جمعرات , 23 نومبر 2017

افغانستان میں حملے: داعش کہاں ختم ہوئی؟!

افغانستان کے دارالحکومت کابل اور وسطی صوبے غور کی دو مساجد پر دہشت گرد حملوں میں ساٹھ سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت کئے گئے ہیں جب امریکہ نے پاک افغان سرحد ی علاقوں میں ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے جن میں مبینہ طور پر تمام دہشت گرد گروہوں کو بلا تخصیص نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج صبح ہی افغان صوبہ پکتیا میں ایک ڈرون حملہ میں 12 افراد ہلاک کئے گئے تھے۔ آج ہی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر ذخیل وال سے ملاقات میں کل قندھار کے ایک فوجی اڈے پر دہشت گرد حملہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افغان سفیر کو یقین دلایا تھا کہ دونوں ممالک مل کر شدت پسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔ قندھار میں ہونے والے حملہ میں 50 افغان فوجی جاں بحق ہوئے تھے۔ پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھیا ہے لیکن اب مل کر ان کا مقابلہ کیا جائے گا۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران افغانستان کے علاوہ پاکستان میں متعد حملے ہوئے ہیں۔

کابل میں آج نماز جمعہ کے وقت ایک حملہ آور نے ایک شیعہ مسجد میں پہلے فائرنگ کرکے نمازیوں کو ہلاک کیا پھر بم دھماکے سے خود کو اڑا لیا۔ اس حملے میں اب تک50افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے لیکن زخمیوں کی تعداد کے پیش نظر اس تعداد میں اضافہ کا امکان ہے۔ جمعہ ہی کے موقع پر وسطی صوبہ غور میں ایک سنی مسجد پر بھی حملہ کیا گیا جس میں اب تک دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک اعلیٰ پولیس افسر کو ہلاک کرنے کے لئے کیا گیا تھا جو اس وقت مسجد میں موجود تھے اور حملہ آور کا نشانہ بن گئے۔ افغانستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں بھی دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ امریکی حکومت افغانستان میں بحالی امن کے لئے سخت اقدامات کرنے کا اعلان کررہی ہے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں میں اضافہ بھی اسی نئی امریکی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان سے تعاون اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو منظم کرنے کی بات چیت کرنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن آئیندہ ہفتے کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

افغانستان میں آج ہونے والے دونوں حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی حمایت یافتہ سیرین لبریشن آرمی نے شام میں داعش کے دارالحکومت رقہ پر قبضہ حاصل کیا تھا اور داعش کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد ان حملوں میں ہلاک ہو گئی تھی۔ داعش کے اہم قائد فی الوقت فرار ہیں اور داعش کو شکست دینے والی فورسز کے ہاتھ نہیں لگ سکے۔ اس سے قبل عراق کے شہر موصل سے داعش کے جنگجوؤں کو مار بھگایا گیا تھا۔ ان کامیابیوں کے باوجود داعش دوسرے ملکوں میں ٹھکانے بنانے اور ہمدرد پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ ان میں افغانستان بھی ایک اہم ملک ہے۔ داعش نے افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے تاہم پاکستان میں پاک فوج کی مسلسل کارروائی کی وجہ سے داعش کے بیشتر ٹھکانے ختم کردئیے گئے ہیں اور اس کے ہمدردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن داعش افغانستان میں مضبوط ہو رہی ہے ۔ پاکستان نے بھی اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آج ہونے والے دونوں حملوں نے پاکستان کے اندیشوں کو تقویت دی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے علاوہ القاعدہ اور داعش موجود ہیں۔ ان سب میں داعش سب سے زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ یہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر مسلمانوں کو ہلاک کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ یہ صورت حال ایک واضح حکمت عملی کا تقاضہ کرتی ہے۔ جس کے تحت غیر ملکی فوجوں کے خلاف سرگرم عمل طالبان عناصر کو سیاسی دھارے میں لاکر باقی دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کرنا اہم ہے۔ شام میں داعش کے ٹھکانے ختم ہونے کے بعد افغانستان میں داعش کی قوت اور سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے پالیسی سازوں کو اس صورت حال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اس کے ساتھ مل کر اس سنگین خطرہ سے نمٹنے کی کوشش کرنا ہوگی۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان