جمعرات , 23 نومبر 2017

فلسطینی ابلاغی اداروں پر یلغار۔۔ صہیونی ریاست کا تاریک چہرہ بے نقاب

صہیونی ریاست جہاں ایک طرف دنیا کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے انبار لگا رہی ہے تو دوسری طرف اس کے خوف کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے خلاف ایک لفظ سے بھی خوف زدہ ہے۔ صہیونی ریاست کے درو بام میں چھپے اس خوف کا اظہار مختلف مواقع پر ہوتا ہے۔ حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں قابض فوج نے مقامی میڈیا پروڈکشن ہاؤس کے خلاف ایک نئی مہم شروع کی اور ابلاغی اداروں پر ڈاکہ زنی کرتے ہوئے نصف درجن سے زاید ابلاغی اور اشاعتی ادارے سیل کردیے۔

فلسطین میں ابلاغی، اشاعتی اور نشریاتی اداروں کے خلاف مکروہ یلغار صہیونی ریاست کے’ احمق‘ ہی کرسکتے ہیں۔ گذشتہ بدھ کو غرب اردن کے 8 ابلاغی اداروں، ٹی وی چینلوں اور میڈیا پروڈکشن ہاؤسز پر بولے جانے والے دھاوے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صہیونی ریاست میڈیا کی آزادی سے سخت خوف کا شکار ہے۔

اسرائیلی یلغار کی زمانی اہمیت
فلسطینی مبصرین یہ استفسار کرتے ہیں کہ آیا اسرائیل کو ایسی کیا مشکل پیش آئی کہ اس نے ایک ہی ھلے میں غرب اردن میں نشریاتی اور اشاعتی خدمات انجام دینے والے 8 ادارے سیل کردیے۔ یہ آٹھ ادارے فلسطین اور بیرون ملک ایک درجن ٹی وی چینلوں کو خدمات فراہم کررہے تھے۔

فلسطینی صحافی اور تجزیہ نگار محمد اللحام نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قابض فوج نے جس بے ظالمانہ طریقے سے میڈیا ہاؤسز پریلغار کرکے ان کی تالا بندی، ان میں توڑپھوڑ اور عملے کو زدو کوب کیا ہےاس سے صہیونی دشمن کا بغض، حسد، خوف اور غیرمسبوق نسل پرستی کی عکاسی ہوتی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی فلسطینی میڈیا ہاؤسز کی بندش کی ایک زمانی اہمیت ہے۔ وہ یہ کہ فلسطین میں حال ہی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور فتح کے درمیان گیارہ سالہ انتشار کے بعد صلح کا تاریخی معاہدہ طے پایا ہے۔ بند کیے گئے تمام فلسطینی ادارے فلسطینیوں میں مصالحت کی ترویج میں سرگرم تھے۔ ان اداروں کی جانب سے فلسطینی مفاہمت اور فلسطین میں قومی حکومت کے قیام کی مساعی کی بھرپور حمایت کی گئی تھی۔ یہ یلغار ایک ایسے وقت میں کی گئی جب اسرائیلی کابینہ نے اپنے ایک حالیہ اجلاس میں روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک غزہ کی پٹی کی مزاحمتی تنظیمیں ہتھیار نہیں پھینکیں گی فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں جتنے ابلاغی ادارے بند کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر کسی نا کسی طرح حماس یا اسلامی جہاد کے ساتھ قربت رکھتے ہیں۔ بعض ایران اور کچھ آزاد ٹی وی چینل ہیں۔ ان تمام میڈیا اداروں کی جانب سے فلسطینیوں میں مصالحت کو ایک جشن کے طور پرمنایا مگر صہیونیوں کو فلسطینی قوم کی خوشیاں کیسے گوارا ہوسکتی ہیں۔

نسل پرستانہ قذاقی
القدس ٹی وی چینل کے نامہ نگار اکرم النتشہ کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں میڈیا ہاؤسز کے خلاف صہیونی ریاست کی یلغار باعث حیرت نہیں۔ اسرائیل ایک نسل پرست ریاست ہے جس نے اپنا مکروہ اورتاریک چہرہ دنیا سے چھپانے کے لیے نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

