جمعرات , 23 نومبر 2017

روہنگیا کے معاملے میں اب امریکیوں کو بھی ہوش آگیا

(تسنیم خیالی)
میانمار میں کئی عرصے سے مسلم اقلیت ’’روہنگیا‘‘کے خلاف مظالم اور بدترین نسل کشی ہورہی ہے جبکہ انسانیت اور جمہوریت کے سب سے بڑے علمدار امریکہ اس معاملے پر عرصہ دراز سے خاموشی اختیار کررہا ہے،مگر حال میں امریکہ کی کچھ انسانیت جاگ گئی ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ امریکہ روہنگیا مسلمانوں کیساتھ ہونے والے مظالم پر میانماری حکام کو سزا دینے جارہا ہے۔

اس ضمن میں امریکی ایوانوں میں 40ارکان نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار متعدد فوجی عہدیداران پر پابندیاں عائد کی جائیں یہی نہیں بلکہ پابندیاں میانمار کی اُن سیاسی شخصیات پر عائد کی جائیں جو روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم میں فوج کی شریک ہے۔

امریکی ایوان زیرین میں موجود ڈیموریٹک اور ریپبلکن ارکان نے یکساں امریکی وزیر خارجہ رکس ٹیلرسن سے میانمار فوج کیخلاف ’’ایکشن‘‘لینے کو کہا۔امریکہ میں میانماری فوج اور سیاست دانوں کیخلاف اٹھنے والی یہ آواز خوش آئندہ تو ضرور ہے مگر یہ آواز بلاشبہ کافی دیر بعد اُٹھی ہے۔

امریکیوں کی آوازیں عالم طور پر ظالموں کیخلاف کم اور مظلوموں اور مظلوموں کے مددگاروں کیخلاف بہت جلد اٹھتی ہیں۔ مثال کے طور پر حزب اللہ ،ایرانی پاسداران انقلاب ،حماس الحشر الشعبی (عراقی رضاکار فورس)اور شامی فوج ۔

جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔ امریکیوں کے نزدیک یہ تنظیمیں دہشت گرد ہیں اور ان پر پابندی عائد کرنی چاہیے ۔جبکہ امریکہ دہائیوں سے میانمار میں رہائش پذیر روہنگیا کے خلاف ہونیوالی فوجی اور ریاستی دہشت گردی پر خاموش ہے۔

پھر سے بات کرتے ہیں امریکی ارکان پارلمنٹ کی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میانمار فوج اور عہديداروں پر پابندی عائد کرے یہ پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ہی عائد کی جاسکتیں ہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے انتہائی نفرت کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرمپ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پابندیاں عائد کرینگے یا نہیں۔

اگرٹرمپ پابندیاں عائد کرتے ہیں تو یہ خوش آئند ہوگا اور اگر نہیں کرتے تو یہ اقدام غیر متوقع نہیں ہوگا کیونکہ آخر میں میانمار کے فوجی روہنگیا مسلمانوں کے قتل میں اسرائیلی ہتھیار استعمال کررہے اور اسرائیل دوست ٹرمپ اسرائیل کے اس موت کے کاروبار کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔

یہ بھی دیکھیں

الوداع‘ چین کو الوداع

(محمد اسلم خان….چوپال) ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے چین کے کبھی جارحانہ اور توسیع پسندانہ ...