتہد کے مطابق ان تمام صورت حال کی وجہ سے بن سلمان خاندان کا ایک اہم موضوع بن چکے ہیں اور خاندان میں اکثر اس کے خلاف انقلاب کی باتیں کی جاتی ہیں، بیشتر کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کو سونپ دی جائے اور بہت سے شہزادے شہزادہ متعب بن عبداللہ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ نیشنل گارڈ کی کمانڈ نہ چھوڑیں کیونکہ اس طرح بن سلمان فوج کے تمام حصوں پر قابض ہوجائیگا۔

علاوہ ازیں مجتہد کے مطابق بن سلمان کو خاندان کے افراد کے حوالے سے ان کے جاسوسوں نے بتایا کہ احمد بن عبدالعزیز نے شاہ سلمان سے اکیلے میں ملاقات کی تھی اور دونوں ملاقتوں کے بعد احمد غصے میں نکلے تھے گویا وہ کچھ کرنے کی تھام کرنکلے ہوں۔

علاوہ ازیں بن سلمان کواپنے جاسوسوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خاندان کے بہت سے افراد نے ان کی شکایت لیکر شاہ سلمان کے پاس گئے تھے اور ولی عہد پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

ان تمام باتوں نے بن سلمان کے مزاج کو بدل کر رکھ دیا ہے اب وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں اور اپنا زیادہ تروقت بحیرہ احمر پر اپنے پاٹ میں گزارتے ہیں تبھی وہ روس کے دورے سے واپس آنیوالے اپنے والد شاہ سلمان کے استقبال کیلئے موجود نہ تھے اور نا ہی مجلس وزراءکے اجلاس میں شرکت کی اور ناہی امیر کویت کے استقبال کیلئے موجود تھے۔

یہ بھی دیکھیں

الوداع‘ چین کو الوداع

(محمد اسلم خان….چوپال) ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے چین کے کبھی جارحانہ اور توسیع پسندانہ ...