ایک نسل پرست ریاست کو سب سے بڑا خطرہ کسی فوج سے نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ سے ہوتا ہے جو قدم قدم پر اس کی نسل پرستی کے پردے چاک کرتا اور اسے دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے۔ سنہ 1967ء کے بعد صہیونی ریاست کی نسل پرستی کی شدت میں اس لیے بھی اضافہ ہوا کہ اس نام نہاد ریاست نے قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی ریاست فلسطین میں پیشہ وارانہ طریقے سے ابلاغ کی خدمات انجام دینے والے اداروں کو اپنے لیے پیغام موت سمجھتی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست اندر سے مکمل طور پر کھوکھلی ہے جب کہ فلسطین کے ابلاغی اداروں کا ایک ایک اقدام فلسطینی قوم کو مضبوط اور صہیونی ریاست کی گرتی دیواروں کے لیے دھکا ثابت ہو رہا ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار ھانی ابو سباع کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں آٹھ میڈیا اداروں کی بندش سے اسرائیل نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ غرب اردن میں عملا فوجی عمل داری فلسطینی اتھارٹی کی نہیں بلکہ صہیونی ریاست کی ہے۔ چاہے حماس اور فتح کے درمیان ایک معاہدہہ طے پایا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں غرب اردن میں سیکیورٹی کا انتظام کے انتظام و انصرام سے محروم ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے ابو سباع نے کہا کہ صہیونی فوج نے دراصل اسرائیلی وزیر بینیٹ کے اس بیان پر عمل درآمد کیا ہے جس میں اس نے فلسطینیوں میں مصالحت کے بعد غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ فلسطینی قوم کی آزادی کے حق کو سلب کرنے والی صہیونی ریاست نے نام نہاد الزامات کے تحت فلسطین کے ابلاغی اداروں پر ایک نئی یلغار مسلط کی ہے۔

مقامی فلسطینی شہریوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ قابض فوج نے غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں 30 فوجی گاڑیوں کے ساتھ میڈیا پروڈکشن کمپنیوں کے دفاتر پر دھاوے بولے۔ دفاتر میں گھس کر عملے کو زدو کوب کیا، توڑپھوڑ کی اور بعد ازاں گن پوائنٹ پر ان اداروں کو چھ ماہ کے لیے سیل کرنے کے نوٹس چسپا کردیے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائے ادرعے نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "اسرائیلی فوج اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں میڈیا اور پروڈکشن سے تعلق رکھنے والی 8 فلسطینی کمپنیوں پر چھاپہ مارا گیا جن پر شبہ تھا کہ وہ دہشت گردی پر اکسانے اور اس کو سراہنے کے حوالے سے مواد نشر اور ارسال کر رہی ہیں”۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق قابض فوج نے الخلیل، رام اللہ، بیت لحم اور نابلس میں ٹرانسمیڈیا، پال میڈیا، رامساٹ، فلسطین الیوم ٹی وی چینل، الاقصیٰ چینل، المنار، شیا ٹوڈے، القدس، المیادین اور کئی دوسرے اداروں کے مراکز بھی سیل کردیے۔

دوسری جانب فلسطینی حکومت کے سرکار نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "قابض افواج نے فلسطینی شہروں میں ان میڈیا دفاتر کے پر دھاوے بول کر تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں”۔

مذکورہ کمپنیاں کئی غیر ملکی ، عربی اور فلسطینی سیٹلائٹ چینلوں کو میڈیا سروسز فراہم کرتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے الخلیل، بیت لحم، رام اللہ اور نابلس میں ان کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپوں کے وڈیو کلپ بھی پوسٹ کیے ہیں۔ کمپنیوں کی بندش کے دوران متعدد فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔بشکریہ مرکز اطلاعات

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان