جمعرات , 23 نومبر 2017

زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے

(حیدر جاوید سید)
صحافت کے کوچے میں چار عشروں سے کچھ سال اوپر ہوتے ہیں اس طالب علم کو اس دوران سینکڑوں ہزاروں لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں ادیب ، شاعر ، سیاستدان ، سیاسی کارکن ، دانشمند ، وفاق پرست ، قوم پرست ، مذہبی قائدین اور فنکار بھی شامل ہیں ۔ بہت سارے لوگوں سے اس دوران ذاتی مراسم بنے ۔ ان خواتین و حضرات سے تفصیلی نشستیں ہوئیں کچھ کم گو تھے اور کچھ بے تکان بولتے چلے جانے والے ، البتہ سب میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ غیر رسمی باتیں شائع نہ ہونے پائیں ۔ صد شکر کہ ان مہربانوں کے اعتماد کا بھرم رہا ۔ سیاستدانوں میں جن شخصیات سے صحافت کے طالب علم کے طورپر ملاقاتیں رہیں ۔ ان میں جناب محمد اجمل خٹک ، خان عبدالولی خان ، مرشد جی ایم سید ، سردارشیر باز مزاری ، سید قسور گردیزی ، میر علی احمد تالپور ، تاج محمد لنگاہ ، نوابزادہ نصراللہ خان ، محمود علی قصور ، مولانا فضل الرحمن ، امام اہلسنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی ، علامہ عبدالستار خان نیازی ، علامہ سید عارف حسین الحسینی ، غلام حیدروائیں ، ملک محمد قاسم اور دیگر بہت سارے لوگ شامل ہیں ۔ جی ایم سید ، عبدالولی خان ، سید علی احمد تالپوراور نوابزادہ نصراللہ خان اور شیر باز مزاری سے انٹر ویوکیلئے پیشگی تیاری کرنا پڑتی تھی۔ یہ صاحبان ، سیاستدان تو تھے صاحب مطالعہ بھی تھے۔ پیر صاحب پگاڑا شریف (سید شاہ مردان علی شاہ ) تو مطالعے کے ایسے رسیا تھے کہ کتابوں پر فٹ نوٹ لکھتے تھے ۔ مولانا فضل الرحمن سے لاکھ اختلاف کیجئے لیکن انہیں گفتگو کا فن آتا ہے ۔ جناب نورانی میاں گفتگو کرتے تو علم کے موتی لٹاتے چلے جاتے ۔ زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔ اسی دور کے سیاستدانوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو ، کمال اظفر ، مولانا کوثر نیازی ، ان لوگوں میں شامل تھے کہ پہلی ملاقات میں اپنا گرویدہ کر لیئے ۔ بی بی بے نظیر بھٹو کا مطالعہ بہت وسیع تھا ۔ جناب محمد حنیف راسے ، ادیب تھے ۔ صوفی ، سیاستدان ان سب سے بڑھ کر وہ اعلیٰ درجہ کے آرٹسٹ تھے ۔ بہت ساری کتابوں کے ٹائٹل انہوں نے خود بنائے ۔ مصور ایسے کہ تصویربولنے لگے ۔ اہل علم میں شوکت صدیقی ۔ سیدسبط حسن ، ظہیر کاشمیری ، حسن رضا گردیزی ، فیض احمد فیض ، احمد فراز خاطر غزنوی ، محسن احسان ، سندھی ادیب نسیم کھرل ، منظر نقوی ، ناصر علی سید ، سرائیکی شاعر ، ممتاز حیدر واہر ، عزیز شاہد ، پروفیسر جمال نقوی ، احمد رضا کلاچی ، میر چاکر خان بلوچ ، اہل صحافت میں حمید اختر ، فضل ادیب منہاج برنا ، نثار عثمانی ، سید حمید اختر ، سید عالی رضوی ، عزیز مظہر ،ولی محمد واجد ،ناصر زیدی ، ناصر نقوی ، ہمارے سابق سوشلسٹ اور حاضر لبرل مرشدی سید امتیاز عالم گیلانی سمیت ایک طویل فہرست ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں ، باہمت سیاسی کارکنوں کی عارف محمود قریشی ، عزیز نیازی ، محمد اقبال ڈار ، اور سید جانباز ، جان عالم ، آدمی کس کو یاد کرے اور کسے بھولے ۔

پہلی صدی کی آخری تین دہائیوں اور رواں صدی کی پہلی دہائی میں کیسے کیسے نا بغۂ عصر دنیا سے کوچ کر گئے ۔ مولانا فضل الرحمن مروجہ سیاست کو پیارے ہوئے ۔ اب علم و ادب کے میدانوں کی طرف دیکھتے ہوئے آسمان پر سجے چہرے کہتے ہیں ۔ ہم ساہو تو سامنے لائو”۔ایک بار مرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی کے انٹرویو کے لئے جتوئی ہائوس کراچی میں طویل نشست ہوئی وہ پارٹی سے الگ ہو کر نیشنل پیپلز پارٹی بناچکے تھے ۔ کرید کرید کر سوال کئے کچھ تلخ سوال بھی تھے ، سندھ کی روایتی وافاداری سے گندے سیاستدان کا جواب تھا ۔ ” پیپلز پارٹی سے الگ ہو اہوں ۔ بے نظیر بھٹو میرے دوست ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی اور میرا فخر ہیں ۔ اختلاف رائے انسانوں میں ہوتے ہیں ۔ سفید بالوں کے ساتھ مروجہ سیاست کے طور اپنانا میرے لئے بہت مشکل ہے ۔ ایک ایسی ہی نشست میں مرشد جی ایم سید سے دریافت کیا ۔ اب آپ کی تحریروں پر الحاد کی چھاپ گہری ہوتی جارہی ہے دوسری طرف” بزم صوفیا ئے سندھ” ہے ۔ سید مسکرائے اور محبت سے بولے جسے لوگ الحاد کہتے ہیں وہ اصل میں جستجو ہے ۔ جستجو مرنے کے ساتھ ختم ہوتی ہے ” شوکت صدیقی صاحب سے دریافت کیا تھا لکھنو سے اُٹھ کراچی آنے سے۔ جانگلوس ناول سرائیکی کے سماجی پس منظر میں ہے ۔ کیسے نبھائے پائے ؟ ۔ رسان سے جواب دیا ۔ مطالعے اور مشاہدے نے مدد کی ، آدمی کام کرنے کی ٹھان لے تو ناممکن کچھ نہیں ۔ غالب لائبریری میں جلوہ افروز سید سبط حسن سے عرض کیا ۔ مرشد ، آدمی اپنے اصل سے کیوں نہیں بچھڑ پاتا ؟ ۔ کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے بولے صاحبزادے اصل سے بچھڑ ے لوگ ارتقا کی بجائے پستی میں جاگرتے ہیں ۔ کبھی سردار شیر باز خان مزاری سے سوال کیا تھا ۔ این ڈی پی تو قوم پرستوں اور سوشلسٹوں کا منصوبہ تھی آپ تو دونوں نہ تھے ؟ ۔ کہا میں سمجھتا ہوں کہ ایک صاف ستھر ا جمہوری معاشرہ اور نظام اپنی حدود میں بسنے والوں کے مقصد کی حفاظت کر سکتا ہے ۔ ہم سب اس وقت تک مل کر چلے جب تک ایک نے خود کو دوسرے سے برتر مخلوق نہیں سمجھا ۔ جس دن برتری کے جنون نے سماں باندھا راستے الگ ہوگئے ۔ کیا شاندار لوگ تھے ۔ جو آج دستیاب ہیں ان پر تو اُن کی چھینٹ تک نہیں پڑی ۔ پیر صاحب پگاڑا مرحوم کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ انہیں کسی نے نسبی رشتے سے مدد کے لئے خط لکھا تو تاخیر کے بغیر مددکی ۔ اس مدد کے لئے انہوں نے پوار نظام وضع کر رکھا تھا ۔ علی احمد تالپور ، شیر باز مزاری اور پیر پگاڑا کی ذاتی لائبریریاں مرشد جی ایم سید کی لائبریری کی طرح شاندار تھیں ۔ ان دنوں دستیاب سیاست دان (زیادہ تو سیاست کا رہیں )تو روز انہ کے اخبارات نہیں پڑھتے ۔ چند ہی ہوں گے جنہیں مطالعے کا شوق ہوگا ورنہ اکثرتو صرف اپنے بیان پڑھتے ہیں ۔ چارسوا چار عشروں پر پھیلے صحافت کے کوچے میں اپنے قیام کے دنوں میں کبھی کبھی سوچتا ہوں علم و دانش سے بانجھ ہوتے سماج کا مستقبل کیا ہوگا ۔پھر یا د آتا ہے ۔ نفس کے سرکش گھوڑے پر سواری کی بجائے نفس کے غلاموں کا ہجوم ہے ایسے میں علم و دانش کس بھائو بکتی ہے ۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان