جمعرات , 23 نومبر 2017

رقہ داعش سے آزاد تو ہو گیا مگر؟؟؟

(تسنیم خیالیؔ)
چند روز قبل شامی شہر رقہ اور دہشت گرد تنظیم داعش کی نام نہاد اسلامی خلافت کا دارالحکومت سمجھا جانیوالا شہر داعش سے آزاد کرالیا گیا۔ رقہ کو داعش سے آزاد کرانیوالے شامی فوجی نہیں اور ناہی شام کے اتحادی روس، ایران اور حزب اللہ ہیں۔رقبہ کو داعش سے آزادی شامی کردی فورس (سیرین ڈیموکریٹک آرمی )نے امریکی مدد سے آزاد کیا اور اب شہر پر امریکی کنٹرول کررہے ہیں۔

رقہ اب شام میں امریکی سازشوں کاگڑھ بن چکا ہے جس کے بعد اب شام میں نیا مرحلہ شروع ہوگیا رقہ میں بیٹھے امریکی اب شام، شام کی عوام اور شام کی حکومت کے مشکلات میں اضافہ کرنے جارہی ہے۔ایک طرف امریکہ داعش سمیت شام میں سرگرم تمام دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہاھے اس لئے رقہ کی داعش سے آزادی امریکہ نے انہیں وہاں سے منتقل کرتے ہوئے شام کے کسی اور حصے میں چھوڑ دیا تاکہ آگے جاکے اُن سے کام لیا جاسکے علاوہ ازیں امریکہ نے رقہ کو کردوں سے آزاد کروایا تاکہ کردی علاقے میں مضبوط ہوں اورعلیحدہ ہو کر اپنی الگ ریاست قائم کرے جسکی وجہ سے ترکی اور ایران کے کردی بھی اپنے حکومتوں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں عراقی کردوں کی بات کی جائے تو وہ پہلے سے عراقی حکومت کی ناک میں دم کر رکھے ہیں۔

امریکہ نے رقہ کا کنٹرول داعش سے حاصل کرکے علاقے میں ایک نیا فساد چھیڑنے جارہا ہے جو صرف شام کیلئے بلکہ علاقے کے تمام ممالک کیلئے مشکلات کھڑی کردیگا۔

لہٰذا یہ کہنا بے جا نہیں کہ رقہ آزادنہیں ہوا وہ تو صرف داعش کے قبضے سے نکل کر داعش کو بنانے والے کے قبضے میں چلا گیا ہے اور رقہ جس قدر تکلیف میں تھی اب امریکیوں کے آنے کے بعد اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

الوداع‘ چین کو الوداع

(محمد اسلم خان….چوپال) ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے چین کے کبھی جارحانہ اور توسیع پسندانہ ...